حدیث نمبر: 157
وعن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم : «المؤذن أملك بالأذان والإمام أملك بالإقامة ». رواه ابن عدي وضعفه.وللبيهقي نحوه عن علي رضي الله عنه من قوله.
ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی

´سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” مؤذن اذان کا زیادہ حقدار ہے اور امام تکبیر کہنے کا زیادہ حق رکھتا ہے ۔ “
اسے ابن عدی نے روایت کیا ہے اور ضعیف قرار دیا ہے اور بیہقی میں بھی سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے اسی طرح منقول ہے ۔

حوالہ حدیث بلوغ المرام / حدیث: 157
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «أخرجه ابن عدي في الكامل: 4 /1327*شريك القاضي والأعمش عنعنا، وفيه علة أخري، وقول علي أخرجه البيهقي:2 /19 وسنده صحيح.»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ صفی الرحمن مبارکپوری
´مؤذن اذان کا زیادہ استحقاق رکھتا ہے`
«. . . قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «المؤذن املك بالاذان والإمام املك بالإقامة . . .»
. . . رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مؤذن اذان کا زیادہ حقدار ہے اور امام تکبیر کہنے کا زیادہ حق رکھتا ہے . . . [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/باب الأذان: 157]
لغوی تشریح:
«رَوَاهُ ابْنُ عَدِيٍّ وَضَعَّفَهُ» ابن عدی نے اسے ضعیف اس بنا پر قرار دیا ہے کہ شریک قاضی تنہا اسے روایت کرتا ہے۔ لیکن ابن معین نے کہا ہے کہ شریک صدوق، ثقہ ہے۔ البتہ اگر وہ دوسروں کی مخالفت کرے تو پھر ہمیں دوسرا راوی اس سے زیادہ محبوب ہے۔ اور امام نسائی رحمہ اللہ نے کہا: «لَيْسَ بِهِ بَأْسَ» اس میں کوئی حرج نہیں۔ اور امام احمد رحمہ اللہ نے کہا: کہ وہ عاقل اور صدوق ہے۔ امام مسلم رحمہ اللہ نے اس سے متابعتاً روایت لی ہے۔
فوائد و مسائل:
➊ ہمارے فاضل محقق نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت کو سنداً ضعیف قرار دیا ہے اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے قول کی بابت لکھتے ہیں کہ اس کی سند صحیح ہے، لہٰذا مذکورہ روایت میں بیان کردہ مسئلہ درست ہے۔
➋ مؤذن اذان کا زیادہ استحقاق رکھتا ہے کیونکہ اسے اذان کے وقت کا محافظ بنایا گیا ہے، لہٰذا مؤذن کو اپنی یہ ذمہ داری صحیح طریقے سے ادا کرنی چاہیے۔ اور امام، تکبیر کہلانے میں زیادہ حقدار ہے، یعنی اس کے اشارے واجازت کے بغیر تکبیر نہ کہی جائے۔
درج بالا اقتباس بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 157 سے ماخوذ ہے۔