حدیث نمبر: 149
وعن جابر بن سمرة قال : صليت مع النبي صلى الله عليه وآله وسلم العيدين غير مرة ولا مرتين بغير أذان ولا إقامة . رواه مسلم. ونحوه في المتفق عليه عن ابن عباس رضي الله عنهما وغيره.
ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی

´سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ` میں نے ایک ، دو مرتبہ نہیں متعدد مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز عیدین پڑھی ہے ۔ اس کیلئے نہ اذان کہی جاتی تھی اور نہ ہی اقامت ۔
اس روایت کو مسلم نے روایت کیا ہے اور بخاری و مسلم میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بھی اسی طرح مروی ہے ۔

حوالہ حدیث بلوغ المرام / حدیث: 149
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم، صلاة العيدين، حديث:887، وحديث ابن عباس أخرجه مسلم، صلاة العيدين حديث:886، والبخاري، العيدين، حديث: 960.»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ صفی الرحمن مبارکپوری
´اذان کا بیان`
«. . . وعن جابر بن سمرة قال: صليت مع النبي صلى الله عليه وآله وسلم العيدين غير مرة ولا مرتين بغير أذان ولا إقامة . رواه مسلم. ونحوه في المتفق عليه عن ابن عباس رضي الله عنهما وغيره. . . .»
". . . ´سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ` میں نے ایک، دو مرتبہ نہیں متعدد مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز عیدین پڑھی ہے۔ اس کیلئے نہ اذان کہی جاتی تھی اور نہ ہی اقامت۔
اس روایت کو مسلم نے روایت کیا ہے اور بخاری و مسلم میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بھی اسی طرح مروی ہے۔ . . ." [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/باب الأذان: 149]
فائدہ:
اس حدیث سے ثابت ہوا کہ دور رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم میں عیدین کی نمازیں باجماعت ادا کی جاتی تھیں۔ لیکن ان کے لیے اذان کہی جاتی تھی نہ اقامت۔ امت کا عمل بھی اسی پر ہے۔
درج بالا اقتباس بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 149 سے ماخوذ ہے۔