حدیث کتب › بلوغ المرام ›
حدیث نمبر: 148
وعن أبي محذورة رضي الله عنه أن النبي صلى الله عليه وآله وسلم أعجبه صوته فعلمه الأذان . رواه ابن خزيمة.ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی
´سیدنا ابومحذورہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کی آواز بہت پسند آئی ۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ( ابومحذورہ رضی اللہ عنہ کو ) اذان کی تعلیم خود دی ( اذان سکھائی ) ۔ ( ابن خزیمہ )
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ صفی الرحمن مبارکپوری
´اذان کا بیان`
«. . . وعن أبي محذورة رضي الله عنه أن النبي صلى الله عليه وآله وسلم أعجبه صوته فعلمه الأذان . رواه ابن خزيمة. . . .»
". . . سیدنا ابو محذورہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کی آواز بہت پسند آئی۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں (ابومحذورہ رضی اللہ عنہ کو) اذان کی تعلیم خود دی (اذان سکھائی)۔ (ابن خزیمہ) . . ." [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/باب الأذان: 148]
«. . . وعن أبي محذورة رضي الله عنه أن النبي صلى الله عليه وآله وسلم أعجبه صوته فعلمه الأذان . رواه ابن خزيمة. . . .»
". . . سیدنا ابو محذورہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کی آواز بہت پسند آئی۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں (ابومحذورہ رضی اللہ عنہ کو) اذان کی تعلیم خود دی (اذان سکھائی)۔ (ابن خزیمہ) . . ." [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/باب الأذان: 148]
فوائد و مسائل:
➊ یہ حدیث اس بات کا ثبوت ہے کہ مؤذن کے انتخاب اور تقرر میں آواز کو ملحوظ رکھنا چاہیے۔
➋ اچھی آواز دلوں پر اثر رکھتی ہے اور اپنا اثر دکھائے بغیر نہیں رہتی۔
➊ یہ حدیث اس بات کا ثبوت ہے کہ مؤذن کے انتخاب اور تقرر میں آواز کو ملحوظ رکھنا چاہیے۔
➋ اچھی آواز دلوں پر اثر رکھتی ہے اور اپنا اثر دکھائے بغیر نہیں رہتی۔
درج بالا اقتباس بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 148 سے ماخوذ ہے۔