حدیث نمبر: 181
وعن عائشة قالت : سئل النبي صلى الله عليه وآله وسلم في غزوة تبوك عن سترة المصلي . فقال : « مثل مؤخرة الرحل ». أخرجه مسلم
ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی

´سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ` غزوہ تبوک کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سترہ کے متعلق پوچھا گیا ( کہ اس کی لمبائی کتنی ہونی چاہیئے ؟ ) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’ اونٹ کے پالان کے پچھلے حصہ کی اونچائی کے برابر ہونا چاہیئے ۔ ‘‘ ( مسلم )

حوالہ حدیث بلوغ المرام / حدیث: 181
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم، الصلاة، باب سترة المصلي والندب إلي الصلاة إلي سترة...، حديث:500.»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ صفی الرحمن مبارکپوری
´نمازی کے سترے کا بیان`
«. . . وعن عائشة قالت: سئل النبي صلى الله عليه وآله وسلم في غزوة تبوك عن سترة المصلي . فقال: مثل مؤخرة الرحل . . .»
. . . سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ غزوہ تبوک کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سترہ کے متعلق پوچھا گیا (کہ اس کی لمبائی کتنی ہونی چاہیئے؟) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اونٹ کے پالان کے پچھلے حصہ کی اونچائی کے برابر ہونا چاہیئے . . . [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/باب ســترة المصــلي: 181]
لغوی تشریح:
«فِي غَزْوَةِ تَبُوك» یہ غزوہ رجب 9 ہجری میں رومیوں کے خلاف ہوا مگر لڑائی کی نوبت نہیں آئی۔ تبوک حجاز کے شمال میں فلسطین کے قریب ایک جگہ ہے۔
«مُؤْخَرَةِ» میم پر ضمہ، ہمزہ ساکن اور خا پر فتحہ یا کسرہ دونوں ہو سکتے ہیں۔ اور ہمزہ پر فتحہ اور خا پر تشدید اور فتحہ یا کسرہ دونوں جائز ہیں، نیز میم پر فتحہ اور واؤ پر سکون، ہمزہ کے بغیر اور خا کے نیچے کسرہ بھی درست ہے۔ یہ کجاوے کی وہ لکڑی ہوتی ہے جس کے ساتھ سواری کرنے والا ٹیک لگاتا ہے۔
«الرَّحْل» کجاوہ وغیرہ جو اونٹ کی پشت پر رکھا جاتا ہے۔
فائدہ:
احادیث سے ثابت ہوتا ہے کہ نمازی کے سامنے سترہ ہونا چاہیے۔ سترے کی اونچائی اتنی ہونی چاہیے جتنی اونٹ کے کجاوے کے پچھلے حصے کی لکڑی ہوتی ہے۔
درج بالا اقتباس بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 181 سے ماخوذ ہے۔