حدیث نمبر: 1251
وعن عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده رضي الله عنهم قال : قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم : « كل واشرب والبس وتصدق في غير سرف ولا مخيلة» أخرجه أبو داود وأحمد وعلقه البخاري.
ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی

´سیدنا عمرو بن شعیب رحمہ اللہ نے اپنے باپ سے اور انہوں نے اپنے دادا سے روایت کیا ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’کھا ، پی اور لباس پہن اور صدقہ کر لیکن اسراف اور فخر کے بغیر ۔ “ اس کو ابوداؤد اور احمد نے روایت کیا ہے اور بخاری نے اسے معلق بیان کیا ہے ۔

حوالہ حدیث بلوغ المرام / حدیث: 1251
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «أخرجه أحمد:2 /181، 182[والترمذي الأدب، حديث:2819 بلفظ آخر وحديثه صحيح]، والنسائي، الزكاة، حديث:2560، وابن ماجه، اللباس، حديث:3605، والبخاري تعليقًا، اللباس، قبل حديث:5783، قتادة مدلس عنعن.»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح البخاري: 5783

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عبدالسلام بھٹوی
´کھانے پینے اور پہننے میں فضول خرچی اور تکبر جائز نہیں`
«وعن عمرو بن شعيب عن ابيه عن جده رضي الله عنهم قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: ‏‏‏‏كل واشرب والبس وتصدق فى غير سرف ولا مخيلة. اخرجه ابو داود واحمد وعلقه البخاري.»
عمرو بن شعیب اپنے باپ سے وہ اپنے دادا (عبد اللہ بن عمرو) سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کھا، پی، پہن اور صدقہ کر جس میں فضول خرچی نہ ہو اور تکبر نہ ہو۔ اسے ابوداود اور احمد نے روایت کیا ہے اور بخاری نے اسے تعلیقًا (دانستہ سند حذف کر کے) روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الجامع/باب الأدب: 1251]
تخریج:
[بخاري تعليقًا اللباس باب Q5783]، [احمد 181/2، 182]، [ابو داود؟]


مفردات:
«سَرَفٌ» اور «إِسْرَافٌ» کسی بھی قول یا فعل میں حد سے گزرنا، خرچ میں حد سے تجاوز کرنے میں یہ لفظ زیادہ استعمال ہوتا ہے۔ اللہ تعالی نے مقتول کے وارثوں کو تنبیہ کرتے ہوئے فرمایا: «فَلَا يُسْرِف فِّي الْقَتْلِ» قتل کرنے میں حد سے تجاوز نہ کرے اور فرمایا: «وَكُلُوا وَاشْرَبُوا وَلَا تُسْرِفُوا» کھاؤ پیو اور حد سے نہ بڑھو۔ [فتح]

«مخيلةٌ» مصدر میمی ہے بروزن «مفعلة خيلاء» کا ہم معنی ہے یعنی تکبر۔ آدمی جب اپنے آپ میں کسی خوبی کا خیال جما لیتا ہے تو یہ بیماری پیدا ہو جاتی ہے۔ تخیل نفس میں کسی چیز کے خیال کی نقش بندی کو کہتے ہیں۔ [راغب]


فوائد:
➊ اللہ تعالیٰ نے انسان کے لیے دنیا کی ہر طیب چیز حلال فرما دی ہے کھانے کی ہو یا پینے کی ہو یا رہنے کی یا کوئی سواری ہو۔ صرف وہ چیزیں حرام فرمائیں جو خبیث ہیں اور انسان کے جسم یا عقل یا مال یا عزت یا دین کے لیے نقصان دہ ہیں کیونکہ یہ پانچوں چیزیں انسان کی عزیز ترین چیزیں ہیں اور ان کی حفاظت ضروری ہے۔

«وَيُحِلُّ لَهُمُ الطَّيِّبَاتِ وَيُحَرِّمُ عَلَيْهِمُ الْخَبَائِثَ» [7-الأعراف:157]

وہ پاکیزہ چیزیں ان کے لئے حلال کرتا ہے اور گندی چیزیں ان پر حرام کرتا ہے۔

➋ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ دنیا کی ہر مباح چیز انسان استعمال کر سکتا ہے اور جتنی چاہے استعمال کر سکتا ہے یہ نہیں کہ فلاں تو کر سکتا ہے اور فلاں نہیں اور اتنی کر سکتا ہے اور اتنی نہیں: «هُوَ الَّذِي خَلَقَ لَكُم مَّا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا» [2-البقرة:29]

وہی ذات ہے جس نے دنیا کی سب چیزیں تمہارے لیے بنائیں۔

«قُلْ مَنْ حَرَّمَ زِينَةَ اللَّـهِ الَّتِي أَخْرَجَ لِعِبَادِهِ وَالطَّيِّبَاتِ مِنَ الرِّزْقِ» [7-الأعراف:32]

