حدیث کتب › بلوغ المرام ›
بلوغ المرام
— متفرق مضامین کی احادیث
باب الرهب من مساوئ الأخلاق باب: برے اخلاق و عادات سے ڈرانے اور خوف دلانے کا بیان
حدیث نمبر: 1290
وعن أبي ذر رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه وآله وسلم فيما يرويه عن ربه قال : « يا عبادي إني حرمت الظلم على نفسي وجعلته بينكم محرما فلا تظالموا ». أخرجه مسلم.ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی
´سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ،` ان خبروں کے متعلق جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ سے بیان فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ’’ اے میرے بندو ! میں نے ظلم کو اپنے اوپر حرام کر لیا ہے اور تمہارے درمیان بھی حرام کر دیا ہے ۔ لہذا تم ایک دوسرے پر ظلم نہ کرو ۔ ‘‘ ( مسلم )
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عبدالسلام بھٹوی
ایک دوسرے پر ظلم مت کرو
«وعن ابي ذر رضى الله عنه عن النبى صلى الله عليه وآله وسلم فيما يرويه عن ربه قال: يا عبادي إني حرمت الظلم على نفسي وجعلته بينكم محرما فلا تظالموا . اخرجه مسلم»
ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ کی ان احادیث میں سے ایک حدیث بیان کرتے ہیں جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے پروردگار سے روایت کرتے ہیں کہ اس نے فرمایا: ”اے میرے بندو! یقیناً میں نے ظلم اپنے آپ پر حرام کر لیا ہے اور اسے تمہارے درمیان حرام کر دیا ہے تو تم ایک دوسرے پر ظلم نہ کرو۔ “ اے مسلم نے روایت کیا۔ [بلوغ المرام/كتاب الجامع: 1290]
«وعن ابي ذر رضى الله عنه عن النبى صلى الله عليه وآله وسلم فيما يرويه عن ربه قال: يا عبادي إني حرمت الظلم على نفسي وجعلته بينكم محرما فلا تظالموا . اخرجه مسلم»
ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ کی ان احادیث میں سے ایک حدیث بیان کرتے ہیں جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے پروردگار سے روایت کرتے ہیں کہ اس نے فرمایا: ”اے میرے بندو! یقیناً میں نے ظلم اپنے آپ پر حرام کر لیا ہے اور اسے تمہارے درمیان حرام کر دیا ہے تو تم ایک دوسرے پر ظلم نہ کرو۔ “ اے مسلم نے روایت کیا۔ [بلوغ المرام/كتاب الجامع: 1290]
تخریج:
[مسلم البر والصلة / 55]
[تحفة الاشراف 169/9]
فوائد:
➊ اللہ تعالیٰ کسی پر ظلم نہیں کرتا:
اس حدیث میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ میں نے اپنے آپ پر حرام کر لیا ہے کہ کسی پر ظلم کروں۔
قرآن مجید میں فرمایا: «وَلَا يَظْلِمُ رَبُّكَ أَحَدًا» [18-الكهف:49 ]
”اور تیرا رب کسی پر ظلم نہیں کرتا۔ “
اور فرمایا: «وَمَا أَنَا بِظَلَّامٍ لِّلْعَبِيدِ» [50-ق:29]
”اور میں بندوں پر بہت زیادہ ظلم کرنے والا نہیں ہوں۔“
➋ کیا اللہ تعالیٰ (نعوذ بالله) تھوڑا ظلم کر لیتا ہے؟:
بعض اوقات یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ میں بندوں پر ظلام یعنی ”بہت زیادہ ظلم کرنے والا نہیں ہوں“ تو اس سے یہ بات نکلتی ہے کہ تھوڑا بہت ظلم وہ کر سکتا ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ یہ بات درست نہیں۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «وَمَا اللَّـهُ يُرِيدُ ظُلْمًا لِّلْعَالَمِينَ» [3-آل عمران:108]
”اللہ تعالیٰ جہان والوں پر ظلم کا ارادہ بھی نہیں کرتا۔ “
ظلام کی نفی میں حکمت یہ معلوم ہوتی ہے کہ جب اللہ تعالیٰ معمولی سے ظلم کا ارادہ بھی نہیں کرتا تو وہ ظالم کیسے ہو سکتا ہے؟ چہ جائیکہ وہ ظلام ہو؟ ظلم کی تعریف اور مزید تشریح کے لئے دیکھئے: بلوغ المرام کی حدیث (1397/3)
[مسلم البر والصلة / 55]
[تحفة الاشراف 169/9]
فوائد:
➊ اللہ تعالیٰ کسی پر ظلم نہیں کرتا:
اس حدیث میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ میں نے اپنے آپ پر حرام کر لیا ہے کہ کسی پر ظلم کروں۔
