حدیث کتب › بلوغ المرام ›
بلوغ المرام
— متفرق مضامین کی احادیث
باب الترغيب في مكارم الأخلاق باب: مکارم اخلاق ( اچھے عمدہ اخلاق ) کی ترغیب کا بیان
حدیث نمبر: 1315
وعن أبي هريرة رضي الله عنه أن رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم قال : « إياكم والظن فإن الظن أكذب الحديث » متفق عليه.ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی
´سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’ بدگمانی سے بچو ۔ بدگمانی سب سے بڑا جھوٹ ہے ۔ “ ( بخاری و مسلم )
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ صفی الرحمن مبارکپوری
´مکارم اخلاق (اچھے عمدہ اخلاق) کی ترغیب کا بیان`
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’ بدگمانی سے بچو۔ بدگمانی سب سے بڑا جھوٹ ہے۔ " (بخاری و مسلم) «بلوغ المرام/حدیث: 1315»
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’ بدگمانی سے بچو۔ بدگمانی سب سے بڑا جھوٹ ہے۔ " (بخاری و مسلم) «بلوغ المرام/حدیث: 1315»
تخریج:
«أخرجه البخاري، ومسلم، تقدم:1284.»
تشریح: 1. یہ حدیث گزشتہ باب (حدیث: ۱۲۸۴) میں گزر چکی ہے اور دونوں بابوں کے ساتھ اس کی مناسبت بہت واضح ہے۔
2. اس حدیث میں جھوٹ سے بچنے اور ہمیشہ سچائی اختیار کرنے کا حکم ہے۔
3.سچائی کا آخری ثمرہ و نتیجہ جنت ہے اور جھوٹ کا نتیجہ خالق کائنات کی ناراضی کی صورت میں دوزخ ہے۔
4.اس حدیث میں اشارہ ہے کہ جو کوئی اپنی تمام باتوں میں سچ اختیار کرتا ہے اور سچائی کو اپنی زندگی کا عین مقصد سمجھتا ہے تو سچائی اس کی زندگی کا جزو لاینفک اور لازمی حصہ بن جاتی ہے اور اس کا نتیجہ جنت ہے۔
«أخرجه البخاري، ومسلم، تقدم:1284.»
تشریح: 1. یہ حدیث گزشتہ باب (حدیث: ۱۲۸۴) میں گزر چکی ہے اور دونوں بابوں کے ساتھ اس کی مناسبت بہت واضح ہے۔
2. اس حدیث میں جھوٹ سے بچنے اور ہمیشہ سچائی اختیار کرنے کا حکم ہے۔
3.سچائی کا آخری ثمرہ و نتیجہ جنت ہے اور جھوٹ کا نتیجہ خالق کائنات کی ناراضی کی صورت میں دوزخ ہے۔
4.اس حدیث میں اشارہ ہے کہ جو کوئی اپنی تمام باتوں میں سچ اختیار کرتا ہے اور سچائی کو اپنی زندگی کا عین مقصد سمجھتا ہے تو سچائی اس کی زندگی کا جزو لاینفک اور لازمی حصہ بن جاتی ہے اور اس کا نتیجہ جنت ہے۔
درج بالا اقتباس بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 1315 سے ماخوذ ہے۔