مرکزی مواد پر جائیں
19 شعبان، 1447 ہجری
حدیث نمبر: 139
وعن ابن عباس رضي الله عنهما قال : قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم : « الفجر فجران : فجر يحرم الطعام وتحل فيه الصلاة وفجر تحرم فيه الصلاة أي صلاة الصبح ويحل فيه الطعام ». رواه ابن خزيمة والحاكم وصححاه. وللحاكم من حديث جابر نحوه وزاد في الذي يحرم الطعام : « أنه يذهب مستطيلا في الأفق » . وفي الآخر : « إنه كذنب السرحان ».
ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی

´سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” فجر کی دو قسمیں ہیں ، ایک وہ فجر جس میں کھانا حرام ہے اور نماز ادا کرنا جائز و حلال اور ایک وہ فجر ہے جس میں نماز پڑھنا حرام ہے اور کھانا جائز و حلال ہے ۔ “
اسے ابن خزیمہ اور حاکم نے روایت کیا ہے اور دونوں نے اسے صحیح بھی قرار دیا ہے ۔ اور مستدرک حاکم میں جابر رضی اللہ عنہ سے بھی اسی طرح مروی ہے ۔ اس میں اتنا اضافہ ہے کہ ” جس صبح میں کھانا حرام ہے وہ آسمان کے کناروں اور اطراف میں پھیل جاتی ہے اور دوسری بھیڑیئے کی دم کی طرح اونچی چلی جاتی ہے ۔ “

حوالہ حدیث بلوغ المرام / حدیث: 139
درجۂ حدیث محدثین: حسن

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ صفی الرحمن مبارکپوری
´اوقات نماز کا بیان`
«. . . وعن ابن عباس رضي الله عنهما قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «الفجر فجران: فجر يحرم الطعام وتحل فيه الصلاة وفجر تحرم فيه الصلاة أي صلاة الصبح ويحل فيه الطعام» . رواه ابن خزيمة والحاكم وصححاه. وللحاكم من حديث جابر نحوه وزاد في الذي يحرم الطعام: «أنه يذهب مستطيلا في الأفق» . وفي الآخر: «إنه كذنب السرحان» . . . .»
. . . سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا فجر کی دو قسمیں ہیں، ایک وہ فجر جس میں کھانا حرام ہے اور نماز ادا کرنا جائز و حلال اور ایک وہ فجر ہے جس میں نماز پڑھنا حرام ہے اور کھانا جائز و حلال ہے۔
اسے ابن خزیمہ اور حاکم نے روایت کیا ہے اور دونوں نے اسے صحیح بھی قرار دیا ہے۔ اور مستدرک حاکم میں جابر رضی اللہ عنہ سے بھی اسی طرح مروی ہے۔ اس میں اتنا اضافہ ہے کہ جس صبح میں کھانا حرام ہے وہ آسمان کے کناروں اور اطراف میں پھیل جاتی ہے اور دوسری بھیڑیئے کی دم کی طرح اونچی چلی جاتی ہے۔ . . . [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/باب المواقيت: 139]
لغوی تشریح:
«يُحَرِّمُ الطَّعَامُ» روزے دار کے لیے سحری کا کھانا حرام کرتی ہے۔
«وَتُحِلُّ فِيهِ الصَّلَاةُ» اور اس میں نماز جائز اور حلال ہے، یعنی نماز فجر۔ اس سے مراد حقیقی صبح ہے جس کا نام صبح صادق ہے۔
«زَادَ» یعنی حاکم نے یہ بات زائد ذکر کی ہے۔
«فِي الَّذِي يُحَرِّمُ الطَّعَام: إِنَّهُ يَذْهِبُ مُسْتَطِيلَا» اس فجر کے بارے میں فرمایا جس میں کھانا حرام ہو جاتا ہے (اس کی نشانی اور علامت یہ ہے) کہ وہ آسمان پر پھیل جاتی ہے، یعنی مشرقی کنارے پر۔
«اَلْأُفُقِ» افق آسمان کے اس حصے کو کہتے ہیں جو زمین کے ساتھ ملتا ہوا محسوس ہوتا ہے۔
«وَفِي الْآخَرِ» خا پر فتحہ ہے۔ اور اس سے مراد وہ فجر ہے جس میں صبح کی نماز ادا کرنا حرام ہے اور روزے دار کے لیے کھانا حلال ہے۔ یہ وہی صبح ہے جسے صبح کا ذب کہا جاتا ہے۔
«كَذَنَبِ السِّرْحَانِ» کاف برائے تشبیہ اور «ذَنَبٌ» میں ذال اور نون دونوں پر فتحہ ہے، یعنی بھیڑیے کی دُم۔ اور «سِرْحان» سین کے نیچے کسرہ اور را ساکن ہے۔ بھیڑیے کو کہتے ہیں۔ مراد اس سے یہ ہے کہ یہ فجر جب نمودار ہوتی ہے تو ستون کی طرح بالکل سیدھی آسمان میں اوپر چڑھتی ہوئی معلوم ہوتی ہے۔ اطراف واکناف میں پھیلی ہوئی نہیں ہوتی۔ صبح صادق اور صبح کا ذب دونوں کے مابین کچھ وقفہ اور فاصلہ ہوتا ہے۔
درج بالا اقتباس بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 139 سے ماخوذ ہے۔

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