حدیث نمبر: 1335
وعنه رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم : «ما قعد قوم مقعدا لم يذكروا الله فيه ولم يصلوا على النبي صلى الله عليه وآله وسلم إلا كان عليهم حسرة يوم القيامة » أخرجه الترمذي وقال : حسن.
ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی

´سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ہی سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’ نہیں بیٹھتی کوئی قوم کسی مجلس میں کہ انہوں نے اس مجلس میں اللہ کا ذکر کیا اور نہ نبی پر درود بھیجا مگر وہ مجلس ان کیلئے قیامت کے روز باعث حسرت و ندامت ہو گی ۔ ‘‘ اسے ترمذی نے نکالا ہے اور اسے حسن قرار دیا ہے ۔

حوالہ حدیث بلوغ المرام / حدیث: 1335
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «أخرجه الترمذي، الدعوات، باب ما جاء في القوم يجلسون ولا يذكرون الله، حديث:3380.»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ترمذي: 3380 | سنن ابي داود: 4855 | مسند الحميدي: 1192

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ صفی الرحمن مبارکپوری
´ذکر اور دعا کا بیان`
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ہی سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’ نہیں بیٹھتی کوئی قوم کسی مجلس میں کہ انہوں نے اس مجلس میں اللہ کا ذکر کیا اور نہ نبی پر درود بھیجا مگر وہ مجلس ان کیلئے قیامت کے روز باعث حسرت و ندامت ہو گی۔ ‘‘ اسے ترمذی نے نکالا ہے اور اسے حسن قرار دیا ہے۔ «بلوغ المرام/حدیث: 1335»
تخریج:
«أخرجه الترمذي، الدعوات، باب ما جاء في القوم يجلسون ولا يذكرون الله، حديث:3380.»
تشریح: 1.اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ہر مجلس میں اللہ کا ذکر ضرور ہونا چاہیے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر درود ضرور بھیجنا چاہیے مگر بعض درود و سلام اور ان کے پڑھنے کے مختلف انداز جو ہمارے دور میں شروع ہوچکے ہیں‘ ان کا وجود عہد رسالت اور دور صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم میں نظر نہیں آتا۔
یہ لوگوں کی اپنی ایجاد ہے۔
اگر وہ اسے مسنون اور باعث اجر و ثواب سمجھتے ہیں تو یہ بدعت ہے۔
2.اجتماعی ذکر میں درس و تدریس اور تعلیم و تعلم سب سے بہتر طریقہ ہے۔
3. اکٹھے ایک جگہ بیٹھ کر اپنے طور پر ذکر الٰہی اور درود پڑھنے میں بھی کوئی حرج نہیں۔
درج بالا اقتباس بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 1335 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 3380 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´لوگوں کی مجلس اللہ کے ذکر سے غافل ہو اس کی برائی کا بیان۔`
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگ کسی مجلس میں بیٹھیں اور اللہ کی یاد نہ کریں، اور نہ اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر (درود) بھیجیں تو یہ چیز ان کے لیے حسرت و ندامت کا باعث بن سکتی ہے۔ اللہ چاہے تو انہیں عذاب دے، اور چاہے تو انہیں بخش دے ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الدعوات/حدیث: 3380]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
اس حدیث کا سبق یہ ہے کہ مسلمان جب بھی کسی میٹنگ میں بیٹھیں تو آخرمجلس کے خاتمہ پر پڑھی جانے والی دعاء ضرور پڑھ لیں، نہیں تو یہ مجلس بجائے اجروثواب کے سبب کے وبال کا سبب بن جائے گی (یہ حدیث رقم: 3433 پر آ رہی ہے)

نوٹ:
(سند میں صالح بن نبہان مولی التوأمۃ صدوق راوی ہیں، لیکن آخر میں اختلاط کا شکار ہو گئے تھے، اس لیے ان سے روایت کرنے والے قدیم تلامیذ جیسے ابن ابی ذئب اور ابن جریج کی ان سے روایت مقبول ہے، لیکن اختلاط کے بعد روایت کرنے والے شاگردوں کی ان سے روایت ضعیف ہو گی، مسند احمد کی روایت زیاد بن سعد اور ابن ابی ذئب قدماء سے ہے، نیز طبرانی اور حاکم میں ان سے راوی عمارہ بن غزیہ قدماء میں سے ہے، اور حاکم نے اس کی سند کو صحیح کہا ہے، اور متابعات بھی ہیں، جن کی بنا پر یہ حدیث صحیح لغیرہ ہے، ملاحظہ ہو: الصحیحة رقم: 74)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3380 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: مسند الحميدي / حدیث: 1192 کی شرح از محمد ابراہیم بن بشیر ✍️
1192- سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان نقل کرتے ہیں: جب کچھ لوگ کسی محفل میں بیٹھے ہوئے ہوں اور وہاں اللہ کاذکر نہ کریں، تو یہ چیز ان کے لیے (قیامت کے دن) حسرت کا باعث ہوگی۔‏‏‏‏ [مسند الحمیدی/حدیث نمبر:1192]
فائدہ:
اس حدیث میں اس مجلس کی مذمت کی گئی ہے جس میں اللہ تعالیٰ کا ذکر نہ ہو، اس سے معلوم ہوا کہ کوئی بھی مجلس ایسی نہیں ہونی چاہیے جس میں اللہ تعالیٰ کا ذکر نہ کیا جائے۔
درج بالا اقتباس مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 1190 سے ماخوذ ہے۔