حدیث کتب › بلوغ المرام ›
حدیث نمبر: 204
وعنها : أن وليدة سوداء كان لها خباء في المسجد فكانت تأتيني فتحدث عندي . . الحديث. متفق عليهترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی
´سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا ہی سے مروی ہے کہ` ’’ ایک سیاہ رنگ لڑکی کا خیمہ مسجد میں تھا وہ میرے پاس باتیں کرنے کے لئے آیا کرتی تھی ۔ “ ( بخاری و مسلم )
حوالہ حدیث بلوغ المرام / حدیث: 204
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح البخاري: 439
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ صفی الرحمن مبارکپوری
´مساجد کا بیان`
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا ہی سے مروی ہے کہ ’’ ایک سیاہ رنگ لڑکی کا خیمہ مسجد میں تھا وہ میرے پاس باتیں کرنے کے لئے آیا کرتی تھی۔ “ (بخاری و مسلم) [بلوغ المرام/حدیث: 204]
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا ہی سے مروی ہے کہ ’’ ایک سیاہ رنگ لڑکی کا خیمہ مسجد میں تھا وہ میرے پاس باتیں کرنے کے لئے آیا کرتی تھی۔ “ (بخاری و مسلم) [بلوغ المرام/حدیث: 204]
204 لغوی تشریح:
«وَلِيدَةً» لونڈی۔
«خِبَاءٌ» ”خاء“ کے نیچے کسرہ اور ”باء“ مخفف ہے۔ خیمہ کے معنی میں استعمال ہوا ہے۔
«فَتَحَدَّثُ» اصل میں «تَتَحَدَّثُ» تھا۔ «تَتَكَلَّمُ» کے معنی میں ہے یعنی بات چیت کرنے، گفتگو کرنے کے لیے آتی تھی۔ حدیث سے ثابت ہوا کہ عورت بھی مسجد میں رات بسر کر سکتی ہے بشرطیکہ کسی فتنہ و فساد کا خطرہ نہ ہو اور اس کے لیے مسجد میں خیمہ بھی قائم کیا جا سکتا ہے۔ یہ ایک لمبی حدیث کا ٹکڑا ہے۔ پوری حدیث صحیح بخاری میں ہے۔
«وَلِيدَةً» لونڈی۔
«خِبَاءٌ» ”خاء“ کے نیچے کسرہ اور ”باء“ مخفف ہے۔ خیمہ کے معنی میں استعمال ہوا ہے۔
«فَتَحَدَّثُ» اصل میں «تَتَحَدَّثُ» تھا۔ «تَتَكَلَّمُ» کے معنی میں ہے یعنی بات چیت کرنے، گفتگو کرنے کے لیے آتی تھی۔ حدیث سے ثابت ہوا کہ عورت بھی مسجد میں رات بسر کر سکتی ہے بشرطیکہ کسی فتنہ و فساد کا خطرہ نہ ہو اور اس کے لیے مسجد میں خیمہ بھی قائم کیا جا سکتا ہے۔ یہ ایک لمبی حدیث کا ٹکڑا ہے۔ پوری حدیث صحیح بخاری میں ہے۔
درج بالا اقتباس بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 204 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 439 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
439. حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ عرب کے کسی قبیلے کے پاس ایک سیاہ فام باندی تھی جسے انھوں نے آزاد کر دیا مگر وہ ان کے ساتھ ہی رہا کرتی تھی۔ اس کا بیان ہے کہ ایک دفعہ اس قبیلے کی کوئی بچی باہر نکلی، اس پر سرخ تسموں کا ایک کمربند تھا جسے اس نے اتار کر رکھ دیا یا وہ ازخود گر گیا۔ ایک چیل ادھر سے گزری تو اس نے اسے گوشت خیال کیا اور جھپٹ کر لے گئی۔ وہ کہتی ہے کہ اہل قبیلہ نے کمربند تلاش کیا مگر نہ ملا تو انھوں نے مجھ پر چوری کا الزام لگا دیا اور میری تلاشی لینے لگے یہاں تک کہ انھوں نے میری شرمگاہ کو بھی نہ چھوڑا۔ وہ کہتی ہیں: اللہ کی قسم! میں ان کے پاس ہی کھڑی تھی کہ اتنے میں وہی چیل آئی اور اس نے وہ کمر بند پھینک دیا تو وہ ان کے درمیان آ گرا۔ میں نے کہا: تم اس کی چوری کا الزام مجھ پر لگاتے تھے، حالانکہ میں اس سے بری تھی، لو اب اپنا۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔)[صحيح بخاري، حديث نمبر:439]
حدیث حاشیہ:
1۔
