حدیث نمبر: 1308
وعن عائشة رضي الله عنها قالت : قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم : « الشؤم سوء الخلق » أخرجه أحمد وفي سنده ضعف.
ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی

´سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’ بد خلقی نحوست ہے ۔ “ اس کو احمد نے روایت کیا ہے اور اس کی سند ضعیف ہے ۔

حوالہ حدیث بلوغ المرام / حدیث: 1308
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «أخرجه أحمد:6 /85، وقال الهيثمي في مجمع الزوائد:6 /85 وفيه أبوبكر بن أبي مريم وهو ضعيف.»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عبدالسلام بھٹوی
اصل نحوست بدخلقی ہے
«وعن عائشة رضي الله عنها قالت: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: ‏‏‏‏الشؤم سوء الخلق ‏‏‏‏ اخرجه احمد وفي سنده ضعف.»
عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اصل نحوست بدخلقی ہے۔ اسے احمد نے روایت کیا اور اس کی سند میں کمزوری ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الجامع: 1308]
تخریج:
«ضعيف»
[ مسند احمد 85/6]
مفصل تخریج اور تضعیف کے لیے دیکھئے: [سلسله الاحاديث الضعيفه 793]
مفردات:
«اَلشؤمُ» بے برکتی نحوست یہ «اليمن» کی ضد ہے جس کا معنی بابرکت ہونا ہے۔
فوائد:
اصل نحوست بدخلقی ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی بھی چیز میں «شوم» (نحوست) کی نفی فرمائی بعض احادیث میں ہے کہ اگر کسی چیز میں («شوم» ) نحوست ہو تو عورت، گھوڑے اور مکان میں ہے۔ [بخاري۔ الجهاد/47 ]
اس سے معلوم ہوا کہ کوئی بھی چیز ذاتی طور پر منحوس نہیں صرف برے اوصاف کی وجہ سے اس میں نحوست ہوتی ہے۔ مثلاً عورت بدزبان ہو، گھوڑا اڑیل ہو یا مکان تنگ اور غیر صحت مند ہو۔ زیر بحث حدیث میں یہی بتایا گیا ہے کہ اصل نحوست برا خلق ہے۔ بدزبانی، بخل، حسد، بے رحمی وغیرہ ایسے اوصاف ہیں کہ جس شخص میں یہ پائی جائیں وہ سعادت کی زندگی نہیں گزار سکتا۔ بلکہ ان اخلاق سیئہ کی وجہ سے اس کا وجود اپنے لیے اور دوسروں کے لیے بے برکتی کا باعث بن جاتا ہے۔ اگر وہ اپنے اخلاق درست کرے تو یہ نحوست ختم بھی ہو سکتی ہے۔
درج بالا اقتباس شرح بلوغ المرام من ادلۃ الاحکام کتاب الجامع، حدیث/صفحہ نمبر: 226 سے ماخوذ ہے۔