حدیث نمبر: 1357
وعن عائشة رضي الله عنها أن النبي صلى الله عليه وآله وسلم علمها هذا الدعاء : « اللهم إني أسألك من الخير كله عاجله وآجله ما علمت منه وما لم أعلم وأعوذ بك من الشر كله عاجله وآجله ما علمت منه وما لم أعلم اللهم إني أسألك من خير ما سألك عبدك ونبيك وأعوذ بك من شر ما عاذ به عبدك ونبيك اللهم إني أسألك الجنة وما قرب إليها من قول أو عمل وأعوذ بك من النار وما قرب إليها من قول أو عمل وأسألك أن تجعل كل قضاء قضيته لي خيرا » أخرجه ابن ماجه وصححه ابن حبان والحاكم.
ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی

´سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو یہ دعا سکھائی «اللهم إني أسألك من الخير كله عاجله وآجله ما علمت منه وما لم أعلم وأعوذ بك من الشر كله عاجله وآجله ما علمت منه وما لم أعلم اللهم إني أسألك من خير ما سألك عبدك ونبيك وأعوذ بك من شر ما عاذ به عبدك ونبيك اللهم إني أسألك الجنة وما قرب إليها من قول أو عمل وأعوذ بك من النار وما قرب إليها من قول أو عمل وأسألك أن تجعل كل قضاء قضيته لي خيرا » ’’ الٰہی ! میں تجھ سے ہر طرح کی بھلائی طلب کرتی ہوں ۔ جلدی وصول ہونے والی ہو یا دیر سے ملنے والی ۔ جس کو میں جانتی ہوں یا نہیں جانتی ۔ اور ہر برائی سے میں تیری پناہ مانگتی ہوں ، جلدی آنے والی ہو یا دیر سے ، جس کا مجھے علم ہے یا وہ میرے علم میں نہیں ہے ۔ اے اللہ ! میں تجھ سے وہ خیر طلب کرتی ہوں جس کا تیرے بندے اور نبی نے سوال کیا تھا اور اس شر سے پناہ طلب کرتی ہوں جس سے تیرے بندے اور نبی نے پناہ مانگی تھی ۔ اے اللہ ! میں تجھ سے جنت کا اور ایسے عمل اور قول کا سوال کرتی ہوں جو جنت سے قریب کرنے والے ہیں اور تیری پناہ طلب کرتی ہوں جہنم سے اور ہر اس عمل اور قول سے جو اس جہنم کے قریب کر دے اور میں بات کا سوال کرتی ہوں کہ تو نے جو فیصلہ میرے حق میں کیا ہے اس کو میرے حق میں بہتر بنا دے ۔ “ اسے ابن ماجہ نے نکالا ہے اور ابن حبان اور حاکم نے اسے صحیح کہا ہے ۔

حوالہ حدیث بلوغ المرام / حدیث: 1357
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «أخرجه ابن ماجه، الدعاء، باب الجوامع من الدعاء، حديث:3846، وابن حبان (الموارد)، حديث:2413، والحاكم:1 /522.»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ صفی الرحمن مبارکپوری
´ذکر اور دعا کا بیان`
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو یہ دعا سکھائی «اللهم إني أسألك من الخير كله عاجله وآجله ما علمت منه وما لم أعلم وأعوذ بك من الشر كله عاجله وآجله ما علمت منه وما لم أعلم اللهم إني أسألك من خير ما سألك عبدك ونبيك وأعوذ بك من شر ما عاذ به عبدك ونبيك اللهم إني أسألك الجنة وما قرب إليها من قول أو عمل وأعوذ بك من النار وما قرب إليها من قول أو عمل وأسألك أن تجعل كل قضاء قضيته لي خيرا» ’’ الٰہی! میں تجھ سے ہر طرح کی بھلائی طلب کرتی ہوں۔ جلدی وصول ہونے والی ہو یا دیر سے ملنے والی۔ جس کو میں جانتی ہوں یا نہیں جانتی۔ اور ہر برائی سے میں تیری پناہ مانگتی ہوں، جلدی آنے والی ہو یا دیر سے، جس کا مجھے علم ہے یا وہ میرے علم میں نہیں ہے۔ اے اللہ! میں تجھ سے وہ خیر طلب کرتی ہوں جس کا تیرے بندے اور نبی نے سوال کیا تھا اور اس شر سے پناہ طلب کرتی ہوں جس سے تیرے بندے اور نبی نے پناہ مانگی تھی۔ اے اللہ! میں تجھ سے جنت کا اور ایسے عمل اور قول کا سوال کرتی ہوں جو جنت سے قریب کرنے والے ہیں اور تیری پناہ طلب کرتی ہوں جہنم سے اور ہر اس عمل اور قول سے جو اس جہنم کے قریب کر دے اور میں بات کا سوال کرتی ہوں کہ تو نے جو فیصلہ میرے حق میں کیا ہے اس کو میرے حق میں بہتر بنا دے۔ " اسے ابن ماجہ نے نکالا ہے اور ابن حبان اور حاکم نے اسے صحیح کہا ہے۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) «بلوغ المرام/حدیث: 1357»
تخریج:
«أخرجه ابن ماجه، الدعاء، باب الجوامع من الدعاء، حديث:3846، وابن حبان (الموارد)، حديث:2413، والحاكم:1 /522.»
تشریح: یہ بھی جامع ترین دعاؤں میں سے ایک دعا ہے جس میں مختلف اشیاء کی طلب اور شرور سے استعاذے کے بعد بالآخر عرض کی کہ میں ہر اس بھلائی کی خواستگار ہوں جس کی طلب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کی ہے اور ہراس برائی سے پناہ چاہتی ہوں جس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پناہ چاہی ہے۔
اس میں دنیا و آخرت کی ہر بھلائی مانگ لی گئی۔
درج بالا اقتباس بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 1357 سے ماخوذ ہے۔