حدیث کتب › بلوغ المرام ›
حدیث نمبر: 1225
وعن عمران بن حصين رضي الله عنهما : أن رجلا أعتق ستة مملوكين له عند موته لم يكن له مال غيرهم فدعا بهم رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم فجزأهم أثلاثا ثم أقرع بينهم فأعتق اثنين وأرق أربعة وقال له قولا شديدا . رواه مسلم.ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی
´سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ` ایک آدمی نے اپنی موت کے وقت اپنے چھ غلام آزاد کر دیئے ۔ ان غلاموں کے علاوہ اس کا کوئی اور مال نہیں تھا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو طلب فرمایا اور ان کے تین حصے کئے پھر ان میں قرعہ اندازی فرمائی ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو غلاموں ( ایک تہائی ) کو آزاد فرما دیا اور باقی چار کو غلام رہنے دیا اور آزاد کرنے والے کے حق میں سخت کلمہ بھی فرمایا ۔ ( مسلم )
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ صفی الرحمن مبارکپوری
´(آزادی کے متعلق احادیث)`
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے اپنی موت کے وقت اپنے چھ غلام آزاد کر دیئے۔ ان غلاموں کے علاوہ اس کا کوئی اور مال نہیں تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو طلب فرمایا اور ان کے تین حصے کئے پھر ان میں قرعہ اندازی فرمائی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو غلاموں (ایک تہائی) کو آزاد فرما دیا اور باقی چار کو غلام رہنے دیا اور آزاد کرنے والے کے حق میں سخت کلمہ بھی فرمایا۔ (مسلم) «بلوغ المرام/حدیث: 1225»
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے اپنی موت کے وقت اپنے چھ غلام آزاد کر دیئے۔ ان غلاموں کے علاوہ اس کا کوئی اور مال نہیں تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو طلب فرمایا اور ان کے تین حصے کئے پھر ان میں قرعہ اندازی فرمائی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو غلاموں (ایک تہائی) کو آزاد فرما دیا اور باقی چار کو غلام رہنے دیا اور آزاد کرنے والے کے حق میں سخت کلمہ بھی فرمایا۔ (مسلم) «بلوغ المرام/حدیث: 1225»
تخریج:
«أخرجه مسلم، الأيمان، باب من أعتق شركًا له في عبد، حديث:1668.»
تشریح: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ مرض الموت میں صدقے کی حیثیت وصیت کی ہوتی ہے اور مرنے والا شرعاً ترکے کی ایک تہائی وصیت کرنے کا مجاز ہے اس سے زائد نہیں اور اگر مرنے والا مرض الموت میں اس سے زائد کا صدقہ یا وصیت کر گیا تو وہ نافذ العمل نہیں ہوگا بلکہ اس کی اصلاح کی جائے گی۔
«أخرجه مسلم، الأيمان، باب من أعتق شركًا له في عبد، حديث:1668.»
تشریح: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ مرض الموت میں صدقے کی حیثیت وصیت کی ہوتی ہے اور مرنے والا شرعاً ترکے کی ایک تہائی وصیت کرنے کا مجاز ہے اس سے زائد نہیں اور اگر مرنے والا مرض الموت میں اس سے زائد کا صدقہ یا وصیت کر گیا تو وہ نافذ العمل نہیں ہوگا بلکہ اس کی اصلاح کی جائے گی۔
درج بالا اقتباس بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 1225 سے ماخوذ ہے۔