حدیث کتب › بلوغ المرام ›
بلوغ المرام
— متفرق مضامین کی احادیث
باب الترغيب في مكارم الأخلاق باب: مکارم اخلاق ( اچھے عمدہ اخلاق ) کی ترغیب کا بیان
حدیث نمبر: 1331
وعن ابن مسعود رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم : « اللهم كما حسنت خلقي فحسن خلقي » رواه أحمد وصححه ابن حبان.ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی
´سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’ الٰہی جس طرح تو نے میری تخلیق کو خوب اچھا بنایا ہے ۔ اس طرح میرے اخلاق کو اچھا اور حسین بنا دے ۔ “ اسے احمد نے روایت کیا ہے اور ابن حبان نے اسے صحیح کہا ہے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ صفی الرحمن مبارکپوری
´مکارم اخلاق (اچھے عمدہ اخلاق) کی ترغیب کا بیان`
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’ الٰہی جس طرح تو نے میری تخلیق کو خوب اچھا بنایا ہے۔ اس طرح میرے اخلاق کو اچھا اور حسین بنا دے۔ “ اسے احمد نے روایت کیا ہے اور ابن حبان نے اسے صحیح کہا ہے۔ «بلوغ المرام/حدیث: 1331»
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’ الٰہی جس طرح تو نے میری تخلیق کو خوب اچھا بنایا ہے۔ اس طرح میرے اخلاق کو اچھا اور حسین بنا دے۔ “ اسے احمد نے روایت کیا ہے اور ابن حبان نے اسے صحیح کہا ہے۔ «بلوغ المرام/حدیث: 1331»
تخریج:
«أخرجه أحمد: 1 /403، وابن حبان(الموارد)، حديث:2423، وسنده حسن وله شاهد عندأحمد:6 /68، 155.»
تشریح: 1. مذکورہ دعا کی بابت ہمارے ہاں معروف ہے کہ یہ آئینہ دیکھنے کی دعا ہے جبکہ وہ روایت جس میں آئینہ دیکھنے کی صراحت ہے‘ وہ ضعیف ہے۔
بنابریں اس دعا کو آئینہ دیکھنے کے ساتھ خاص کرنا درست نہیں بلکہ مطلقاً کسی بھی وقت یہ دعا پڑھی جا سکتی ہے‘ آئینہ دیکھتے وقت یا اس کے علاوہ بھی۔
واللّٰہ أعلم۔
مزید تفصیل کے لیے دیکھیے: (الموسوعۃ الحدیثیۃ مسند الإمام أحمد:۶ /۳۷۳‘ ۳۷۴ و۴۰ /۴۵۷‘ ۴۵۸) 2.آپ تو تخلیق اور اخلاق کے لحاظ سے کائنات میں سب سے افضل و اعلیٰ تھے۔
آپ کی یہ دعا دراصل اس نعمت کے دوام اور امت کو تعلیم دینے کے لیے تھی۔
«أخرجه أحمد: 1 /403، وابن حبان(الموارد)، حديث:2423، وسنده حسن وله شاهد عندأحمد:6 /68، 155.»
تشریح: 1. مذکورہ دعا کی بابت ہمارے ہاں معروف ہے کہ یہ آئینہ دیکھنے کی دعا ہے جبکہ وہ روایت جس میں آئینہ دیکھنے کی صراحت ہے‘ وہ ضعیف ہے۔
بنابریں اس دعا کو آئینہ دیکھنے کے ساتھ خاص کرنا درست نہیں بلکہ مطلقاً کسی بھی وقت یہ دعا پڑھی جا سکتی ہے‘ آئینہ دیکھتے وقت یا اس کے علاوہ بھی۔
واللّٰہ أعلم۔
مزید تفصیل کے لیے دیکھیے: (الموسوعۃ الحدیثیۃ مسند الإمام أحمد:۶ /۳۷۳‘ ۳۷۴ و۴۰ /۴۵۷‘ ۴۵۸) 2.آپ تو تخلیق اور اخلاق کے لحاظ سے کائنات میں سب سے افضل و اعلیٰ تھے۔
آپ کی یہ دعا دراصل اس نعمت کے دوام اور امت کو تعلیم دینے کے لیے تھی۔
درج بالا اقتباس بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 1331 سے ماخوذ ہے۔