حدیث کتب › بلوغ المرام ›
حدیث نمبر: 1228
وعن ابن عمر رضي الله عنهما قال : قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم : « الولاء لحمة كلحمة النسب لا يباع ولا يوهب » رواه الشافعي وصححه ابن حبان والحاكم وأصله في الصحيحين بغير هذا اللفظ.ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی
´سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’ ولاء بھی نسب کی طرح ایک تعلق ہے جسے نہ فروخت کیا جا سکتا ہے اور نہ ہبہ کیا جا سکتا ہے ۔ “ اسے شافعی نے روایت کیا ہے اور ابن حبان اور حاکم نے اسے صحیح قرار دیا ہے اور صحیحین میں اس کا اصل ہے جس کے الفاظ یہ نہیں ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ صفی الرحمن مبارکپوری
´(آزادی کے متعلق احادیث)`
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’ ولاء بھی نسب کی طرح ایک تعلق ہے جسے نہ فروخت کیا جا سکتا ہے اور نہ ہبہ کیا جا سکتا ہے۔ " اسے شافعی نے روایت کیا ہے اور ابن حبان اور حاکم نے اسے صحیح قرار دیا ہے اور صحیحین میں اس کا اصل ہے جس کے الفاظ یہ نہیں۔ «بلوغ المرام/حدیث: 1228»
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’ ولاء بھی نسب کی طرح ایک تعلق ہے جسے نہ فروخت کیا جا سکتا ہے اور نہ ہبہ کیا جا سکتا ہے۔ " اسے شافعی نے روایت کیا ہے اور ابن حبان اور حاکم نے اسے صحیح قرار دیا ہے اور صحیحین میں اس کا اصل ہے جس کے الفاظ یہ نہیں۔ «بلوغ المرام/حدیث: 1228»
تخریج:
«تقدم:816.»
تشریح: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ آزاد کرنے والا‘ ولا کے تعلق کی بنا پر اسی طرح میراث کا مستحق ٹھہرتا ہے جس طرح نسب کا قریبی اس کا مستحق ہوتا ہے۔
اور جس طرح باپ بیٹے اور بھائی بھائی کا ایسا تعلق ہے جو ناقابل فروخت ہے اور ہبہ بھی نہیں ہو سکتا، اسی طرح تعلق ولا بھی فروخت کیا جا سکتا ہے نہ ہبہ کیا جا سکتا ہے۔
جمہور علماء کا یہی مسلک ہے۔
«تقدم:816.»
تشریح: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ آزاد کرنے والا‘ ولا کے تعلق کی بنا پر اسی طرح میراث کا مستحق ٹھہرتا ہے جس طرح نسب کا قریبی اس کا مستحق ہوتا ہے۔
اور جس طرح باپ بیٹے اور بھائی بھائی کا ایسا تعلق ہے جو ناقابل فروخت ہے اور ہبہ بھی نہیں ہو سکتا، اسی طرح تعلق ولا بھی فروخت کیا جا سکتا ہے نہ ہبہ کیا جا سکتا ہے۔
جمہور علماء کا یہی مسلک ہے۔
درج بالا اقتباس بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 1228 سے ماخوذ ہے۔