حدیث نمبر: 1250
وعنه رضي الله عنه أن رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم قال : « إذا أكل أحدكم فليأكل بيمينه وإذا شرب فليشرب بيمينه فإن الشيطان يأكل بشماله ويشرب بشماله » أخرجه مسلم.
ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی

´سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ` سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’جب بھی تم میں سے کوئی کھانا کھائے تو اسے اپنے دائیں ہاتھ سے کھانا چاہیئے اور جب کوئی مشروب نوش کرے تو اسے دائیں ہاتھ سے نوش کرنا چاہیئے ۔ اس لئے کہ شیطان اپنے بائیں ہاتھ سے کھاتا ہے اور بائیں ہی سے پیتا ہے ۔ ‘‘ ( مسلم )

حوالہ حدیث بلوغ المرام / حدیث: 1250
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم، الأشربة، باب آداب الطعام والشراب وأحكامهما، حديث:2020.»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عبدالسلام بھٹوی
´دائیں ہاتھ سے کھانا پینا`
«وعنه رضى الله عنه ان رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم قال: ‏‏‏‏إذا اكل احدكم فلياكل بيمينه وإذا شرب فليشرب بيمينه فإن الشيطان ياكل بشماله ويشرب بشماله. اخرجه مسلم» ‏‏‏‏
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے ہی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی کھائے تو اپنے دائیں ہاتھ کے ساتھ کھائے اور جب پئے تو دائیں ہاتھ کے ساتھ پئے کیونکہ شیطان اپنے بائیں ہاتھ کے ساتھ کھاتا ہے اور بائیں کے ساتھ پیتا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الجامع/باب الأدب: 1250]
تخریج:
[مسلم الاشربة 5265]، [تحفة الاشرف 267/6، 140/6، 400/5]


فوائد:
➊ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ بائیں ہاتھ سے کھانا پینا حرام ہے کیونکہ اس میں شیطان کے ساتھ مشابہت پائی جاتی ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «من تشبه بقوم فهو منهم» جو شخص کسی قوم کے ساتھ مشابہت اختیار کرے وہ انہیں میں سے ہے۔ [ابوداؤد عن ابن عمر لباس 4] اور دیکھئیے [صحيح ابي داود 3401] جب فاسق و فاجر لوگوں کی مشابہت حرام ہے تو شیطان کی مشابہت تو بدرجہ اولیٰ حرام ہے۔

➋ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ربیب عمر بن ابی سلمہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا: «يا غلام سم الله وكل بيمينك وكل مما يليك» لڑکے بسم اللہ پڑھ اور اپنے دائیں ہاتھ سے کھا اور اپنے سامنے سے کھا۔ [صحيح بخاري/الاطعمة 3]

ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بائیں ہاتھ سے کھانے لگا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دائیں ہاتھ سے کھاؤ۔ اس نے کہا میں اس سے نہیں کھا سکتا اس نے یہ بات صرف تکبر کی وجہ سے کہی تھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم نہ ہی کھا سکو تو اس کے بعد وہ اپنا دایاں ہاتھ اپنے منہ کی طرف نہیں اٹھا سکا۔ [مسلم عن سلمة بن الاكوع الاشربة 107]
درج بالا اقتباس شرح بلوغ المرام من ادلۃ الاحکام کتاب الجامع، حدیث/صفحہ نمبر: 60 سے ماخوذ ہے۔

