حدیث کتب › بلوغ المرام ›
حدیث نمبر: 1226
وعن سفينة رضي الله عنه قال : كنت مملوكا لأم سلمة فقالت : أعتقك وأشترط عليك أن تخدم رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم ما عشت. رواه أحمد وأبو داود والنسائي والحاكم.ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی
´سیدنا سفینہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` میں ام سلمہ رضی اللہ عنہا کا غلام تھا ، انہوں نے مجھے کہا کہ میں تجھے اس شرط پر آزاد کرتی ہوں کہ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تاحیات خدمت بجا لاتا رہے ۔ اسے احمد ، ابوداؤد ، نسائی اور حاکم نے روایت کیا ہے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ صفی الرحمن مبارکپوری
´(آزادی کے متعلق احادیث)`
سیدنا سفینہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں ام سلمہ رضی اللہ عنہا کا غلام تھا، انہوں نے مجھے کہا کہ میں تجھے اس شرط پر آزاد کرتی ہوں کہ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تاحیات خدمت بجا لاتا رہے۔ اسے احمد، ابوداؤد، نسائی اور حاکم نے روایت کیا ہے۔ «بلوغ المرام/حدیث: 1226»
سیدنا سفینہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں ام سلمہ رضی اللہ عنہا کا غلام تھا، انہوں نے مجھے کہا کہ میں تجھے اس شرط پر آزاد کرتی ہوں کہ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تاحیات خدمت بجا لاتا رہے۔ اسے احمد، ابوداؤد، نسائی اور حاکم نے روایت کیا ہے۔ «بلوغ المرام/حدیث: 1226»
تخریج:
«أخرجه أبوداود، العتق، باب في العتق علي الشرط، حديث:3932، والنسائي في الكبرٰي:3 /190، حديث:4995، وابن ماجه، العتق، حديث:2526، وأحمد:5 /221، 6 /319.»
تشریح: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ آزادی کا پروانہ مشروط طور پر بھی دینا جائز ہے اور غلام سے تاحیات کسی کی خدمت کی شرط لگانا بھی درست ہے۔
«أخرجه أبوداود، العتق، باب في العتق علي الشرط، حديث:3932، والنسائي في الكبرٰي:3 /190، حديث:4995، وابن ماجه، العتق، حديث:2526، وأحمد:5 /221، 6 /319.»
تشریح: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ آزادی کا پروانہ مشروط طور پر بھی دینا جائز ہے اور غلام سے تاحیات کسی کی خدمت کی شرط لگانا بھی درست ہے۔
درج بالا اقتباس بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 1226 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 3932 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´شرط لگا کر غلام آزاد کرنے کا بیان۔`
سفینہ کہتے ہیں کہ میں ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کا غلام تھا، وہ مجھ سے بولیں: میں تمہیں آزاد کرتی ہوں، اور شرط لگاتی ہوں کہ تم جب تک زندہ رہو گے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کرتے رہو گے، تو میں نے ان سے کہا: اگر آپ مجھ سے یہ شرط نہ بھی لگاتیں تو بھی میں جیتے جی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت سے جدا نہ ہوتا، پھر انہوں نے مجھے اسی شرط پر آزاد کر دیا۔ [سنن ابي داود/كتاب العتق /حدیث: 3932]
سفینہ کہتے ہیں کہ میں ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کا غلام تھا، وہ مجھ سے بولیں: میں تمہیں آزاد کرتی ہوں، اور شرط لگاتی ہوں کہ تم جب تک زندہ رہو گے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کرتے رہو گے، تو میں نے ان سے کہا: اگر آپ مجھ سے یہ شرط نہ بھی لگاتیں تو بھی میں جیتے جی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت سے جدا نہ ہوتا، پھر انہوں نے مجھے اسی شرط پر آزاد کر دیا۔ [سنن ابي داود/كتاب العتق /حدیث: 3932]
فوائد ومسائل:
غلام کو قابل عمل عمدہ شرط پر آزاد کرنا جائز ہے۔
اور کیا عمدہ شرط تھی جو ام المومنین سیدہ ام سلمہ نے کی اور حضرت سفینہ قبول کیا۔
غلام کو قابل عمل عمدہ شرط پر آزاد کرنا جائز ہے۔
اور کیا عمدہ شرط تھی جو ام المومنین سیدہ ام سلمہ نے کی اور حضرت سفینہ قبول کیا۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3932 سے ماخوذ ہے۔