حدیث کتب › بلوغ المرام ›
حدیث نمبر: 1260
وعن جابر رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: « كل معروف صدقة » أخرجه البخاري.ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی
´سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ’’ ہر بھلائی صدقہ ہے ۔ “ ( بخاری )
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عبدالسلام بھٹوی
ہر اچھا کام صدقہ ہے
«وعن جابر رضى الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: كل معروف صدقة . اخرجه البخاري.»
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ” ہر اچھا کام صدقہ ہے۔“ بخاري۔ [بلوغ المرام/كتاب الجامع/باب الأدب: 1260]
«وعن جابر رضى الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: كل معروف صدقة . اخرجه البخاري.»
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ” ہر اچھا کام صدقہ ہے۔“ بخاري۔ [بلوغ المرام/كتاب الجامع/باب الأدب: 1260]
تخریج:
[بخاري 6021]
[تحفة الاشراف 375/2 ]
فوائد:
➊ معروف کا معنی ہے پہچانا ہوا یعنی وہ کام جس کا اچھا ہونا شریعت یا عقل کے لحاظ سے جانی پہچانی بات ہے۔
➋ صدقہ کا اصل تو یہ ہے کہ آدمی خوشی سے اپنے مال سے کچھ اللہ کو خوش کرنے کے لئے دے۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ آدمی صرف مال خرچ کرنے سے ہی نہیں بلکہ دوسری خداداد صلاحیتوں کو خرچ کرنے سے بھی صدقہ کا ثواب حاصل کر سکتا ہے۔ جیسا کہ ابوموسی اشعری نے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر مسلمان کے ذمے صدقہ ہے۔ لوگوں نے کہا: اگر وہ نہ پائے؟ فرمایا: اپنے ہاتھوں سے کام کرے اور اپنے آپ کو فائدہ پہنچائے اور صدقہ کرے۔ لوگوں نے پوچھا: اگر وہ یہ کام نہ کر سکے یا نہ کرے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کسی ضرورت مند مظلوم کی مدد کر دے انہوں نے کہا: اگر وہ یہ کام نہ کرے؟ فرمایا پھر بھلائی کا حکم دے، پوچھا: اگر یہ بھی نہ کرے؟ فرمایا پھر برائی سے باز رہے یہی اس کے لئے صدقہ ہے۔ [ صحیح بخاری 2022]
ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارا اپنے بھائی کے سامنے مسکرا دینا تمہارے لئے صدقہ ہے اور تمہارا نیکی کا حکم کرنا اور برائی سے منع کرنا تمهارے لئے صدقہ ہے اور تمہارا راستے سے پتھر، کانٹا، ہڈی ہٹانا تمہارے لئے صدقہ ہے اپنے ڈول سے اپنے بھائی کے ڈول میں پانی ڈال دینا صدقہ ہے۔“ [ترمذي البر 36]، [ صحيح الترمذي 1594 ]
[بخاري 6021]
[تحفة الاشراف 375/2 ]
فوائد:
➊ معروف کا معنی ہے پہچانا ہوا یعنی وہ کام جس کا اچھا ہونا شریعت یا عقل کے لحاظ سے جانی پہچانی بات ہے۔
➋ صدقہ کا اصل تو یہ ہے کہ آدمی خوشی سے اپنے مال سے کچھ اللہ کو خوش کرنے کے لئے دے۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ آدمی صرف مال خرچ کرنے سے ہی نہیں بلکہ دوسری خداداد صلاحیتوں کو خرچ کرنے سے بھی صدقہ کا ثواب حاصل کر سکتا ہے۔ جیسا کہ ابوموسی اشعری نے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر مسلمان کے ذمے صدقہ ہے۔ لوگوں نے کہا: اگر وہ نہ پائے؟ فرمایا: اپنے ہاتھوں سے کام کرے اور اپنے آپ کو فائدہ پہنچائے اور صدقہ کرے۔ لوگوں نے پوچھا: اگر وہ یہ کام نہ کر سکے یا نہ کرے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کسی ضرورت مند مظلوم کی مدد کر دے انہوں نے کہا: اگر وہ یہ کام نہ کرے؟ فرمایا پھر بھلائی کا حکم دے، پوچھا: اگر یہ بھی نہ کرے؟ فرمایا پھر برائی سے باز رہے یہی اس کے لئے صدقہ ہے۔ [ صحیح بخاری 2022]
ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارا اپنے بھائی کے سامنے مسکرا دینا تمہارے لئے صدقہ ہے اور تمہارا نیکی کا حکم کرنا اور برائی سے منع کرنا تمهارے لئے صدقہ ہے اور تمہارا راستے سے پتھر، کانٹا، ہڈی ہٹانا تمہارے لئے صدقہ ہے اپنے ڈول سے اپنے بھائی کے ڈول میں پانی ڈال دینا صدقہ ہے۔“ [ترمذي البر 36]، [ صحيح الترمذي 1594 ]
درج بالا اقتباس شرح بلوغ المرام من ادلۃ الاحکام کتاب الجامع، حدیث/صفحہ نمبر: 91 سے ماخوذ ہے۔
✍️ الشیخ صفی الرحمن مبارکپوری
´نیکی اور صلہ رحمی کا بیان`
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ’’ ہر بھلائی صدقہ ہے۔ “ (بخاری) «بلوغ المرام/حدیث: 1260»
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ’’ ہر بھلائی صدقہ ہے۔ “ (بخاری) «بلوغ المرام/حدیث: 1260»
تخریج:
«أخرجه البخاري، الأدب، باب كل معروف صدقة، حديث:6021.»
تشریح: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ صدقہ صرف مال خرچ کرنے کا نام ہی نہیں بلکہ ہرنیکی صدقہ ہے۔
حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’تیرا اپنے بھائی کے روبرو مسکرانا بھی صدقہ ہے۔
اور اس کی اچھے کام کی طرف رہنمائی کرنا اور غیر شرعی کام سے روکنا بھی صدقہ ہے۔
اور گم کردہ راہ گیر کو راستہ بتانا بھی صدقہ ہے یہاں تک کہ راستے سے ہڈی اور کانٹے کو اس نیت سے دور کرنا کہ راہ چلتے مسافر کے لیے باعث اذیت و تکلیف ہو گا‘ صدقہ ہے۔
اپنے ڈول سے دوسرے بھائی کے ڈول میں کچھ پانی ڈال دینا بھی صدقہ ہے۔
‘‘ (جامع الترمذي‘ البروالصلۃ‘ باب ماجاء في صنائع المعروف‘ حدیث:۱۹۵۶)
«أخرجه البخاري، الأدب، باب كل معروف صدقة، حديث:6021.»
تشریح: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ صدقہ صرف مال خرچ کرنے کا نام ہی نہیں بلکہ ہرنیکی صدقہ ہے۔
حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’تیرا اپنے بھائی کے روبرو مسکرانا بھی صدقہ ہے۔
اور اس کی اچھے کام کی طرف رہنمائی کرنا اور غیر شرعی کام سے روکنا بھی صدقہ ہے۔
اور گم کردہ راہ گیر کو راستہ بتانا بھی صدقہ ہے یہاں تک کہ راستے سے ہڈی اور کانٹے کو اس نیت سے دور کرنا کہ راہ چلتے مسافر کے لیے باعث اذیت و تکلیف ہو گا‘ صدقہ ہے۔
اپنے ڈول سے دوسرے بھائی کے ڈول میں کچھ پانی ڈال دینا بھی صدقہ ہے۔
‘‘ (جامع الترمذي‘ البروالصلۃ‘ باب ماجاء في صنائع المعروف‘ حدیث:۱۹۵۶)
درج بالا اقتباس بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 1260 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 6021 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
6021. حضرت جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے وہ نبی ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: ”ہر اچھا کام اور اچھی بات صدقہ ہے۔“[صحيح بخاري، حديث نمبر:6021]
