حدیث نمبر: 165
وعن أبي هريرة رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم : « ما بين المشرق والمغرب قبلة » رواه الترمذي وقواه البخاري.
ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی

´سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ” مشرق اور مغرب کے مابین قبلہ ہے ۔ “ اسے ترمذی نے روایت کیا ہے اور بخاری نے قوی قرار دیا ہے ۔

حوالہ حدیث بلوغ المرام / حدیث: 165
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «أخرجه الترمذي، أبواب الصلاة، باب ما جاء أن ما بين المشرق والمغرب قبلة، حديث:342-344، وقال:حسن صحيح.»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ترمذي: 342 | سنن ترمذي: 344 | سنن ابن ماجه: 1011

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ صفی الرحمن مبارکپوری
´شرائط نماز کا بیان`
«. . . وعن أبي هريرة رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: ما بين المشرق والمغرب قبلة . . .»
. . . سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مشرق اور مغرب کے مابین قبلہ ہے . . . [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/باب شــروط الصلاة: 165]
لغوی تشریح:
«مَا بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ قِبْلَةٌ» یہ اہل مدینہ اور اسی سمت پر واقع دوسرے لوگوں کے لیے ہے، اس لیے کہ مدینہ، مکہ کے شمال میں واقع ہے۔ جب مدینے والے اپنا رخ جنوب کی جانب کرتے ہیں تو اس صورت میں مغرب ان کے دائیں طرف اور مشرق بائیں طرف پڑتا ہے، لہٰذا ان کا قبلہ ان دونوں سمتوں کے درمیان ہوا۔ مقصد یہ ہے کہ جب نمازی قبلے سے دور دراز فاصلے پر ہو تو اس کے لیے عین قبلہ رخ ہونا لازمی نہیں کیونکہ ایسا اس کے لیے بڑا مشکل اور دشوار ہے۔ بس اس کے لیے ادھر اپنا چہرہ اور رخ کرنا کافی ہے۔ دیگر شہروں کے لیے بھی یہ وسعت اسی طرح ہے جس طرح اہل مدینہ کے لیے ہے۔
درج بالا اقتباس بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 165 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 342 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´مشرق اور مغرب کے درمیان میں جو ہے سب قبلہ ہے۔`
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مشرق (پورب) اور مغرب (پچھم) کے درمیان جو ہے سب قبلہ ہے ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الصلاة/حدیث: 342]
اردو حاشہ:
1؎:
یہ ان ملکوں کے لیے ہے جو قبلے کے شمال (اُتر) یا جنوب (دکھن) میں واقع ہیں، جیسے مدینہ (شمال میں) اور یمن (جنوب میں) اور برصغیر ہند و پاک یا مصر وغیرہ کے لوگوں کے لیے اسی کو یوں کہا جائیگا ’’شمال اور جنوب کے درمیان جو فضا کا حصہ ہے وہ سب قبلہ ہے‘‘ یعنی اپنے ملک کے قبلے کی سمت میں ذرا سا ٹیڑھا کھڑا ہو نے میں (جو جان بوجھ کر نہ ہو) کوئی حرج نہیں۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 342 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 344 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´مشرق اور مغرب کے درمیان میں جو ہے سب قبلہ ہے۔`
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مشرق (پورب) اور مغرب (پچھم) کے درمیان جو ہے وہ سب قبلہ ہے۔‏‏‏‏ [سنن ترمذي/كتاب الصلاة/حدیث: 344]
اردو حاشہ:
1؎:
یہاں مشرق سے مراد وہ ممالک ہیں جن پر مشرق کا اطلاق ہوتا ہے جیسے عراق۔

2؎:
قاموس میں ہے کہ مرو ایران کا ایک شہر ہے اور علامہ محمد طاہر مغنی میں کہتے ہیں کہ یہ خراسان کا ایک شہر ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 344 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 1011 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´قبلہ کا بیان۔`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مشرق (پورب) اور مغرب (پچھم) کے درمیان جو ہے وہ سب قبلہ ہے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1011]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
مدینہ منورہ سے مکہ مکرمہ عین جنوب میں واقع ہے۔
اس لئے اہل مدینہ کےلئے سمت قبلہ کا تعین مشکل نہیں۔
دوسرے شہروں کے مسلمان اپنے اپنے شہروں کی نسبت سے نماز ادا کرتے ہیں۔
کیونکہ مختلف شہروں سے کعبہ شریف کی سمت مختلف ہے۔

(2)
جو شخص مسجد حرام میں نماز ادا کررہا ہو۔
وہ کعبہ شریف کی عمارت کودیکھ کر عین اس کی طرف منہ کرسکتا ہے۔
لیکن دور کے لوگ اس بات کے مکلف نہیں کہ عین عمارت کعبہ کی طرف منہ کرکے نماز پڑھیں۔
ان کے لئے اندازے سے سمت قبلہ کا تعین کر لینا ہی کافی ہے۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔
﴿لَا يُكَلِّفُ اللَّـهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا﴾ (البقرۃ: 286)
’’اللہ تعالیٰ کسی کو اس کی طاقت سے بڑھ کر کام کرنے کا پابند نہیں کرتا۔‘‘
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1011 سے ماخوذ ہے۔