حدیث کتب › بلوغ المرام ›
حدیث نمبر: 238
وعن عائشة رضي الله عنها قالت : رأيت رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم يصلي متربعا .رواه النسائي وصححه ابن خزيمة.ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی
´سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا روایت کرتی ہیں کہ` میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو چار زانووں پر بیٹھ کر نماز ادا فرماتے دیکھا ہے ۔ نسائی نے اسے روایت کیا ہے اور ابن خزیمہ نے اسے صحیح قرار دیا ہے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ صفی الرحمن مبارکپوری
´نماز کی صفت کا بیان`
«. . . وعن عائشة رضي الله عنها قالت: رأيت رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم يصلي متربعا .رواه النسائي وصححه ابن خزيمة. . . .»
”. . . سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا روایت کرتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو چار زانووں پر بیٹھ کر نماز ادا فرماتے دیکھا ہے۔ نسائی نے اسے روایت کیا ہے اور ابن خزیمہ نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔ . . .“ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/باب صفة الصلاة: 238]
«. . . وعن عائشة رضي الله عنها قالت: رأيت رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم يصلي متربعا .رواه النسائي وصححه ابن خزيمة. . . .»
”. . . سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا روایت کرتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو چار زانووں پر بیٹھ کر نماز ادا فرماتے دیکھا ہے۔ نسائی نے اسے روایت کیا ہے اور ابن خزیمہ نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔ . . .“ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/باب صفة الصلاة: 238]
لغوی تشریح:
«مُتَرَبِّعًا» «تَرَبُّع» سے ماخوذ ہے۔ تربع یہ ہے کہ دائیں پاؤں کے نچلے حصے کو اپنی بائیں ران کے نیچے کرلینا اور بائیں قدم کا باطنی حصہ دائیں ران کے نیچے کر لینا، پھر پورے اطمینان اور سکون کے ساتھ دونوں ہتھیلیاں اپنے گھٹنوں پر اس طرح رکھنا کہ انگلیاں کھلی ہوئی ہوں، جس طرح حالت رکوع میں کھلی ہوتی ہیں۔ [سبل السلام]
فائدہ:
مذکورہ روایت کو ہمارے فاضل محقق نے سنداً ضعیف قرار دیا ہے جبکہ شیخ البانی رحمہ اللہ صحیح ابن خزیمہ کی تحقیق میں اس کی بابت لکھتے ہیں کہ اس کی سند صحیح ہے۔ دیکھیے: [صحيح ابن خزيمة: 89/2] بنابریں عذر اور بیماری کی حالت میں اس طرح بیٹھ کر نماز ادا کرنا صحیح ہے جیسا کہ بعض علماء مذکورہ حدیث کی بابت لکھتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم گھوڑے سے گر پڑے تھے، اس وجہ سے آپ نے اس طرح بیٹھ کر نماز ادا کی، لہٰذا مذکورہ روایت سے معلوم ہوا کہ عذر اور بیماری کی حالت میں اس طرح بیٹھ کر نماز ادا کرنا جائز اور مباح ہے۔ «والله اعلم»
«مُتَرَبِّعًا» «تَرَبُّع» سے ماخوذ ہے۔ تربع یہ ہے کہ دائیں پاؤں کے نچلے حصے کو اپنی بائیں ران کے نیچے کرلینا اور بائیں قدم کا باطنی حصہ دائیں ران کے نیچے کر لینا، پھر پورے اطمینان اور سکون کے ساتھ دونوں ہتھیلیاں اپنے گھٹنوں پر اس طرح رکھنا کہ انگلیاں کھلی ہوئی ہوں، جس طرح حالت رکوع میں کھلی ہوتی ہیں۔ [سبل السلام]
فائدہ:
مذکورہ روایت کو ہمارے فاضل محقق نے سنداً ضعیف قرار دیا ہے جبکہ شیخ البانی رحمہ اللہ صحیح ابن خزیمہ کی تحقیق میں اس کی بابت لکھتے ہیں کہ اس کی سند صحیح ہے۔ دیکھیے: [صحيح ابن خزيمة: 89/2] بنابریں عذر اور بیماری کی حالت میں اس طرح بیٹھ کر نماز ادا کرنا صحیح ہے جیسا کہ بعض علماء مذکورہ حدیث کی بابت لکھتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم گھوڑے سے گر پڑے تھے، اس وجہ سے آپ نے اس طرح بیٹھ کر نماز ادا کی، لہٰذا مذکورہ روایت سے معلوم ہوا کہ عذر اور بیماری کی حالت میں اس طرح بیٹھ کر نماز ادا کرنا جائز اور مباح ہے۔ «والله اعلم»
درج بالا اقتباس بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 238 سے ماخوذ ہے۔