وعن أم سلمة رضي الله تعالى عنها قالت : صلى رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم العصر . ثم دخل بيتي فصلى ركعتين . فسألته فقال : « شغلت عن ركعتين بعد الظهر فصليتهما الآن » فقلت : أفنقضيهما إذا فاتتا ؟ قال : « لا ». أخرجه أحمد. ولأبي داود عن عائشة رضي الله تعالى عنها بمعناه.´سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز عصر پڑھ کر میرے حجرے میں تشریف لائے اور دو رکعت نماز ادا فرمائی ۔ میں نے عرض کیا یہ دو رکعت کیسی ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب میں ارشاد فرمایا ” ظہر کے فرائض کے بعد کی دو سنتیں پڑھ نہیں سکا تھا وہ اب میں نے پڑھی ہیں ۔ “ میں نے پھر عرض کیا کہ اگر یہ دو سنتیں قضاء ہو جائیں تو کیا ہم بھی ان کی قضاء دیا کریں ۔ فرمایا ” نہیں “
اسے احمد نے روایت کیا ہے اور ابوداؤد میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے بھی اسی طرح کی روایت ہے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
«. . . صلى رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم العصر. ثم دخل بيتي فصلى ركعتين. فسالته فقال: شغلت عن ركعتين بعد الظهر فصليتهما الآن . . .»
”. . . رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز عصر پڑھ کر میرے حجرے میں تشریف لائے اور دو رکعت نماز ادا فرمائی۔ میں نے عرض کیا یہ دو رکعت کیسی ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب میں ارشاد فرمایا ”ظہر کے فرائض کے بعد کی دو سنتیں پڑھ نہیں سکا تھا وہ اب میں نے پڑھی ہیں . . .“ [بلوغ المرام/كتاب الطهارة: 143]
«شُغِلْتُ» صیغہ مجہول۔ اس کے معنی ہیں کہ مجھے روک دیا گیا، اس طرف سے توجہ پھیر دی گئی۔ مانع یہ تھا کہ قبیلۂ عبدالقیس کے کچھ لوگ آ گئے تھے یا صدقے کا مال آ گیا تھا۔ مال کی تقسیم یا ان سے گفتگو کرتے رہنے کی وجہ سے ظہر کی دو سنتیں رہ گئی تھیں، وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کے بعد پڑھیں۔
«فصليتهما الآن» یعنی میں نے ان دونوں کی اب قضا دی ہے۔ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا کہ ہم بھی چھوٹ جانے کی صورت میں اس وقت قضا دیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اس وقت انہیں قضا ہونے کی صورت میں ادا نہ کرو۔“
علامہ یمانی نے کہا ہے کہ اس سے ثابت ہوا نماز عصر کے بعد ان سنتوں کی قضا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خصوصیت ہے، کسی بھی دوسرے کے لیے یہ جائز نہیں ہے اور ایک دن کے عمل کے بعد آپ کا ہمیشہ انہیں نماز عصر کے بعد ادا کرتے رہنا اس بنا پر تھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت تھی کہ جب ایک عمل ایک مرتبہ کر لیتے تو اسے ہمیشہ انجام دیتے تھے۔ تو گویا یہ بھی آپ کی خصوصیت تھی۔
فائدہ:
حدیث مذکور سے معلوم ہوتا ہے کہ عصر کے بعد ظہر کی رہ جانے والی سنتوں کی قضا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا خاصہ اور امتیاز تھا جیسا کہ امام طحاوی اور علامہ یمانی رحمہما اللہ نے کہا ہے مگر امام بیہقی اور حافظ ابن حجر رحمہ اللہ رحمہما اللہ نے کہا ہے کہ اس روایت کا آخری حصہ «أَفَنَقُضِيهِمَا إذَا فَتَتَا؟ قال: ”لا“» ”جب یہ رہ جائیں تو کیا ہم ان کی قضا دیں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں۔“ ضعیف اور غیر محفوظ ہے۔ صحیح یہ ہے کہ عصر کے بعد قضا نماز فرض ہو یا سنت، ادا ہو سکتی ہے۔ اس کی تفصیل أعلام أھل العصر میں شارح ابوداود شیخ شمس الحق محدیث ڈیانوی نے خوب بیان کی ہے۔
طحاوی کی روایت میں یہی ہے کہ میرے پاس زکوۃ کے اونٹ آئے تھے، میں ان کو دیکھنے میں یہ دوگانہ پڑھنا بھول گیا تھا۔
پھر مجھے یاد آیا تو گھر آکر تمہارے پاس ان کو پڑھ لیا۔
ابو امیہ ام المومنین ام سلمہ ؓ کے والد تھے۔
1۔
امام بخاری ؒ نے اس حدیث کو اس لیے ذکر کیا ہے کہ اس میں قبیلہ عبدالقیس کے لوگوں کا رسول اللہ ﷺ کے پاس آنے کا ذکر ہے۔
واضح رہے کہ وفد عبدالقیس رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں دو دفعہ حاضر ہوا۔
ایک فتح مکہ سے پہلے چار یا پانچ ہجری میں، اس وقت یہ چودہ افراد پر مشتمل تھا۔
دوسری مرتبہ وفود کے سال حاضرہوا جبکہ اس وفد میں چالیس آدمی تھے۔
پہلے وفد کی تفصیل امام نووی ؒ نے بیان کی ہے کہ قبیلہ غنم بن ودیعہ کا ایک شخص "منقذبن حیان" زمانہ جاہلیت میں یثرب میں سامان تجارت لایا کرتا تھا۔
ایک دفعہ اپنے سامان کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ وہاں سے رسول اللہ ﷺ گزرے منقذ اٹھ کر رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا تو آپ نے فرمایا: ’’کیا تو منقذ بن حیان ہے؟ تیری قوم کا اکیا حال ہے؟‘‘ پھر تمام سرداروں کے متعلق دریافت کیا اور ان کے نام بھی بتائے، اس کے بعد وہ مسلمان ہو گیا تو رسول اللہ ﷺ نے اسے سورہ فاتحہ اور﴿اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ﴾ کی تعلیم دی۔
اسے عبدالقیس کے چند افراد کے نام ایک خط بھی لکھ کر دیا۔
جب وہ واپس آیا تو تو اس خط کو کچھ دن چھپائے رکھا بالآخراس کی بیوی کو پتہ چلا جو اشج عصری کی بیٹی تھی اپنے گھر میں منقذ نماز پڑھتا اور اس کی بیوی ان عجیب و غریب حرکات کو دیکھتی، اس نے ایک دن اپنے باپ سے ذکر کیا کہ جب سے میرا خاوند یثرب سے واپس آیا ہے تو ہاتھ پاؤں دھو کر قبلہ رخ ہو جاتا ہے، کبھی اپنے آپ کو جھکا لیتا ہے اور کبھی اپنی پیشانی کو زمین پر رکھ دیتا ہے، جب اشج نے منقذ سے اس کے متعلق گفتگو کی تو اسلام کی حقانیت اس کے دل میں بیٹھ گئی۔
پھر وہ رسول اللہ ﷺ کا خط لے کر اپنے قبیلہ عصر اور محارب کی طرف گیا خط پڑھ کر سارا قبیلہ مسلمان ہو گیا انھوں نے رسول اللہ ﷺ سے ملاقات کا پروگرام بنایا۔
چنانچہ ایک وفد تشکیل دیا گیا جن میں سے چند افراد کے نام یہ ہیں اشج عصری، یہ اس وفد کا امیر تھا مزیدہ بن مالک محاربی، عبیدہ بن ہمام محاربی، صحار بن عباس مری، عمرو بن موحوم عصری، حارث بن شعیب عصری اور حارث بن جندب، جب یہ وفد مدینہ کے قریب پہنچا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "ابھی تمھارے پاس اہل مشرق کے بہترین افراد پر مشتمل قبیلہ عبدالقیس کا وفد آنے والا ہے، اس میں اشج عصری بھی ہے۔
