حدیث نمبر: 1210
عن ابن عباس رضي الله عنهما أن النبي صلى الله عليه وآله وسلم قال : « لو يعطى الناس بدعواهم لادعى ناس دماء رجال وأموالهم ولكن اليمين على المدعى عليه » متفق عليه وللبيهقي بإسناد صحيح: « البينة على المدعي واليمين على من أنكر ».
ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی

´سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’ اگر لوگوں کو محض ان کے دعوے کرنے سے حق دے دیا جائے تو لوگ دوسرے لوگوں کے خون اور ان کے اموال کا دعویٰ کریں گے لیکن مدعا علیہ کے ذمہ قسم لازم ہے ۔ “ ( بخاری و مسلم ) اور بیہقی نے صحیح سند سے روایت کیا ہے کہ گواہی ( یا دلیل ) مدعی کے ذمہ اور قسم اس کے ذمہ جو اس کا انکار کرے ۔

حوالہ حدیث بلوغ المرام / حدیث: 1210
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري، التفسير، باب: ﴿إن الذين يشترون بعهد الله وأيما نهم ثمنًا قليلًا...﴾، حديث:4552، ومسلم، الأقضية، باب اليمين علي المدعي عليه، حديث:1711، وحديث البيهقي:8 /123، في سنده مسلم بن خالد الزنجي، وللحديث شواهدفهو حسن.»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح البخاري: 4552 | صحيح مسلم: 1711 | سنن ابن ماجه: 2321

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ صفی الرحمن مبارکپوری
´دعویٰ اور دلائل کا بیان`
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’ اگر لوگوں کو محض ان کے دعوے کرنے سے حق دے دیا جائے تو لوگ دوسرے لوگوں کے خون اور ان کے اموال کا دعویٰ کریں گے لیکن مدعا علیہ کے ذمہ قسم لازم ہے۔ (بخاری و مسلم) اور بیہقی نے صحیح سند سے روایت کیا ہے کہ گواہی (یا دلیل) مدعی کے ذمہ اور قسم اس کے ذمہ جو اس کا انکار کرے۔ «بلوغ المرام/حدیث: 1210»
تخریج:
«أخرجه البخاري، التفسير، باب: ﴿إن الذين يشترون بعهد الله وأيما نهم ثمنًا قليلًا...﴾، حديث:4552، ومسلم، الأقضية، باب اليمين علي المدعي عليه، حديث:1711، وحديث البيهقي:8 /123، في سنده مسلم بن خالد الزنجي، وللحديث شواهدفهو حسن.»
تشریح: اس حدیث میں قضا کا ایک اہم اصول بیان کیا گیا ہے کہ مدعی اپنا دعویٰ دلائل سے ثابت کرے اور دو گواہ پیش کرے۔
اگر وہ ایسا نہ کر سکے تو پھر مدعا علیہ قسم دے گا۔
جمہور کا یہی مذہب ہے۔
درج بالا اقتباس بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 1210 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 4552 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
4552. حضرت ابن ابی ملیکہ سے روایت ہے کہ دو عورتیں کسی گھر یا حجرے میں موزے سیا کرتی تھیں۔ ان میں سے ایک عورت باہر نکلی تو اس کے ہاتھ میں موزے سینے والا سوآ چبھا ہوا تھا۔ اس نے دوسری عورت پر الزام لگایا۔ مقدمہ حضرت ابن عباس ؓ کے ہاں پیش ہوا تو آپ نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد گرامی ہے: ’’اگر صرف دعویٰ کی بنیاد پر لوگوں کے مطالبات تسلیم کیے جانے لگیں تو بہت لوگوں کا خون اور مال برباد ہو جائے۔‘‘ اس عورت کو اللہ کی یاد دلاؤ اور اس کے سامنے یہ آیت پڑھو: ﴿إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللَّـهِ۔۔۔﴾ چنانچہ لوگوں نے اسے وعظ و نصیحت کی تو اس نے (اپنے جرم کا) اعتراف کر لیا۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا کہ نبی ﷺ کا ارشاد گرامی ہے: ’’قسم مدعا علیہ پر ہوتی ہے۔‘‘[صحيح بخاري، حديث نمبر:4552]
حدیث حاشیہ:

معاملات میں قانون یہ ہے کہ دعویٰ کرنے والا گواہ پیش کرتاہے اور اگروہ گواہ پیش نہ کرسکے تو جس کے خلاف دعویٰ ہو وہ قسم دے کر اس الزام سے بری ہوسکتا ہے۔
بعض خاص حالات میں مدعی سے بھی قسم لے کر فیصلہ کیا جاسکتا ہے جیسا کہ قسامہ میں ہوتا ہے۔