امام بخاری ؒ نے یکے بعد دیگرے دوباب قائم کیے ہیں
مسجد میں عورت کا سونا
مسجدمیں مرد کا سونا۔
اس سے مقصود جواز کا بیان ہے، جیسا کہ روایات سے معلوم ہوتا ہے، لیکن امام بخاری ؒ نے’’عورت کے سونے ‘‘ کومقدم کیا، کیونکہ عورت محل فتنہ ہے، اس لیے بعض آئمہ کرام کے ہاں مطلق طور پر عورت کا مسجد میں سونا ممنوع ہے، اگرچہ وہ بوڑھی ہی کیوں نہ ہو، جیسا کہ امام مالک ؒ سے منقول ہے اس وہم کے پیش نظر اسے مقدم کر کے جواز کو واضح فرمایا۔
اور یہ اجازت کسی ہنگامی ضرورت کی وجہ سے ہے شاہ ولی اللہ محدث دہلوی ؒ فرماتے ہیں: ’’عورت کا مسجد میں سونا جائز ہے، اگرچہ اسے حیض آنے کا احتمال ہو، لیکن جب اسے حیض آجائے تو مسجد سے باہر چلی جائے۔
اس سے پہلے اس کا مسجد میں سونا حرام نہیں۔
‘‘ (شرح تراجم بخاری:)
2۔
حافظ ابن حجرؒ نے اس حدیث سے مندرجہ ذیل مسائل کا استنباط کیا ہے: مسلمانوں میں سے جس مرد یا عورت کا کوئی ٹھکانا نہ ہو وہ مسجد میں پڑاؤ کر سکتا ہے، بشرطیکہ وہاں کوئی خوف اور خطرہ نہ ہو
مسجد میں خیمہ یا سایہ کرنے کے لیے کسی اور چیز کا انتظام کیا جا سکتا ہے۔
جس ملک میں کسی کو اخلاقی یا دینی گراوٹ کا اندیشہ ہو وہاں سے دوسرے ملک میں منتقل ہونا جائز ہے۔
دارالکفر سے ہجرت کرنے کی فضیلت کا پتہ چلتا ہے۔
مظلوم کی دعا ضرور قبول ہوتی ہے، خواہ وہ کافر ہی کیوں نہ ہو۔
(فتح الباری: 692/1)
3۔
واضح رہے کہ اس نو مسلمہ لونڈی کا خیمہ مسجد نبوی کے شمالی حصے میں لگوایا گیا تھا جس کا ایک حصہ اصحاب صفہ کے لیے مخصوص تھا جو تحویل قبلہ کے بعد مسجد کے صحن کے طور پر استعمال ہوتا تھا زیادہ سے زیادہ اس قسم کے واقعات کو رخصت کے درجے میں رکھا جاسکتا ہے۔
واللہ أعلم۔
1۔
امام بخاری ؒ نے یکے بعد دیگرے دوباب قائم کیے ہیں
مسجد میں عورت کا سونا
مسجدمیں مرد کا سونا۔
اس سے مقصود جواز کا بیان ہے، جیسا کہ روایات سے معلوم ہوتا ہے، لیکن امام بخاری ؒ نے’’عورت کے سونے ‘‘ کومقدم کیا، کیونکہ عورت محل فتنہ ہے، اس لیے بعض آئمہ کرام کے ہاں مطلق طور پر عورت کا مسجد میں سونا ممنوع ہے، اگرچہ وہ بوڑھی ہی کیوں نہ ہو، جیسا کہ امام مالک ؒ سے منقول ہے اس وہم کے پیش نظر اسے مقدم کر کے جواز کو واضح فرمایا۔
اور یہ اجازت کسی ہنگامی ضرورت کی وجہ سے ہے شاہ ولی اللہ محدث دہلوی ؒ فرماتے ہیں: ’’عورت کا مسجد میں سونا جائز ہے، اگرچہ اسے حیض آنے کا احتمال ہو، لیکن جب اسے حیض آجائے تو مسجد سے باہر چلی جائے۔
اس سے پہلے اس کا مسجد میں سونا حرام نہیں۔
‘‘ (شرح تراجم بخاری:)
2۔
حافظ ابن حجرؒ نے اس حدیث سے مندرجہ ذیل مسائل کا استنباط کیا ہے: مسلمانوں میں سے جس مرد یا عورت کا کوئی ٹھکانا نہ ہو وہ مسجد میں پڑاؤ کر سکتا ہے، بشرطیکہ وہاں کوئی خوف اور خطرہ نہ ہو
مسجد میں خیمہ یا سایہ کرنے کے لیے کسی اور چیز کا انتظام کیا جا سکتا ہے۔
جس ملک میں کسی کو اخلاقی یا دینی گراوٹ کا اندیشہ ہو وہاں سے دوسرے ملک میں منتقل ہونا جائز ہے۔
دارالکفر سے ہجرت کرنے کی فضیلت کا پتہ چلتا ہے۔
مظلوم کی دعا ضرور قبول ہوتی ہے، خواہ وہ کافر ہی کیوں نہ ہو۔
(فتح الباری: 692/1)
3۔
واضح رہے کہ اس نو مسلمہ لونڈی کا خیمہ مسجد نبوی کے شمالی حصے میں لگوایا گیا تھا جس کا ایک حصہ اصحاب صفہ کے لیے مخصوص تھا جو تحویل قبلہ کے بعد مسجد کے صحن کے طور پر استعمال ہوتا تھا زیادہ سے زیادہ اس قسم کے واقعات کو رخصت کے درجے میں رکھا جاسکتا ہے۔
واللہ أعلم۔
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 439 سے ماخوذ ہے۔