حدیث کتب › بلوغ المرام ›
حدیث نمبر: 1232
وعن ابن عباس رضي الله عنهما أن النبي صلى الله عليه وآله وسلم قال: « يودى المكاتب بقدر ما عتق منه دية الحر وبقدر ما رق منه دية العبد » رواه أحمد وأبو داود والنسائي.ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی
´سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ’’ مکاتب جتنا آزاد ہے اس قدر آزاد کی دیت ادا کرے گا اور جتنا غلام ہے اس قدر غلام کی ۔ ‘‘ اسے احمد ، نسائی اور ابوداؤد نے روایت کیا ہے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 4582 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´مکاتب غلام کی دیت کا بیان۔`
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " جب مکاتب کوئی حد کا کام کرے یا ترکے کا وارث ہو تو جس قدر آزاد ہوا ہے وہ اسی قدر وارث ہو گا۔" ابوداؤد کہتے ہیں: اسے وہیب نے ایوب سے، ایوب نے عکرمہ سے، عکرمہ نے علی رضی اللہ عنہ سے اور علی نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرفوعاً روایت کیا ہے۔ اور حماد بن زید اور اسماعیل نے ایوب سے، ایوب نے عکرمہ سے اور عکرمہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرسلاً روایت کیا ہے۔ اور اسماعیل بن علیہ نے اسے عکرمہ کا قول قرار دیا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الديات /حدیث: 4582]
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " جب مکاتب کوئی حد کا کام کرے یا ترکے کا وارث ہو تو جس قدر آزاد ہوا ہے وہ اسی قدر وارث ہو گا۔" ابوداؤد کہتے ہیں: اسے وہیب نے ایوب سے، ایوب نے عکرمہ سے، عکرمہ نے علی رضی اللہ عنہ سے اور علی نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرفوعاً روایت کیا ہے۔ اور حماد بن زید اور اسماعیل نے ایوب سے، ایوب نے عکرمہ سے اور عکرمہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرسلاً روایت کیا ہے۔ اور اسماعیل بن علیہ نے اسے عکرمہ کا قول قرار دیا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الديات /حدیث: 4582]
فوائد ومسائل:
اسلام نے جس انداز سے غلاموں کے حقوق کا تحفظ کیا ہے کسی اور ملت میں نہیں ہے۔
غلام اگر آدھا آزاد ہو چکا ہو غلام ہو تو آدھی دیت آزاد کی اور باقی غلام کی ادا کی جائے گی۔
اسی طرح امور باقی امور میں بھی ہے۔
اسلام نے جس انداز سے غلاموں کے حقوق کا تحفظ کیا ہے کسی اور ملت میں نہیں ہے۔
غلام اگر آدھا آزاد ہو چکا ہو غلام ہو تو آدھی دیت آزاد کی اور باقی غلام کی ادا کی جائے گی۔
اسی طرح امور باقی امور میں بھی ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4582 سے ماخوذ ہے۔