تو کہہ جس زینت کو اللہ نے اپنے بندوں کے لئے پیدا کیا اس کو اور پاکیزہ رزق کو کس نے حرام کیا ہے۔

➌ یہ حلال چیزیں اس وقت ناجائز ہوں گی جب وہ ضرورت کی حد سے تجاوز کر جائیں مثلاً اتنا کھانا یا پینا جو جسم کے لئے وبال بن جائے اور صحت کو نقصان پہنچائے یا کھانے پینے یا صدقہ کرنے میں اتنا خرچ کر دینا جو استطاعت سے زیادہ ہو پھر زیربار ہو کر پریشان رہنا یا کھانے پینے، پہننے یا صدقہ کرنے میں نمود و نمائش اور لوگوں سے اونچا ہونے کا مقصد دل میں رکھنا ان سب چیزوں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا: ➍ کھانے پینے کی حد جس سے گزرنا نہیں چاہئیے ترمذی کی ایک حدیث میں بیان ہوئی ہے مقدام بن معدی کرب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «ما ملا آدمي وعاء شرا من بطن بحسب ابن آدم اكلات يقمن صلبه فإن كان لا محالة فثلث لطعامه وثلث لشرابه وثلث لنفسه»

کسی آدمی نے کوئی برتن نہیں بھرا جو پیٹ سے زیادہ برا ہو ابن آدم کے لئے چند لقمے کافی ہیں جو اس کی پیٹھ کو سیدھا رکھیں پس اگر اسے (زیادہ کھائے بغیر) کوئی چارہ ہی نہ ہو تو تیسرا حصہ کھانے کے لئے ہے اور تیسرا پینے کے لئے اور تیسرا سانس کے لیے۔ [ترمذي/الزهد 47 حديث صحيح ديكهيے صحيح الترمذي 1939]

اگر زیادہ دیر کا بھوکا پیاسا ہو تو زیادہ بھی کھا پی سکتا ہے جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو سخت بھوک کے بعد بار بار دودھ پینے کے لیے کہا یہاں تک کہ انہوں نے کہا «لا والذي بعثك بالحق ما اجد له مسلكا» اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے میں اس کے داخل ہونے کے لئے (پیٹ میں) کوئی جگہ نہیں پاتا۔ [صحيح بخاري 6452]

➎ لباس میں حد سے گزرنا یہ ہے کہ ٹخنوں سے نیچے ہو یا ریشم کا ہو یا عورتوں کے مشابہ ہو یا اس میں کفار سے مشابہت ہو۔

➏ صدقے میں اسراف کی وضاحت اللہ تعالیٰ کے اس فرمان سے ہوتی ہے: «وَلَا تَجْعَلْ يَدَكَ مَغْلُولَةً إِلَى عُنُقِكَ وَلَا تَبْسُطْهَا كُلَّ الْبَسْطِ فَتَقْعُدَ مَلُومًا مَّحْسُورًا» [17-الإسراء:29]

اور نہ اپنے ہاتھ کو گردن کی طرف طوق سے بندھا ہوا بنا لو اور نہ اسے پورا ہی کھول دو ورنہ اس حال میں بیٹھ رہو گے کہ ملامت کئے ہوئے تھک کر رہ جانے والے ہو گے۔

حقیقت یہ ہے کہ اس آیت میں صدقہ کے علاوہ کھانے پینے، پہننے اور دوسرے کاموں میں خرچ کی وہ حد بیان کی گئی ہے جس سے آدمی بڑھتا ہے تو اسراف میں داخل ہو جاتا ہے۔
درج بالا اقتباس شرح بلوغ المرام من ادلۃ الاحکام کتاب الجامع، حدیث/صفحہ نمبر: 61 سے ماخوذ ہے۔

