مرکزی مواد پر جائیں
19 شعبان، 1447 ہجری
حدیث نمبر: 170
وعن أبي سعيد رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم : « إذا جاء أحدكم المسجد فلينظر فإن رأى في نعليه أذى أو قذرا فليمسحه وليصل فيهما ». أخرجه أبو داود . وصححه ابن خزيمة.
ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی

´سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ” تم میں سے جب کوئی مسجد میں آئے تو ( مسجد میں داخل ہونے سے پہلے ) اسے چائیے کہ ( اپنی جوتی ) دیکھ لے ۔ اگر اپنی جوتی میں گندگی یا ناپاک چیز لگی ہوئی دیکھے تو اسے چائیے کہ اسے صاف کرے اور اس میں نماز پڑھ لے ۔ ‘‘
ابوداؤد نے اس کی روایت کی ہے اور ابن خزیمہ نے اسے صحیح قرار دیا ہے ۔

حوالہ حدیث بلوغ المرام / حدیث: 170
درجۂ حدیث محدثین: صحيح

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ صفی الرحمن مبارکپوری
´شرائط نماز کا بیان`
«. . . وعن أبي سعيد رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: إذا جاء أحدكم المسجد فلينظر فإن رأى في نعليه أذى أو قذرا فليمسحه وليصل فيهما . . .»
. . . سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم میں سے جب کوئی مسجد میں آئے تو (مسجد میں داخل ہونے سے پہلے) اسے چائیے کہ (اپنی جوتی) دیکھ لے۔ اگر اپنی جوتی میں گندگی یا ناپاک چیز لگی ہوئی دیکھے تو اسے چائیے کہ اسے صاف کرے اور اس میں نماز پڑھ لے . . . [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/باب شــروط الصلاة: 170]
لغوی تشریح:
«أَذًي» طبیعت جس سے اذیت محسوس کرے۔
«قَذَرًا» طبائع جسے گندہ تصور کریں اور اس سے نفرت کریں۔ مراد اس سے نجاست و گندگی ہے۔
«أَذًي أَوْ قَذَرًا» راوی نے اپنے شک کا اظہار کیا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے «أَذًي» کا لفظ استعمال کیا تھا یا «قَذَرًا» کا۔ معنی دونوں کے ایک ہی ہیں، یعنی نجاست۔
فوائد و مسائل:
➊ یہ حدیث واضح دلیل ہے کہ جوتے پہن کر نماز پڑھنا جائز ہے بشرطیکہ جوتے پاک صاف ہوں۔
➋ جوتے پر لگی ہوئی نجاست کو رگڑ کر صاف کرنے سے جوتا پاک اور صاف ہو جاتا ہے۔
➌ حدیث کے بظاہر الفاظ سے یہی مترشح ہوتا ہے کہ نجاست خشک ہو یا تر دونوں کا حکم یکساں ہے۔
➍ اس ارشاد نبوی کا سبب یہ ہے کہ ایک مرتبہ آپ نے جوتا پہنے ہوئے نماز ادا فرمائی۔ آپ کو اس کا علم نہیں تھا کہ جوتا ناپاک ہے اور اس کے نیچے گندگی اور نجاست لگی ہوئی ہے۔ دوران نماز ہی میں جبریل امین علیہ السلام نے آپ کو مطلع فرمایا کہ آپ کے جوتے نجاست سے آلودہ ہیں۔ آپ نے نماز ہی میں جوتے اتار دیے اور نماز جاری رکھی۔ مقتدیوں نے بھی فعل نبوی کی اتباع میں اپنے جوتے اتار دئیے اور نماز پڑھتے رہے۔ نماز سے فارغ ہو کر آپ نے صحابہ سے جوتے اتارنے کی وجہ دریافت فرمائی۔ انہوں نے جواب میں عرض کیا کہ ہم نے آپ کی اتباع میں جوتے اتارے ہیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا جوتا اتارنے کی وجہ بتائی۔ [مسند أحمد 203، و سنن أبى داود، الصلاة، باب الصلاة فى النعل، حديث: 650]
➎ اس حدیث سے یہ معلوم ہوا کہ نمازی کو اگر نماز کے آغاز کے وقت اس کا علم نہ ہو سکا ہو کہ اس کے کپڑے یا جوتے وغیرہ پر نجاست لگی ہوئی ہے اور دوران نماز میں کسی طرح علم ہو جائے تو وہ اس ناپاک چیز کو اسی حالت میں اتار کر نماز کو پورا کر لے تو نماز بالکل صحیح ہو گی۔
درج بالا اقتباس بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 170 سے ماخوذ ہے۔

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