حدیث نمبر: 1204
وعن أبي هريرة رضي الله عنه أنه سمع رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم يقول : « لا تجوز شهادة بدوي على صاحب قرية » رواه أبو داود وابن ماجه.
ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی

´سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ ’’ صحرا نورد بدو ( دیہاتی ) کی گواہی شہری کے حق میں قابل قبول نہیں ۔ “ ( ابوداؤد و ابن ماجہ )

حوالہ حدیث بلوغ المرام / حدیث: 1204
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ابي داود: 3602 | سنن ابن ماجه: 2367

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 3602 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´شہریوں کے خلاف دیہاتی کی گواہی کے حکم کا بیان۔`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: دیہاتی کی گواہی بستی اور شہر میں رہنے والے شخص کے خلاف جائز نہیں۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كتاب الأقضية /حدیث: 3602]
فوائد ومسائل:
فائدہ: بدوی بادیہ سے ہے کہ خانہ بدوش کو کہتے ہیں۔
جو ایک جگہ کے ساکن نہیں ہوتے۔
بلکہ مسلسل ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہوتے رہتے ہیں۔
اگر کوئی بدوی سمجھ دار اور عدول ہو تو فی نفسہ اس کی گواہی معبتر ہوگی۔
خود رسول اللہ ﷺ نے رمضان کے چاند کی رویئت میں بدوی کی شہادت قبول فرمائی۔
(أبودود، الصوم، باب في شھادة الواحد علی رؤیة ھلال رمضان) اس حدیث سے جو یہ بات سمجھائی گئی ہے۔
وہ یہ ہے کہ بدوی عموما مستقل آبادیوں کے حالات عادات رسم ورواج اور طور طریقوں سے واقف نہیں ہوتے۔
نیز بڑے سادہ لوح ہوتے ہیں۔
اس لئے مشاہدے میں انھیں غلطی لگنے یاعدم فہم کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔
اس لئے کسی بستی یا شہر کے رہنے والے کے معاملے میں ان کی گواہی پراعتراض واقع ہوگا۔
اس سبب سے اس کی گواہی قبول نہیں کی جا سکتی۔
وہ معاملات جن کا فہم اہل بادیہ کے لئے آسان ہے۔
اس میں ان کی گواہی ہرطرح معتبر ہے۔
اس حدیث میں یہ بھی ثابت ہوا کہ کسی بھی معاملے میں گواہی تب معتبر ہوگی۔
جب اس معاملے کے عمومی فہم کی استعداد موجود ہو۔
کسی خالص فنی معاملے میں عام انسا نوں کی گواہی معتبر نہ ہوگی۔
جب تک وہ اس معاملے کا فہم نہ رکھتا ہو۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3602 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 2367 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´جن لوگوں کی گواہی جائز نہیں ہے ان کا بیان۔`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: بدوی (دیہات میں رہنے والے) کی گواہی شہری (بستی میں رہنے والے) کے خلاف جائز نہیں۔‏‏‏‏ [سنن ابن ماجه/كتاب الأحكام/حدیث: 2367]
اردو حاشہ:
فوائدومسائل: (1)
  اس کی وجہ یہ ہے کہ خانہ بدوش دین واخلاق اورکردار کےلحاظ سےعموماً کم تر ہوتے ہیں کیونکہ انھیں علماء کے پاس بیٹھنے اور دین سیکھنے کا موقع نہیں ملتا، اس لے ان سے زیادہ امکان یہی ہے کہ وہ گواہی صحیح نہ دیں گے۔

(2)
گواہ کا قابل اعتماد ہونا ضروری ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2367 سے ماخوذ ہے۔