حدیث نمبر: 17
وعن سلمة بن المحبق رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم : « دباغ جلود الميتة طهورها ». صححه ابن حبان.
ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی

´سیدنا سلمہ بن محبق رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” مردہ جانوروں کے چمڑوں کو رنگنا ہی ان کی طہارت و پاکیزگی ہے ۔ “ ابن حبان نے اسے صحیح قرار دیا ہے ۔

حوالہ حدیث بلوغ المرام / حدیث: 17
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «أخرجه ابن حبان(موارد الظمآن)، حديث: 124، وأبوداود، اللباس، حديث:4125، والنسائي، الفرع والعتيرة، حديث: 4248، والحاكم:4 / 141، وصححه ووافقه الذهبي- الحسن البصري مدلس وعنعن، والحديث السابق يغني عنه.»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ابي داود: 4125 | سنن نسائي: 4248

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ صفی الرحمن مبارکپوری
´دباغت (رنگائی) کے بعد ہر قسم کا چمڑا پاک ہو جاتا ہے`
«. . . قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: دباغ جلود الميتة طهورها . . .»
. . . رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مردہ جانوروں کے چمڑوں کو رنگنا ہی ان کی طہارت و پاکیزگی ہے . . . [بلوغ المرام/كتاب الطهارة: 17]
لغوی تشریح:
«سَلَمَه» سین، لام اور میم تینوں کے فتحہ کے ساتھ ہے۔
«اَلْمُحَبِّق» میم کے ضمہ، حا کے فتحہ، با کی تشدید اور کسرہ کے ساتھ ہے، البتہ محدثین با پر فتحہ کے قائل ہیں اور یہی زیادہ مشہور ہے۔
راویٔ حدیث: ابوسنان ان کی کنیت ہے۔ بصری صحابہ میں ان کو شمار کیا جاتا ہے۔ ہذیل بن مدرکہ بن الیاس کی طرف منسوب ہونے کی وجہ سے ہذلی کہلاتے ہیں۔ وہ حنین میں تھے جب انہیں ان کے بیٹے سنان کی پیدائش کی خوشخبری دی گئی تو انہوں نے فرمایا: جو تیر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دفاع میں چلاتا تھا اس کی خوشی مجھے میرے بیٹے کی بشارت سے زیادہ ہے۔ ان سے حسن بصری وغیرہ نے حدیثیں روایت کی ہیں۔
درج بالا اقتباس بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 17 سے ماخوذ ہے۔