حدیث کتب › بلوغ المرام ›
حدیث نمبر: 1234
وعن ابن عباس رضي الله عنهما قال : قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم : « أيما أمة ولدت من سيدها فهي حرة بعد موته ». أخرجه ابن ماجه والحاكم بإسناد ضعيف ورجح جماعة وقفه على عمر رضي الله عنه.ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی
´سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’ جس لونڈی نے اپنے آقا و مالک کے نطفہ سے بچہ جنا تو وہ مالک کی وفات کے بعد آزاد ہے ۔ ‘‘ اس کی روایت ابن ماجہ اور حاکم نے ضعیف سند سے کی ہے اور ایک جماعت نے اس کے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ پر موقوف ہونے کو ترجیح دی ہے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ صفی الرحمن مبارکپوری
´مدبر، مکاتب اور ام ولد کا بیان`
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’ جس لونڈی نے اپنے آقا و مالک کے نطفہ سے بچہ جنا تو وہ مالک کی وفات کے بعد آزاد ہے۔ ‘‘ اس کی روایت ابن ماجہ اور حاکم نے ضعیف سند سے کی ہے اور ایک جماعت نے اس کے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ پر موقوف ہونے کو ترجیح دی ہے۔ «بلوغ المرام/حدیث: 1234»
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’ جس لونڈی نے اپنے آقا و مالک کے نطفہ سے بچہ جنا تو وہ مالک کی وفات کے بعد آزاد ہے۔ ‘‘ اس کی روایت ابن ماجہ اور حاکم نے ضعیف سند سے کی ہے اور ایک جماعت نے اس کے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ پر موقوف ہونے کو ترجیح دی ہے۔ «بلوغ المرام/حدیث: 1234»
تخریج:
«أخرجه ابن ماجه، العتق، باب أمهات الأولاد، حديث:2515، والحاكم:2 /19 وصححه، فتعقبه الذهبي بقوله: "حسين بن عبدالله متروك" وتلميذه عنعن.»
تشریح: مذکورہ روایت سنداً ضعیف ہے‘ تاہم دیگر دلائل سے یہی مسئلہ راجح اور درست معلوم ہوتا ہے کہ ام ولد اپنے آقا کی وفات کے بعد ازخود آزاد ہو جاتی ہے۔
واللّٰہ أعلم۔
«أخرجه ابن ماجه، العتق، باب أمهات الأولاد، حديث:2515، والحاكم:2 /19 وصححه، فتعقبه الذهبي بقوله: "حسين بن عبدالله متروك" وتلميذه عنعن.»
تشریح: مذکورہ روایت سنداً ضعیف ہے‘ تاہم دیگر دلائل سے یہی مسئلہ راجح اور درست معلوم ہوتا ہے کہ ام ولد اپنے آقا کی وفات کے بعد ازخود آزاد ہو جاتی ہے۔
واللّٰہ أعلم۔
درج بالا اقتباس بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 1234 سے ماخوذ ہے۔