" (شرح صحیح مسلم للنووي: 253/1،254)
حضرت عمر ؓ ان کے استقبال کے لیے گئے اور انھیں رسول اللہ ﷺ کے ارشاد کی بشارت دی، پھر ان کے ساتھ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔
(فتح الباري: 107/8)
2۔
نماز عصر کے بعد دو رکعت پڑھنے کے متعلق تفصیل کتاب الصلاۃ میں گزر چکی ہے۔
امام بخاری ؒ نے اس وفد عبدالقیس کی وجہ سے اس حدیث کو یہاں پیش کیا ہے۔
واللہ اعلم۔
جیسا کہ خود نبی کریم ﷺ کا جوابی اشارہ اس حدیث سے ثابت ہے۔
حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کے فعل سے حسب موقع کسی خلاف شریعت کا م پر مناسب طورپر مارنا اور سختی سے منع کرنا بھی ثابت ہوا۔
(1)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ نماز کے دوران میں کسی غیر کی بات سننے اور اس کا کلام سمجھنے سے نماز میں کوئی خرابی نہیں آتی، نیز ہاتھ کا اشارہ ایک خفیف عمل ہے، اس سے نماز باطل نہیں ہوتی۔
اس سلسلے میں ادب یہ ہے کہ نمازی سے دوران نماز میں بات کرنے والا اس کے ساتھ یا پیچھے نہ کھڑا ہو، کیونکہ ایسا کرنے سے اس کے خشوع میں خلل آنے کا امکان ہے۔
(فتح الباري: 138/3) (2)
اس حدیث سے پتہ چلتا ہے کہ کسی کو حسب موقع خلافِ شریعت کام پر مارنا اور سختی سے منع کرنا جائز ہے اور ایسا کرنا ظلم یا زیادتی نہیں۔
(3)
عصر کے بعد دو رکعت پڑھنا رسول اللہ ﷺ کی خصوصیت تھی، کیونکہ آپ نے دو رکعت پڑھنے کا آغاز بطور قضا کیا تھا، لیکن رسول اللہ ﷺ انہیں ہمیشہ پڑھتے تھے، حالانکہ قضا صرف ایک بار پڑھی جاتی ہے۔
آپ کی عادت مبارکہ تھی کہ جب کسی کام کو شروع کرتے تو پھر اس پر ہمیشگی کرتے۔
(4)
اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ رسول اللہ ﷺ پر نسیان طاری ہو سکتا ہے، کیونکہ حضرت ام سلمہ ؓ کے استفسار سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ اس کو نسیان پر محمول کر رہی تھیں یا نسخ پر یا خصوصیت پر۔
لیکن تیسری بات ثابت ہوئی کہ یہ رسول اللہ ﷺ کی خصوصیت تھی۔
انسان کی فطرت اور مزاج میں یہ بات داخل ہے کہ جب وہ کسی کے قول و فعل میں تضاد دیکھتا ہے تو چاہے یہ کام کرنے والی شخصیت کتنی ہی عظیم اور محبوب ہو وہ خلجان میں پڑجاتا ہے اور اس کے قول و فعل کے تضاد کے سبب کو معلوم کرنے کی کوشش کرتا ہے۔
اُم سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے جن کے باپ کا نام ابو امیہ خذیفہ ہے اس بنا پر آپ سے سوال کیا تھا۔
(2)
نماز ظہر کے بعد کی سنتیں اگرچہ فرض نہیں ہیں، لیکن چونکہ آپﷺ ہمیشہ ان کی پابندی کرتے تھے اس لیے آپﷺ نے اس عادت کو برقرار رکھنے کے لیے سنتوں کی قضائی دی۔
اور امام احمد رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک سنتوں کی قضائی پسندیدہ ہے اور امام محمد کا قول بھی یہی ہے امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ اور امام مالک رحمۃ اللہ علیہ کے ایک قول کے مطابق نہیں ہے اور دوسرے قول کی انسان کو اختیار ہے، جیسے چاہے کر لے۔
(3)
