مرکزی مواد پر جائیں
19 شعبان، 1447 ہجری
حدیث نمبر: 195
عن عائشة رضي الله عنها قالت : أمر رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم ببناء المساجد في الدور ،‏‏‏‏ وأن تنظف وتطيب. رواه أحمد وأبو داود والترمذي ،‏‏‏‏ وصحح إرساله.
ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی

´سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا روایت کرتی ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے گھروں میں جائے نماز متعین کرنے اور ان کو صاف ستھرا رکھنے کا حکم دیا تھا ۔
اسے احمد ، ابوداؤد اور ترمذی نے روایت کیا ہے اور ترمذی نے اس کے مرسل ہونے کو صحیح قرار دیا ہے ۔

حوالہ حدیث بلوغ المرام / حدیث: 195
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ترمذي: 594 | سنن ابي داود: 455 | سنن ابن ماجه: 758 | سنن ابن ماجه: 759

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ صفی الرحمن مبارکپوری
´مسجد اور نماز پڑھنے کی جگہوں کو صاف ستھرا اور پاکیزہ رکھنا چاہیے`
«. . . عن عائشة رضي الله عنها قالت: امر رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم ببناء المساجد في الدور،‏‏‏‏ وان تنظف وتطيب . . .»
. . . سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا روایت کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے گھروں میں جائے نماز متعین کرنے اور ان کو صاف ستھرا رکھنے کا حکم دیا تھا . . . [بلوغ المرام/كتاب الصلاة: 195]
لغوی تشریح:
«بَابُ الْمَسَاجِد» مساجد، مسجد کی جمع ہے۔ مسجد کی جیم کے نیچے کسرہ ہے جس کے معنی ہیں: وہ جگہ جسے نماز پڑھنے کے لیے مخصوص کر لیا گیا ہو، اور جیم پر فتحہ بھی جائز ہے۔ اس صورت میں اس کے معنی مطلق سجدہ کرنے کی جگہ کے ہوں گے، یعنی سجدہ کرنے کی کوئی بھی جگہ۔
«فِي الدُّورِ» دور، دار کی جمع ہے جس کے معنی گھر کے ہیں، اور اس سے مراد محلہ یا قبیلہ ہے، اس لیے کہ محلے اور قبیلے میں بہت سے گھر ہوتے ہیں، یا گھر میں نماز پڑھنے کی جگہ مراد ہے۔ پہلے معنی زیادہ عمدہ اور قریب الفہم ہیں۔
«وَأَنْ تُنَظَّف» «تَنْظِيف» سے ماخوذ صیغہ مجہول ہے، گندگیوں اور ناپاکیوں سے صاف کیا جائے۔
«وَتُطَيَّبَ» «تَطَيُّب» سے ماخوذ صیغہ مجہول ہے، یعنی اس میں خوشبو وغیرہ لگائی جائے۔
فوائد و مسائل:
➊ مسجد اور نماز پڑھنے کی جگہوں کو صاف ستھرا اور پاکیزہ رکھنا چاہیے اور ان میں خوشبو لگانی چاہیے۔
➋ اس حدیث میں دور سے مراد محلے ہیں۔ محلوں میں چھوٹی چھوٹی مسجدیں ضرور ہونی چاہئیں۔ انہیں خوشبو سے معطر رکھنا چاہیے۔ ذاتی گھروں میں بھی نماز پڑھنے کی جگہ مخصوص ہونی چاہیے جہاں سنن ونوافل ادا کیے جا سکیں اور خواتین نماز ادا کر سکیں۔
درج بالا اقتباس بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 195 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 758 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´مساجد کو صاف اور معطر رکھنے کا بیان۔`
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم فرمایا کہ محلوں میں مسجدیں بنائی جائیں، اور انہیں پاک و صاف رکھا جائے، اور ان میں خوشبو لگائی جائے۔‏‏‏‏ [سنن ابن ماجه/كتاب المساجد والجماعات/حدیث: 758]
اردو حاشہ: (1)
شہر میں صرف ایک مرکزی مسجد ہونا کافی نہیں بلکہ ہر محلے میں مسجد ہونی چاہیے تاکہ مسلمان آسانی سے نماز باجماعت میں شریک ہوسکیں۔
ضرورت کے مطابق مناسب فاصلے پر دوسری مسجد بنائی جا سکتی ہے۔

(2)
مسجدوں کو صاف ستھرا رکھنا ضروری ہے کیونکہ اسلام میں صفائی بہت اہمیت رکھتی ہے۔

(3)
خوشبو سے مراد اگر بتی وغیرہ سلگانا ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 758 سے ماخوذ ہے۔

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