قاعدہ یہ ہے کہ کسی آیت کی خاص شانِ نزول سے قطع نظر آیت کے عمومی معنی پر عمل کیا جاتا ہے چنانچہ اسی قاعدے پر عمل کرتے ہوئے حضرت ابن عباس ؓ نے اس عورت کے سامنے مذکورہ بالا آیت کی تلاوت کا حکم دیا۔
حافظ ابن حجر ؒ فرماتے ہیں: اس حدیث میں اسی قاعدے کی طرف اشارہ ہے اور جس سے قسم لینا مقصود ہو اس آیت کو بنیاد بنا کر اسے وعظ ونصیحت کرنا بھی ثابت ہوتا ہے۔
(فتح الباري: 269/8)
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 4552 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 1711 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اگر لوگوں کا دعویٰ قبول کر لیا جائے تو بہت سے لوگ دوسرے لوگوں کے خونوں اور مالوں کے خلاف دعویٰ کر بیٹھیں گے، لیکن مدعی علیہ کو قسم اٹھانا ہو گی۔‘‘ [صحيح مسلم، حديث نمبر:4470]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ کسی انسان کا قول صرف اس کے دعویٰ کی بنیاد پر تسلیم نہیں کیا جا سکتا، بلکہ اس کے لیے ضروری ہے وہ اپنے دعویٰ پر دلیل یعنی گواہ پیش کرے یا مدعی علیہ اس کے دعویٰ کو تسلیم کرے، کیونکہ اگر محض کسی کے دعویٰ کرنے پر اس کا مطالبہ مان لیا جائے اور اس کا حق تسلیم کر لیا جائے تو بہت سے لوگ، دوسروں کی جان اور مال کے خلاف دعویٰ کرنا شروع کر دیں گے اور لوگوں کی جان و مال غیر محفوظ ہو جائے گی، جبکہ مدعی کے پاس جان و مال کی حفاظت کے لیے، شہادت کا ذریعہ موجود ہے۔
اليمين علي المدعي عليه: سے جمہور نے استدلال کیا ہے کہ دعویٰ کی صورت میں اگر مدعی، شہادت نہ پیش کر سکے تو مدعی علیہ کو ہر حالت میں قسم اٹھانا ہو گی، جبکہ امام مالک کا موقف یہ ہے کہ مدعی علیہ پر قسم اس صورت میں لازم ہو گی، جب اس کا مدعی (دعویٰ کرنے والا)
کے ساتھ اختلاط اور میل ملاپ ہے، وگرنہ اوباش لوگ، شرفاء کو تنگ کرنے کے لیے، ان کے خلاف دعویٰ کریں گے اور ان کو بار بار بلاوجہ قسم اٹھانا ہو گی، گویا دعویٰ کی صحت کے لیے یہ شرط ہے کہ مدعی اور مدعی علیہ میں کسی قسم کا ربط و تعلق ہو تاکہ اس کو مدعی مانا جا سکے، اگر دعویٰ کی صحت کا قرینہ موجود نہیں ہے تو وہ مدعی کیسے بن سکے گا کہ مدعی علیہ پر قسم پڑے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 1711 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 2321 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´مدعی اپنے دعوے کے حق میں گواہی پیش کرے اور مدعیٰ علیہ (یعنی جس کے خلاف دعویٰ ہے) اس پر قسم کھائے۔`
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر لوگوں کو ان کے دعویٰ کے مطابق دے دیا جائے، تو لوگ دوسروں کی جان اور مال کا (ناحق) دعویٰ کر بیٹھیں گے، لیکن مدعیٰ علیہ کو قسم کھانا چاہیئے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأحكام/حدیث: 2321]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
  آپس کے جھگڑوں کا فیصلہ گواہی پر ہوتا ہے۔
اس میں گواہ کا قابل اعتماد ہونا ضروری ہے اس لیے خرید وفروخت کے موقع پر گواہ بنا لینا ضروری ہے خاص طور پر جب کہ سودا قیمتی ہو یا ادھار کی رقم اتنی زیادہ ہو جس کےادا ہونے یا نہ ہونے کےبارے میں جھگڑا ہونے کا امکان ہو۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَاستَشهِدوا شَهيدَينِ مِن رِ‌جالِكُم ۖ فَإِن لَم يَكونا رَ‌جُلَينِ فَرَ‌جُلٌ وَامرَ‌أَتانِ مِمَّن تَر‌ضَونَ مِنَ الشُّهَداءِ﴾ (البقرہ 2: 282)
 ’’اور اپنے مردوں میں سے دو مرد گواہ مقرر کر لو۔
اگر دو مرد نہ ہوں تو ایک مرد اور دو عورتیں جنہیں تم گواہوں میں سے پسند کیاکرو۔

(2)
جب کسی مقدمے میں مدعی گواہ پیش نہ کر سکے تو مدعا علیہ سے قسم لی جائے گی اور وہ اللہ کی قسم کھا کر اپنے موقف کے برحق ہونے کی گواہی دے گا۔

(3)
  مدعی کی قسم پر فیصلہ نہیں کیا جا سکتا اس کے لیے گواہ پیش کرنا ہی ضروری ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2321 سے ماخوذ ہے۔