عصر کے بعد سنتوں کی قضائی دینے سے معلوم ہوا کہ عصر کے بعد سببی نماز پڑھنا جائز ہے، اس بنا پر فرض نماز کی قضاء، نماز جنازہ، اور نماز طواف کے بعد سب کے نزدیک جائز ہے تو پھر تحیۃ المسجد کیوں جائز نہیں ہے۔
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے غلام کریب کہتے ہیں کہ عبداللہ بن عباس، عبدالرحمٰن بن ازہر رضی اللہ عنہ اور مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ تینوں نے انہیں ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس بھیجا اور کہا: ان سے ہم سب کا سلام کہنا اور عصر کے بعد دو رکعت نفل کے بارے میں پوچھنا اور کہنا: ہمیں معلوم ہوا ہے کہ آپ یہ دو رکعتیں پڑھتی ہیں، حالانکہ ہم تک یہ بات پہنچی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے منع فرمایا ہے، چنانچہ میں ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گیا اور انہیں ان لوگوں کا پیغام پہنچا دیا، آپ نے کہا: ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے پوچھو! میں ان لوگوں کے پاس آیا اور ان کی بات انہیں بتا دی، تو ان سب نے مجھے ام المؤمنین ام سلمہ کے پاس اسی پیغام کے ساتھ بھیجا، جس کے ساتھ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس بھیجا تھا، تو ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس سے منع کرتے ہوئے سنا، پھر دیکھا کہ آپ انہیں پڑھ رہے ہیں، ایک روز آپ نے عصر پڑھی پھر میرے پاس آئے، اس وقت میرے پاس انصار کے قبیلہ بنی حرام کی کچھ عورتیں بیٹھی ہوئی تھیں، آپ نے یہ دونوں رکعتیں پڑھنا شروع کیں تو میں نے ایک لڑکی کو آپ کے پاس بھیجا اور اس سے کہا کہ تو جا کر آپ کے بغل میں کھڑی ہو جا اور آپ سے کہہ: اللہ کے رسول! ام سلمہ کہہ رہی ہیں: میں نے تو آپ کو ان دونوں رکعتوں کو پڑھنے سے منع کرتے ہوئے سنا ہے اور اب آپ ہی انہیں پڑھ رہے ہیں، اگر آپ ہاتھ سے اشارہ کریں تو پیچھے ہٹ جانا، اس لڑکی نے ایسا ہی کیا، آپ نے ہاتھ سے اشارہ کیا، تو وہ پیچھے ہٹ گئی، جب آپ نماز سے فارغ ہو گئے تو فرمایا: ”اے ابوامیہ کی بیٹی! تم نے مجھ سے عصر کے بعد دو رکعتیں پڑھنے کے بارے میں پوچھا ہے، دراصل میرے پاس عبدالقیس کے چند لوگ اپنی قوم کے اسلام کی خبر لے کر آئے تو ان لوگوں نے مجھے باتوں میں مشغول کر لیا اور میں ظہر کے بعد یہ دونوں رکعتیں نہیں پڑھ سکا، یہ وہی دونوں رکعتیں ہیں۔“ [سنن ابي داود/كتاب التطوع /حدیث: 1273]
➊ ظہر کی پچھلی سنتیں مؤکدہ سنتوں میں سے ہیں اور ان کا پڑھنا مستحب ہے۔
➋ ممنوع وقت میں کسی مشروع سبب سے نماز پڑھنا جائز ہے۔
➌ عصر کے بعد ان رکعات کی ہمیشگی نبی علیہ الصلاۃ والسلام کی خصوصیت تھی۔
➍ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا مسئلے کی تحقیق میں حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی طرف تحویل کرنا، ان آداب میں سے ہے کہ اعلم اور اہل فضل کی طرف مراجعت کی جائے۔
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہم کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عصر سے پہلے والی دو رکعت نہیں پڑھ سکے، تو انہیں عصر کے بعد پڑھی۔ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 581]
