حدیث کتب › بلوغ المرام ›
حدیث نمبر: 1203
وعن عبد الله بن عمرو رضي الله عنهما قال : قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم : « لا تجوز شهادة خائن ولا خائنة ولا ذي غمر على أخيه ولا تجوز شهادة القانع لأهل البيت » رواه أحمد وأبو داود.ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی
´سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’ خائن مرد و عورت کی گواہی جائز نہیں اور دشمن اور کینہ ور شخص کی اپنے بھائی کے خلاف بھی گواہی جائز نہیں اور جو شخص کسی دوسرے کے زیر کفالت ہو اس کی گواہی کفیل خاندان کے حق میں جائز نہیں ہے ۔ “ ( مسند احمد ، ابوداؤد )
حوالہ حدیث بلوغ المرام / حدیث: 1203
درجۂ حدیث محدثین: حسن
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ابي داود: 3600 | سنن ابن ماجه: 2366
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ صفی الرحمن مبارکپوری
´شہادتوں (گواہیوں) کا بیان`
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’ خائن مرد و عورت کی گواہی جائز نہیں اور دشمن اور کینہ ور شخص کی اپنے بھائی کے خلاف بھی گواہی جائز نہیں اور جو شخص کسی دوسرے کے زیر کفالت ہو اس کی گواہی کفیل خاندان کے حق میں جائز نہیں ہے۔ “ (مسند احمد، ابوداؤد) «بلوغ المرام/حدیث: 1203»
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’ خائن مرد و عورت کی گواہی جائز نہیں اور دشمن اور کینہ ور شخص کی اپنے بھائی کے خلاف بھی گواہی جائز نہیں اور جو شخص کسی دوسرے کے زیر کفالت ہو اس کی گواہی کفیل خاندان کے حق میں جائز نہیں ہے۔ “ (مسند احمد، ابوداؤد) «بلوغ المرام/حدیث: 1203»
تخریج:
«أخرجه أبوداود، القضاء، باب من ترد شهادة، حديث:3600 وأحمد:2 /181، 203.»
تشریح: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ خائن‘ دشمن اور کینہ ور کی شہادت ناجائز ہے۔
اسی طرح جو شخص کسی کے زیرکفالت ہو اس کی گواہی بھی اس شخص اور اس کے اہل خانہ کے حق میں قبول نہیں تاکہ جانب داری کا شبہ نہ رہے۔
«أخرجه أبوداود، القضاء، باب من ترد شهادة، حديث:3600 وأحمد:2 /181، 203.»
تشریح: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ خائن‘ دشمن اور کینہ ور کی شہادت ناجائز ہے۔
اسی طرح جو شخص کسی کے زیرکفالت ہو اس کی گواہی بھی اس شخص اور اس کے اہل خانہ کے حق میں قبول نہیں تاکہ جانب داری کا شبہ نہ رہے۔
درج بالا اقتباس بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 1203 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 3600 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´کس کی گواہی نہیں مانی جائے گی؟`
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیانت کرنے والے مرد، خیانت کرنے والی عورت اور اپنے بھائی سے بغض و کینہ رکھنے والے شخص کی شہادت رد فرما دی ہے، اور خادم کی گواہی کو جو اس کے گھر والوں (مالکوں) کے حق میں ہو رد کر دیا ہے اور دوسروں کے لیے جائز رکھا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: «غمر» کے معنیٰ: کینہ اور بغض کے ہیں، اور «قانع» سے مراد پرانا ملازم مثلاً خادم خاص ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الأقضية /حدیث: 3600]
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیانت کرنے والے مرد، خیانت کرنے والی عورت اور اپنے بھائی سے بغض و کینہ رکھنے والے شخص کی شہادت رد فرما دی ہے، اور خادم کی گواہی کو جو اس کے گھر والوں (مالکوں) کے حق میں ہو رد کر دیا ہے اور دوسروں کے لیے جائز رکھا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: «غمر» کے معنیٰ: کینہ اور بغض کے ہیں، اور «قانع» سے مراد پرانا ملازم مثلاً خادم خاص ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الأقضية /حدیث: 3600]
فوائد ومسائل:
توضیح: خائن یا خائنہ کی گواہی مطلقاً مردود ہے۔
اس میں مالی خیانت اور زبانی خیانت (جھوٹ) دونوں ایک جیسے ہیں۔
لیکن کینہ پرور اور بغیض کی گواہی میں اس صورت میں مردود ہے۔