✍️ الشیخ صفی الرحمن مبارکپوری
´ادب کا بیان`
سیدنا عمرو بن شعیب رحمہ اللہ نے اپنے باپ سے اور انہوں نے اپنے دادا سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’کھا، پی اور لباس پہن اور صدقہ کر لیکن اسراف اور فخر کے بغیر۔ اس کو ابوداؤد اور احمد نے روایت کیا ہے اور بخاری نے اسے معلق بیان کیا ہے۔ «بلوغ المرام/حدیث: 1251»
تخریج:
«أخرجه أحمد:2 /181، 182«والترمذي الأدب، حديث:2819 بلفظ آخر وحديثه صحيح» ، والنسائي، الزكاة، حديث:2560، وابن ماجه، اللباس، حديث:3605، والبخاري تعليقًا، اللباس، قبل حديث:5783، قتادة مدلس عنعن.»
تشریح: 1. مذکورہ روایت کو ہمارے فاضل محقق نے سنداً ضعیف قرار دیا ہے جبکہ دیگر محققین نے اسے دیگر شواہد کی بنا پر صحیح قرار دیا ہے‘ نیز امام بخاری رحمہ اللہ نے بھی اپنی صحیح میں اسے تعلیقاً بیان کیا ہے۔
بنابریں مذکورہ روایت سنداً ضعیف ہونے کے باوجود دیگر شواہد کی بنا پر قابل عمل اور قابل حجت ہے۔
واللّٰہ أعلم۔
مزید دیکھیے: (الموسوعۃ الحدیثیۃ مسند الإمام أحمد:۱۱ /۲۹۴‘ ۲۹۵‘ وھدایۃ الرواۃ:۴ /۲۱۷‘ ۲۱۸) 2. اس حدیث میں اسراف اور تکبر سے منع کیا گیا ہے‘ خواہ اس کا تعلق کھانے پینے سے ہو‘ لباس سے ہو یا صدقہ و خیرات سے۔
یہ دونوں بہر آئینہ ناجائز ہیں کیونکہ کسی بھی چیز میں اسراف‘ جسم وجان اور معیشت کے لیے ضرر رساں ہوتا ہے اور انسان کو ہلاکت کے دہانے پر پہنچا دیتا ہے اور اس سے انسان کا نفس برباد ہو جاتا ہے۔
اور تکبر بھی انسان میں چونکہ خود پسندی اور اتراہٹ پیدا کرتا ہے‘ اس لیے یہ بھی دنیا و آخرت میں نقصان دہ ہے۔
آخرت کے اعتبار سے تو اس طرح کہ انسان کبیرہ گناہ کا مرتکب ٹھہرتا ہے اور دنیا میں اس طرح کہ ایسا انسان لوگوں کی نظروں میں مبغوض اور حقیر بن کر رہ جاتا ہے۔
درج بالا اقتباس بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 1251 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 5783 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
5783. حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اس شخص کی طرف نطر رحمت سے نہیں دیکھے گا جو تکبر کرتے ہوئے اپنے کپڑے کو زمین پر گھسیٹ کر چلتا ہے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:5783]
حدیث حاشیہ: لباس کا اسراف یہ ہے کہ بے فائدہ کپڑا خراب کرے ایک ایک تھان کے عمامے باندھے، اس سے یہ بھی ظاہر ہوا کہ کپڑا لٹکانے میں تکبر اور غرور کو بڑا دخل ہے یہ بہت ہی بری عادت ہے تکبر اور غرور کے ساتھ کتنی ہی نیکی ہو لیکن آدمی نجات نہیں پا سکے گا اور عاجزی اور فروتنی کے ساتھ کتنے بھی گناہ ہوں لیکن مغفرت کی امید ہے۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 5783 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 5783 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
5783. حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اس شخص کی طرف نطر رحمت سے نہیں دیکھے گا جو تکبر کرتے ہوئے اپنے کپڑے کو زمین پر گھسیٹ کر چلتا ہے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:5783]
حدیث حاشیہ:
(1)
کپڑا گھسیٹ کر چلنا انتہائی معیوب ہے۔
اس میں چادر، قمیص، شلوار، جبہ، کوٹ اور پگڑی وغیرہ شامل ہیں۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے: ’’حد سے زیادہ کپڑا لٹکانا تہ بند، قمیص اور پگڑی تمام میں ممنوع ہے۔
‘‘ (سنن أبي داود، اللباس، حدیث: 4094)
یہ اسراف ہے اور تکبر کی علامت قرار دیا گیا ہے جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص سے فرمایا تھا: ’’ٹخنوں سے نیچے چادر لٹکانے سے بچنا کیونکہ یہ تکبر کی علامت ہے اور اللہ تعالیٰ تکبر کو پسند نہیں کرتا۔
‘‘ (سنن أبي داود، اللباس، حدیث: 4084)
البتہ عورتوں کو ٹخنوں سے نیچے کپڑا لٹکانے کی اجازت ہے۔
(2)
گویا اس انداز میں نسوانیت کا پہلو بھی ہے جو مردوں کو زیب نہیں دیتا۔
مردوں کو چاہیے کہ وہ اپنے لباس میں مردانہ صفات کا اظہار کریں، جن میں سے ایک یہ ہے کہ تہ بند اور شلوار وغیرہ ٹخنوں سے اونچی ہو۔
اس کی مزید وضاحت آئندہ ہو گی۔
بہرحال مسلمانوں کو اپنے لباس میں اسراف اور تکبر سے بچنا چاہیے۔
واللہ أعلم
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 5783 سے ماخوذ ہے۔