قرآن مجید میں فرمایا: «وَلَا يَظْلِمُ رَبُّكَ أَحَدًا» [18-الكهف:49 ]
”اور تیرا رب کسی پر ظلم نہیں کرتا۔ “
اور فرمایا: «وَمَا أَنَا بِظَلَّامٍ لِّلْعَبِيدِ» [50-ق:29]
”اور میں بندوں پر بہت زیادہ ظلم کرنے والا نہیں ہوں۔“
➋ کیا اللہ تعالیٰ (نعوذ بالله) تھوڑا ظلم کر لیتا ہے؟:
بعض اوقات یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ میں بندوں پر ظلام یعنی ”بہت زیادہ ظلم کرنے والا نہیں ہوں“ تو اس سے یہ بات نکلتی ہے کہ تھوڑا بہت ظلم وہ کر سکتا ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ یہ بات درست نہیں۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «وَمَا اللَّـهُ يُرِيدُ ظُلْمًا لِّلْعَالَمِينَ» [3-آل عمران:108]
”اللہ تعالیٰ جہان والوں پر ظلم کا ارادہ بھی نہیں کرتا۔ “
ظلام کی نفی میں حکمت یہ معلوم ہوتی ہے کہ جب اللہ تعالیٰ معمولی سے ظلم کا ارادہ بھی نہیں کرتا تو وہ ظالم کیسے ہو سکتا ہے؟ چہ جائیکہ وہ ظلام ہو؟ ظلم کی تعریف اور مزید تشریح کے لئے دیکھئے: بلوغ المرام کی حدیث (1397/3)
درج بالا اقتباس شرح بلوغ المرام من ادلۃ الاحکام کتاب الجامع، حدیث/صفحہ نمبر: 181 سے ماخوذ ہے۔
✍️ الشیخ صفی الرحمن مبارکپوری
´برے اخلاق و عادات سے ڈرانے اور خوف دلانے کا بیان`
سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا، ان خبروں کے متعلق جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ سے بیان فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ’’ اے میرے بندو! میں نے ظلم کو اپنے اوپر حرام کر لیا ہے اور تمہارے درمیان بھی حرام کر دیا ہے۔ لہذا تم ایک دوسرے پر ظلم نہ کرو۔ ‘‘ (مسلم) «بلوغ المرام/حدیث: 1290»
سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا، ان خبروں کے متعلق جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ سے بیان فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ’’ اے میرے بندو! میں نے ظلم کو اپنے اوپر حرام کر لیا ہے اور تمہارے درمیان بھی حرام کر دیا ہے۔ لہذا تم ایک دوسرے پر ظلم نہ کرو۔ ‘‘ (مسلم) «بلوغ المرام/حدیث: 1290»
تخریج:
«أخرجه مسلم، البر والصلة، باب تحريم الظلم، حديث:2577.»
تشریح: 1.یہ حدیث قدسی ہے۔
حدیث قدسی وہ ہوتی ہے جس کا معنی و مفہوم اللہ رب العزت کی طرف سے ہو اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اپنے الفاظ میں بیان فرمایا ہو لیکن اس میں اللہ تعالیٰ کی طرف نسبت موجود ہو۔
2.اس حدیث کی رو سے ظالم کے لیے کسی قسم کی رو رعایت نہیں۔
اور اسلوب بیان یہ ہے کہ جب میں ظلم نہیں کرتا تو تم بھی باہم ایک دوسرے پر ظلم سے باز آجاؤ۔
ظلم عقلاً و نقلاً برا عمل ہے جس کے بارے میں فیصلہ یہ ہے: ﴿ وَ قَدْ خَابَ مَنْ حَمَلَ ظُلْمًا ﴾ (طٰہٰ۲۰:۱۱۱) ’’اور یقینا ظلم کرنے والا خائب و خاسر ہوگیا۔
‘‘ اس لیے ظالم کی دنیا ہے نہ آخرت، وہ خسارے ہی خسارے میں رہے گا۔
«أخرجه مسلم، البر والصلة، باب تحريم الظلم، حديث:2577.»
تشریح: 1.یہ حدیث قدسی ہے۔
حدیث قدسی وہ ہوتی ہے جس کا معنی و مفہوم اللہ رب العزت کی طرف سے ہو اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اپنے الفاظ میں بیان فرمایا ہو لیکن اس میں اللہ تعالیٰ کی طرف نسبت موجود ہو۔
2.اس حدیث کی رو سے ظالم کے لیے کسی قسم کی رو رعایت نہیں۔
اور اسلوب بیان یہ ہے کہ جب میں ظلم نہیں کرتا تو تم بھی باہم ایک دوسرے پر ظلم سے باز آجاؤ۔
ظلم عقلاً و نقلاً برا عمل ہے جس کے بارے میں فیصلہ یہ ہے: ﴿ وَ قَدْ خَابَ مَنْ حَمَلَ ظُلْمًا ﴾ (طٰہٰ۲۰:۱۱۱) ’’اور یقینا ظلم کرنے والا خائب و خاسر ہوگیا۔
‘‘ اس لیے ظالم کی دنیا ہے نہ آخرت، وہ خسارے ہی خسارے میں رہے گا۔
درج بالا اقتباس بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 1290 سے ماخوذ ہے۔