عبداللہ بن حارث کہتے ہیں کہ معاویہ رضی اللہ عنہ نے ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس ایک شخص بھیجا، قاصد کے ساتھ میں بھی گیا، اس نے ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے سوال کیا، تو انہوں نے کہا کہ ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے گھر میں نماز ظہر کے لیے وضو کر رہے تھے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقہ وصول کرنے والا ایک شخص روانہ کیا تھا، آپ کے پاس مہاجرین کی بھیڑ تھی، اور ان کی بدحالی نے آپ کو فکر میں مبتلا کر رکھا تھا کہ اتنے میں کسی نے دروازہ کھٹکھٹایا، آپ باہر نکلے، ظہر پڑھائی پھر بیٹھے، اور صدقہ وصول کرنے و۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1159]
فائدہ: (1)
مذکور روایت کو ہمارے فاضل محقق نے سنداً ضعیف قرار دیا ہے۔
اورشیخ البانی رحمۃ اللہ علیہ نے اسے منکر قرار دیا ہے۔
لیکن رسول اللہ ﷺ سے عصر کے بعد دورکعتیں پڑھنے کا ثبوت حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مروی صحیح بخاری اور صحیح مسلم کی روایات سے ملتا ہے۔
اسی لئے بعض محققین نے اس روایت کی سند کو تو ضعیف قراردیا ہے۔
لیکن فی نفسہ مسئلہ یعنی عصر کے بعد دورکعت پڑھنے کو صحیح قرار دیا ہے۔
تفصیل کےلئے دیکھئے: (الموسوعة الحدیثیة، مسند الإمام أحمد بن حنبل: 257، 256، 210، 209/44 وسنن ابن ماجة بتحقیق الدکتور بشارعواد، حدیث: 115)
(2)
ظہر کی پچھلی دو سنتیں مؤکدہ سنتوں میں سے ہیں۔
اور ان کا پڑھنا مستحب ہے۔
(3)
ممنوع وقت میں کسی مشروع سبب سے نماز پڑھنا جائز ہے۔
(4)
عصر کے بعد ان رکعات کی ہمیشگی نبی اکرمﷺ کی خصوصیت تھی۔
اس حدیث سے ثابت ہوا کہ حیض یا نفاس کے ختم ہونے پر غسل کرتے وقت عورت کا سر کے بالوں کو کھولنا واجب ہے۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے اس پر یوں باب باندھا ہے: ”بـاب نـقـض الـمـرأة شعرها عند غسـل الـمحيض“ حائضہ عورت کا غسل کرتے وقت اپنے بالوں کو کھولنے کا بیان“۔
حافظ ابن قیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ غسل حیض کے لیے بال کھولنا ضروری ہے۔ (تھذیب السنن: 165/1 - 168) یاد رہے کہ جنبی عورت کا غسل جنابت میں اپنے سر کے بالوں کو کھولنا ضروری نہیں ہے۔
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! میں اپنے سر کے بال اچھی طرح مضبوطی سے گوندھتی ہوں، کیا میں انھیں غسل جنابت کے وقت کھولا کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان کا کھولنا ضروری نہیں ہے، تیرے لیے یہی کافی ہے کہ تین چلو پانی اپنے سر پر ڈالے، پھر اپنے سارے بدن پر پانی بہائے، پس تو پاک ہو جائے گی۔ (صحیح مسلم: 230)
اہل علم نے غسل حیض و جنابت میں فرق کی توجیہ بیان کی ہے کہ حالت جنابت چونکہ بکثرت ہوتی ہے، لہٰذا اس کے لیے ہر مرتبہ سر کے بالوں کو کھولنا باعث مشقت ہے، جبکہ حیض تو ایک ماہ میں ایک بار ہی آتا ہے، اور نفاس تو سالوں میں بھی کبھار آ تا ہے، ان میں چوٹی اور مینڈھیاں کھولنا باعث مشقت نہیں ہے۔ (المغنی لابن قدامہ: 227/1- عارضة الاحوذی: 160/1)