حدیث کتب › بلوغ المرام ›
حدیث نمبر: 1211
وعن أبي هريرة رضي الله عنه أن النبي صلى الله عليه وآله وسلم عرض على قوم اليمين فأسرعوا فأمر أن يسهم بينهم في اليمين أيهم يحلف . رواه البخاري.ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی
´سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک قوم پر قسم پیش کی تو وہ قسم کھانے پر فوراً تیار ہو گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم فرمایا کہ ’’ ان لوگوں میں قرعہ اندازی کی جائے کہ کون ان میں سے قسم کھائے گا ۔ “ ( بخاری )
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ صفی الرحمن مبارکپوری
´دعویٰ اور دلائل کا بیان`
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک قوم پر قسم پیش کی تو وہ قسم کھانے پر فوراً تیار ہو گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم فرمایا کہ ’’ ان لوگوں میں قرعہ اندازی کی جائے کہ کون ان میں سے قسم کھائے گا۔ “ (بخاری) «بلوغ المرام/حدیث: 1211»
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک قوم پر قسم پیش کی تو وہ قسم کھانے پر فوراً تیار ہو گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم فرمایا کہ ’’ ان لوگوں میں قرعہ اندازی کی جائے کہ کون ان میں سے قسم کھائے گا۔ “ (بخاری) «بلوغ المرام/حدیث: 1211»
تخریج:
«أخرجه البخاري، الشهادات، باب إذا تسارع قوم في اليمين، حديث:2647.»
تشریح: جس مقدمے کی نوعیت ایسی ہو کہ فریقین مدعی ہوں اور دونوں باہم مدعا علیہ بھی ہوں، بالفاظ دیگر حتمی اور یقینی طور پر اس کا علم نہ ہو سکے کہ مدعی کون ہے اور مدعا علیہ کون؟ تو ایسی صورت میں دونوں کو قسم دینے کا حق پہنچتا ہے۔
اگر ان میں سے کوئی قسم سے انکاری ہو تو فریق مخالف قسم دے کر مال اپنے قبضہ میں لے لے گا اور اگر دونوں فریق قسم اٹھانے پر آمادہ ہوں تو پھر اس صورت میں قرعہ اندازی کی جائے گی۔
قرعہ جس کے نام نکلے وہ قسم دے کر مال لے جانے کا مستحق قرار پائے گا۔
«أخرجه البخاري، الشهادات، باب إذا تسارع قوم في اليمين، حديث:2647.»
تشریح: جس مقدمے کی نوعیت ایسی ہو کہ فریقین مدعی ہوں اور دونوں باہم مدعا علیہ بھی ہوں، بالفاظ دیگر حتمی اور یقینی طور پر اس کا علم نہ ہو سکے کہ مدعی کون ہے اور مدعا علیہ کون؟ تو ایسی صورت میں دونوں کو قسم دینے کا حق پہنچتا ہے۔
اگر ان میں سے کوئی قسم سے انکاری ہو تو فریق مخالف قسم دے کر مال اپنے قبضہ میں لے لے گا اور اگر دونوں فریق قسم اٹھانے پر آمادہ ہوں تو پھر اس صورت میں قرعہ اندازی کی جائے گی۔
قرعہ جس کے نام نکلے وہ قسم دے کر مال لے جانے کا مستحق قرار پائے گا۔
درج بالا اقتباس بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 1211 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 2674 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
2674. حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے کچھ لوگوں کو قسم اٹھانے کے لیے کہا تو وہ سارے قسم اٹھانے کے لیے فوراً تیار ہوگئے۔ آپ ﷺ نے حکم دیا کہ قسم لینے کے لیے ان میں قرعہ اندازی کی جائے، جس کے نام قرعہ نکلے وہ قسم اٹھائے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:2674]
حدیث حاشیہ: ابوداؤد اور نسائی کی روایت میں یوں ہے کہ دو شخصوں نے ایک چیز کا دعویٰ کیا اور کسی کے پاس گواہ نہ تھے۔
آپ ﷺ نے فرمایا، قرعہ ڈالو اور جس کا نام نکلے وہ قسم کھالے، حاکم کی روایت میں یوں ہے کہ دو آدمیوں نے ایک اونٹ کا دعویٰ کیا اور دنوں نے گواہ پیش کئے۔
آپ ﷺ نے آدھوں آدھ اونٹ دونوں کو دلادیا اور ابوداؤد کی روایت میں ہے کہ آپ ﷺ نے قرعہ کا حکم دیا اور جس کا نام قرعہ میں نکلا اس کو دلادیا۔
آپ ﷺ نے فرمایا، قرعہ ڈالو اور جس کا نام نکلے وہ قسم کھالے، حاکم کی روایت میں یوں ہے کہ دو آدمیوں نے ایک اونٹ کا دعویٰ کیا اور دنوں نے گواہ پیش کئے۔
آپ ﷺ نے آدھوں آدھ اونٹ دونوں کو دلادیا اور ابوداؤد کی روایت میں ہے کہ آپ ﷺ نے قرعہ کا حکم دیا اور جس کا نام قرعہ میں نکلا اس کو دلادیا۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 2674 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 2674 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
2674. حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے کچھ لوگوں کو قسم اٹھانے کے لیے کہا تو وہ سارے قسم اٹھانے کے لیے فوراً تیار ہوگئے۔ آپ ﷺ نے حکم دیا کہ قسم لینے کے لیے ان میں قرعہ اندازی کی جائے، جس کے نام قرعہ نکلے وہ قسم اٹھائے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:2674]
حدیث حاشیہ:
(1)
مذکورہ ضابطہ اس صورت میں ہے کہ جب اسبابِ استحقاق میں سب برابر ہوں، مثلاً: ایک چیز دو مدعیوں کے قبضے میں ہے اور ہر ایک پوری چیز لینے کا دعوے دار ہے اور قسم اٹھا کر اسے لینے کا خواہش مند ہے۔
گواہ کسی کے پاس نہیں ہیں تو ان کے درمیان قرعہ اندازی کی جائے گی جس کے نام قرعہ نکلے گا وہ قسم اٹھا کر اس کا حق دار ہو جائے گا۔
(2)
ابوداود میں ہے کہ دو آدمیوں نے کسی چیز کے متعلق دعویٰ کیا اور کسی کے پاس گواہ نہیں تھے تو رسول اللہ ﷺ نے قرعہ اندازی کے ذریعے سے ایک سے قسم لے کر وہ چیز اس کے حوالے کر دی۔
(سنن أبي داود، القضاء، حدیث: 3616)
(1)
مذکورہ ضابطہ اس صورت میں ہے کہ جب اسبابِ استحقاق میں سب برابر ہوں، مثلاً: ایک چیز دو مدعیوں کے قبضے میں ہے اور ہر ایک پوری چیز لینے کا دعوے دار ہے اور قسم اٹھا کر اسے لینے کا خواہش مند ہے۔
گواہ کسی کے پاس نہیں ہیں تو ان کے درمیان قرعہ اندازی کی جائے گی جس کے نام قرعہ نکلے گا وہ قسم اٹھا کر اس کا حق دار ہو جائے گا۔
(2)
ابوداود میں ہے کہ دو آدمیوں نے کسی چیز کے متعلق دعویٰ کیا اور کسی کے پاس گواہ نہیں تھے تو رسول اللہ ﷺ نے قرعہ اندازی کے ذریعے سے ایک سے قسم لے کر وہ چیز اس کے حوالے کر دی۔
(سنن أبي داود، القضاء، حدیث: 3616)
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 2674 سے ماخوذ ہے۔