حدیث کتب › بلوغ المرام ›
حدیث نمبر: 1218
وعن ابن عمر رضي الله عنهماأن النبي صلى الله عليه وآله وسلم رد اليمين على طالب الحق . رواهما الدارقطني في إسنادهما ضعف.ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی
´سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدعی پر قسم ڈال دی ۔ ان دونوں احادیث کو دارقطنی نے روایت کیا ہے اور دونوں کی سند میں ضعف ہے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ صفی الرحمن مبارکپوری
´دعویٰ اور دلائل کا بیان`
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدعی پر قسم ڈال دی۔ ان دونوں احادیث کو دارقطنی نے روایت کیا ہے اور دونوں کی سند میں ضعف ہے۔ «بلوغ المرام/حدیث: 1218»
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدعی پر قسم ڈال دی۔ ان دونوں احادیث کو دارقطنی نے روایت کیا ہے اور دونوں کی سند میں ضعف ہے۔ «بلوغ المرام/حدیث: 1218»
تخریج:
«أخرجه الدارقطني:4 /213، محمد بن مسروق لا يعرف، وفيه علة أخري.»
تشریح: مذکورہ روایت سنداً ضعیف ہے‘ تاہم مسئلہ اسی طرح ہے کہ مدعی کے پاس اگر کوئی ثبوت نہ ہو تو مدعا علیہ کو قسم کھانا پڑے گی اور اگر وہ قسم کھانے سے بھی انکار کر دے تو ایسی صورت میں مدعی سے قسم کھانے کے لیے کہا جائے گا اگر وہ قسم کھا لے گا تو متنازع فیہ چیز اسے دے دی جائے گی۔
«أخرجه الدارقطني:4 /213، محمد بن مسروق لا يعرف، وفيه علة أخري.»
تشریح: مذکورہ روایت سنداً ضعیف ہے‘ تاہم مسئلہ اسی طرح ہے کہ مدعی کے پاس اگر کوئی ثبوت نہ ہو تو مدعا علیہ کو قسم کھانا پڑے گی اور اگر وہ قسم کھانے سے بھی انکار کر دے تو ایسی صورت میں مدعی سے قسم کھانے کے لیے کہا جائے گا اگر وہ قسم کھا لے گا تو متنازع فیہ چیز اسے دے دی جائے گی۔
درج بالا اقتباس بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 1218 سے ماخوذ ہے۔