✍️ الشیخ صفی الرحمن مبارکپوری
´ادب کا بیان`
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جب بھی تم میں سے کوئی کھانا کھائے تو اسے اپنے دائیں ہاتھ سے کھانا چاہیئے اور جب کوئی مشروب نوش کرے تو اسے دائیں ہاتھ سے نوش کرنا چاہیئے۔ اس لئے کہ شیطان اپنے بائیں ہاتھ سے کھاتا ہے اور بائیں ہی سے پیتا ہے۔ ‘‘ (مسلم) «بلوغ المرام/حدیث: 1250»
تخریج:
«أخرجه مسلم، الأشربة، باب آداب الطعام والشراب وأحكامهما، حديث:2020.»
تشریح: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ کھانا پینا دائیں ہاتھ سے ہونا چاہیے۔
بلاعذر بائیں ہاتھ سے کھانا پینا حرام ہے اور شیطان سے مشابہت ہے۔
درج بالا اقتباس بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 1250 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 2020 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
حضرت سالم اپنے باپ سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’تم میں سے کوئی ہرگز اپنے بائیں ہاتھ سے نہ کھائے اور نہ ہرگز اس سے پیے، کیونکہ شیطان اپنے بائیں سے کھاتا اور اس سے پیتا ہے۔‘‘ اور نافع اس میں یہ اضافہ کرتے تھے: ’’نہ بائیں سے پکڑے اور نہ اس سے دے۔‘‘ ابو طاہر کی روایت میں، لا يأكلن أحد منكم [صحيح مسلم، حديث نمبر:5267]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ کوئی چیز لیتے دیتے وقت بھی بایاں ہاتھ نہیں استعمال کرنا چاہیے اور شیطان کا بھی ہاتھ ہے، اس لیے آپ نے اس کو پکڑ لیا تھا۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2020 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 2020 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جب تم میں سے کوئی کھائے تو دائیں ہاتھ سے کھائے اور جب پیے تو دائیں ہاتھ سے پیے کیونکہ شیطان اپنے بائیں ہاتھ سے کھاتا اور اپنے بائیں سے پیتا ہے۔‘‘ [صحيح مسلم، حديث نمبر:5265]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: اس حدیث سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ انسان کے لیے دائیں ہاتھ سے کھانا اور دائیں ہاتھ سے پینا لازم ہے اور بائیں ہاتھ سے کھانا پینا شیطانی کام ہے، اس لیے جائز نہیں ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر معاملہ میں دائیں ہاتھ سے آغاز فرماتے تھے، ہر کام میں تیامن کو پسند فرماتے، جو یمین اور برکت پر دلالت کرتا ہے اور اس سے یہ بھی معلوم ہوتا، فاسق اور فاجر لوگوں کی عادات و خصائل سے بچنا ضروری ہے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2020 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 1799 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´بائیں ہاتھ سے کھانے پینے کی ممانعت کا بیان۔`
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی آدمی نہ بائیں ہاتھ سے کھائے اور نہ بائیں ہاتھ سے پیئے، اس لیے کہ شیطان اپنے بائیں ہاتھ سے کھاتا ہے اور بائیں ہاتھ سے پیتا ہے ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الأطعمة/حدیث: 1799]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ دائیں ہاتھ سے کھانا پینا ضروری ہے، اور بائیں ہاتھ سے مکروہ ہے، البتہ کسی عذر کی صورت میں بائیں کا استعمال کھانے پینے کے لیے جائز ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1799 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 3776 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´دائیں ہاتھ سے کھانے کا بیان۔`
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص کھانا کھائے تو اسے چاہیئے کہ داہنے ہاتھ سے کھائے، اور جب پانی پیے تو داہنے ہاتھ سے پیئے اس لیے کہ شیطان اپنے بائیں ہاتھ سے کھاتا اور پیتا ہے۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كتاب الأطعمة /حدیث: 3776]
فوائد ومسائل:
فائدہ: دایئں ہاتھ سے کھانا پینا واجب ہے۔
نیز برے لوگوں کی مشابہت سے بچنا بھی لازم ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3776 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: موطا امام مالك رواية ابن القاسم / حدیث: 399 کی شرح از حافظ زبیر علی زئی ✍️
´کھانا دائیں ہاتھ سے کھانا چاہئے`
«. . . ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: إذا اكل احدكم فلياكل بيمينه وليشرب بيمينه، فإن الشيطان ياكل بشماله ويشرب بشماله . . .»
. . . رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص کھائے تو دائیں ہاتھ سے کھائے اور (پئیے تو) اپنے دائیں ہاتھ سے پئیے کیونکہ شیطان بائیں ہاتھ سے کھاتا اور بائیں ہاتھ سے پیتا ہے . . . [موطا امام مالك رواية ابن القاسم: 399]
تخریج الحدیث:
[وأخرجه مسلم 2020، من حديث ما لك به]
تفقه:
➊ معلوم ہوا کہ بغیر شرقی عذر کے بائیں ہاتھ سے کھانا پینا منع ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بائیں ہاتھ سے کھانا کھانے اور ایک جوتی میں چلنے سے منع فرمایا ہے۔ دیکھئے: [الموطأ ح:104، وصحيح مسلم 2099/70]
➋ کھانے پینے اور تمام امور دنیا میں آداب شریعت کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔
➌ شیاطین جنات کھاتے اور پیتے ہیں۔
➍ بلاعذر بائیں ہاتھ سے کھانا پینا شیطان کا طریقہ ہے۔
درج بالا اقتباس موطا امام مالک روایۃ ابن القاسم شرح از زبیر علی زئی، حدیث/صفحہ نمبر: 62 سے ماخوذ ہے۔