حدیث حاشیہ:
(1)
معروف ایک ایسا جامع لفظ ہے جو ہر اللہ تعالیٰ کی اطاعت، تقریب الی اللہ اور لوگوں کے ساتھ نیکی اور احسان کرنے کو شامل ہے۔
دوسرے الفاظ میں ہر اچھا کام یا اچھی بات معروف ہے جس پر ثواب آخرت مرتب ہوتا ہو، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے: ’’نیکی کے کسی بھی کام کو حقیر خیال نہ کرو، خواہ تم اپنے بھائی کو خندہ پیشانی سے ملو۔
‘‘ (صحیح مسلم، البروالصلة، حدیث: 6690(2626)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ایک روایت میں ہے: ’’اپنے ڈول سے کسی دوسرے کے برتن میں پانی ڈالنا بھی معروف نیکی ہے۔
‘‘ (جامع الترمذي، البروالصلة، حدیث: 1970) (2)
احادیث میں اچھے کاموں اور اچھی باتوں کو صدقے سے تعبیر کیا گیا ہے جیسا کہ آئندہ حدیث میں اس کی وضاحت ہے۔
(1)
معروف ایک ایسا جامع لفظ ہے جو ہر اللہ تعالیٰ کی اطاعت، تقریب الی اللہ اور لوگوں کے ساتھ نیکی اور احسان کرنے کو شامل ہے۔
دوسرے الفاظ میں ہر اچھا کام یا اچھی بات معروف ہے جس پر ثواب آخرت مرتب ہوتا ہو، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے: ’’نیکی کے کسی بھی کام کو حقیر خیال نہ کرو، خواہ تم اپنے بھائی کو خندہ پیشانی سے ملو۔
‘‘ (صحیح مسلم، البروالصلة، حدیث: 6690(2626)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ایک روایت میں ہے: ’’اپنے ڈول سے کسی دوسرے کے برتن میں پانی ڈالنا بھی معروف نیکی ہے۔
‘‘ (جامع الترمذي، البروالصلة، حدیث: 1970) (2)
احادیث میں اچھے کاموں اور اچھی باتوں کو صدقے سے تعبیر کیا گیا ہے جیسا کہ آئندہ حدیث میں اس کی وضاحت ہے۔
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 6021 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 1970 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´خوش مزاجی اور مسکراہٹ سے ملنے کی فضیلت کا بیان۔`
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” ہر بھلائی صدقہ ہے، اور بھلائی یہ بھی ہے کہ تم اپنے بھائی سے خوش مزاجی کے ساتھ ملو اور اپنے ڈول سے اس کے ڈول میں پانی ڈال دو “ ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب البر والصلة/حدیث: 1970]
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” ہر بھلائی صدقہ ہے، اور بھلائی یہ بھی ہے کہ تم اپنے بھائی سے خوش مزاجی کے ساتھ ملو اور اپنے ڈول سے اس کے ڈول میں پانی ڈال دو “ ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب البر والصلة/حدیث: 1970]
اردو حاشہ:
وضاحت: 1؎: اس حدیث سے معلوم ہواکہ صرف مال ہی خرچ کرنا صدقہ نہیں ہے، بلکہ ہرنیکی صدقہ ہے، چنانچہ اپنے ڈول سے دوسرے بھائی کے ڈول میں کچھ پانی ڈال دینا بھی صدقہ ہے، اور دوسرے مسلمان بھائی کے سامنے مسکرانا بھی صدقہ ہے۔
وضاحت: 1؎: اس حدیث سے معلوم ہواکہ صرف مال ہی خرچ کرنا صدقہ نہیں ہے، بلکہ ہرنیکی صدقہ ہے، چنانچہ اپنے ڈول سے دوسرے بھائی کے ڈول میں کچھ پانی ڈال دینا بھی صدقہ ہے، اور دوسرے مسلمان بھائی کے سامنے مسکرانا بھی صدقہ ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1970 سے ماخوذ ہے۔