حدیث کتب › بلوغ المرام ›
حدیث نمبر: 237
وعن وائل بن حجر رضي الله عنه أن النبي صلى الله عليه وآله وسلم : كان إذا ركع فرج بين أصابعه وإذا سجد ضم أصابعه . رواه الحاكم.ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی
´سیدنا وائل بن حجر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب رکوع میں ہوتے تو اپنی ( ہاتھوں کی ) انگلیاں کھلی رکھتے اور جب سجدے میں ہوتے تو اپنی ( ہاتھوں کی ) انگلیاں باہم ملا لیا کرتے تھے ۔ ( مستدرک حاکم )
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ صفی الرحمن مبارکپوری
´نماز کی صفت کا بیان`
«. . . وعن وائل بن حجر رضي الله عنه أن النبي صلى الله عليه وآله وسلم: كان إذا ركع فرج بين أصابعه وإذا سجد ضم أصابعه . رواه الحاكم. . . .»
”. . . سیدنا وائل بن حجر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب رکوع میں ہوتے تو اپنی (ہاتھوں کی) انگلیاں کھلی رکھتے اور جب سجدے میں ہوتے تو اپنی (ہاتھوں کی) انگلیاں باہم ملا لیا کرتے تھے۔ (مستدرک حاکم) . . .“ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/باب صفة الصلاة: 237]
«. . . وعن وائل بن حجر رضي الله عنه أن النبي صلى الله عليه وآله وسلم: كان إذا ركع فرج بين أصابعه وإذا سجد ضم أصابعه . رواه الحاكم. . . .»
”. . . سیدنا وائل بن حجر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب رکوع میں ہوتے تو اپنی (ہاتھوں کی) انگلیاں کھلی رکھتے اور جب سجدے میں ہوتے تو اپنی (ہاتھوں کی) انگلیاں باہم ملا لیا کرتے تھے۔ (مستدرک حاکم) . . .“ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/باب صفة الصلاة: 237]
لغوی تشریح:
«ضَمَّ أَصَابِعَهُ» اپنی انگلیاں باہم ملا لیتے، یعنی اس طرح اپنی انگلیاں اکٹھی کر کے ایک دوسرے سے ملاتے کہ ان کا رخ قبلہ کی طرف ہو جاتا۔
فائدہ:
مذکورہ روایت کو ہمارے فاضل محقق نے سنداً ضعیف قرار دیا ہے جبکہ دیگر کتب احادیث میں اس کے شواہد موجود ہیں جو کہ صحیح ہیں، مثلاً: سنن ابی داود میں سیدنا ابوحمید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب رکوع کرتے تو اپنی ہتھیلیوں سے اپنے گھٹنوں کو پکڑ لیتے اور اپنی انگلیوں کو کھول لیتے۔ دیکھئے: [سنن ابي داود، الصلاة، حديث 731]
اسی طرح سنن الکبری بیہقی میں بھی اس مسئلے کی تائید میں ایک روایت صحیح سند سے مروی ہے۔ دیکھئے: [84/2، 85] اور اسی طرح سجدے کی حالت میں انگلیوں کو باہم ملانے اور انہیں قبلہ رو کرنے کا بھی ذکر ملتا ہے۔ دیکھیے: [المستدرك للحاكم: 227/1، والسنن الكبريٰ للبيهقي: 112/2]
لہٰذا مذکورہ روایت سنداً ضعیف ہونے کے باوجود دیگر شواہد کی بنا پر قابل حجت ہے۔ بنابریں اس حدیث سے معلوم ہوا کہ رکوع کی حالت میں انگلیوں کو کھلا رکھنا ہی مسنون ہے، نیز حالت سجدہ میں انگلیوں کا باہم ملانا اس لیے ہے کہ انگلیوں کا رخ قبلے کی طرف ہو جائے۔
«ضَمَّ أَصَابِعَهُ» اپنی انگلیاں باہم ملا لیتے، یعنی اس طرح اپنی انگلیاں اکٹھی کر کے ایک دوسرے سے ملاتے کہ ان کا رخ قبلہ کی طرف ہو جاتا۔
فائدہ:
مذکورہ روایت کو ہمارے فاضل محقق نے سنداً ضعیف قرار دیا ہے جبکہ دیگر کتب احادیث میں اس کے شواہد موجود ہیں جو کہ صحیح ہیں، مثلاً: سنن ابی داود میں سیدنا ابوحمید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب رکوع کرتے تو اپنی ہتھیلیوں سے اپنے گھٹنوں کو پکڑ لیتے اور اپنی انگلیوں کو کھول لیتے۔ دیکھئے: [سنن ابي داود، الصلاة، حديث 731]
اسی طرح سنن الکبری بیہقی میں بھی اس مسئلے کی تائید میں ایک روایت صحیح سند سے مروی ہے۔ دیکھئے: [84/2، 85] اور اسی طرح سجدے کی حالت میں انگلیوں کو باہم ملانے اور انہیں قبلہ رو کرنے کا بھی ذکر ملتا ہے۔ دیکھیے: [المستدرك للحاكم: 227/1، والسنن الكبريٰ للبيهقي: 112/2]
لہٰذا مذکورہ روایت سنداً ضعیف ہونے کے باوجود دیگر شواہد کی بنا پر قابل حجت ہے۔ بنابریں اس حدیث سے معلوم ہوا کہ رکوع کی حالت میں انگلیوں کو کھلا رکھنا ہی مسنون ہے، نیز حالت سجدہ میں انگلیوں کا باہم ملانا اس لیے ہے کہ انگلیوں کا رخ قبلے کی طرف ہو جائے۔
درج بالا اقتباس بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 237 سے ماخوذ ہے۔