جب معاملہ ان کے ساتھ ہو جن کے ساتھ اس کی دشمنی ہو۔
اگر سچا ہے تو دوسرے لوگوں میں مقبول ہوگی۔
اسی طرح ہی نوکر اور غلام کی طرح کے تابع قسم کے لوگوں کی گواہی اپنے ولی کے حق میں قبول نہیں۔
اگر سچے ہیں تو دوسروں کے حق میں قبول ہے۔
توضیح: خائن یا خائنہ کی گواہی مطلقاً مردود ہے۔
اس میں مالی خیانت اور زبانی خیانت (جھوٹ) دونوں ایک جیسے ہیں۔
لیکن کینہ پرور اور بغیض کی گواہی میں اس صورت میں مردود ہے۔
جب معاملہ ان کے ساتھ ہو جن کے ساتھ اس کی دشمنی ہو۔
اگر سچا ہے تو دوسرے لوگوں میں مقبول ہوگی۔
اسی طرح ہی نوکر اور غلام کی طرح کے تابع قسم کے لوگوں کی گواہی اپنے ولی کے حق میں قبول نہیں۔
اگر سچے ہیں تو دوسروں کے حق میں قبول ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3600 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 2366 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´جن لوگوں کی گواہی جائز نہیں ہے ان کا بیان۔`
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” نہ خائن مرد کی گواہی جائز ہے اور نہ خائن عورت کی، اور نہ اس کی جس پر اسلام میں حد نافذ ہوئی ہو، اور نہ اس کی جو اپنے بھائی کے خلاف کینہ و عداوت رکھے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الأحكام/حدیث: 2366]
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” نہ خائن مرد کی گواہی جائز ہے اور نہ خائن عورت کی، اور نہ اس کی جس پر اسلام میں حد نافذ ہوئی ہو، اور نہ اس کی جو اپنے بھائی کے خلاف کینہ و عداوت رکھے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الأحكام/حدیث: 2366]
اردو حاشہ:
فوائدومسائل: (1)
مذکورہ روایت کوہمارے فاضل محقق نےسنداً ضعیف قرار دے کرکہا ہے کہ اس حدیث کی اصل صحیح ہے نیزسنن ابوداود میں عمرو بن شعیب عن ابیہ عن جدہ سےمروی روایت کوحسن قرار دیا ہے۔ دیکھیے: (سنن ابوداؤد (اردو)
طبع دارالسلام، حدیث: 3600، 3601)
جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ روایت ہمارے فاضل محقق کےنزدیک قابل عمل اروقابل حجت ہے، علاوہ ازیں دیگرمحقیقین نے بھی اسے حسن قراردیا ہے، لہٰذا مذکورہ روایت سنداً ضعیف ہونے کے باوجود دیگرشواہد کی بنا پرقابل عمل اورقابل حجت ہے۔
مزید تفصیل کےلیے دیکھیے:: (الموسوعة الحدیثیة مسند الإمام أحمد: 11، 299، 300، والإرواء للألبانی، رقم: 2669، وسنن ابن ماجة بتحقیق الدکتور بشار عواد، حدیث: 2366)
(2)
امانت میں خیانت کرنے والا قابل اعتماد نہیں ہوتا، لہٰذا عدالت میں اس کی گواہی قبول نہیں۔
(3)
’’حد‘‘بعض خاص جرائم کی سزاوں کوکہا جاتا ہے جو اللہ کی طرف سے مقرر کی گئی ہیں۔
عدالت کو ان میں کمی بیشی کا حق نہیں۔
ان کےعلاوہ دیگر سزاوں کو’’تعزیر‘‘کہتےہیں جن میں حالات کےمطابق تبدیلی کی جا سکتی ہے۔
(4)
جب یہ ثابت ہوجائے کہ گواہ نے جس کے خلاف گواہی دی ہے، اس سے اس کی پہلے سے ناراضی ہے توی ہ بات گواہی کومشکوک بنا دیتی ہے ممکن ہےکہ وہ پرانی دشمنی کی وجہ سےاس کے خلاف گواہی دے کراپنا بدلہ لینا چاہتا ہو۔
(5)
بھائی سےمراد دینی بھائی یعنی مسلمان ہے۔
اس میں حقیقی بھائی بھی شامل ہے کیونکہ مسلمان ہونے کی صورت میں وہ بھی دینی بھائی ہے۔
فوائدومسائل: (1)
مذکورہ روایت کوہمارے فاضل محقق نےسنداً ضعیف قرار دے کرکہا ہے کہ اس حدیث کی اصل صحیح ہے نیزسنن ابوداود میں عمرو بن شعیب عن ابیہ عن جدہ سےمروی روایت کوحسن قرار دیا ہے۔ دیکھیے: (سنن ابوداؤد (اردو)
طبع دارالسلام، حدیث: 3600، 3601)
جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ روایت ہمارے فاضل محقق کےنزدیک قابل عمل اروقابل حجت ہے، علاوہ ازیں دیگرمحقیقین نے بھی اسے حسن قراردیا ہے، لہٰذا مذکورہ روایت سنداً ضعیف ہونے کے باوجود دیگرشواہد کی بنا پرقابل عمل اورقابل حجت ہے۔
مزید تفصیل کےلیے دیکھیے:: (الموسوعة الحدیثیة مسند الإمام أحمد: 11، 299، 300، والإرواء للألبانی، رقم: 2669، وسنن ابن ماجة بتحقیق الدکتور بشار عواد، حدیث: 2366)
(2)
امانت میں خیانت کرنے والا قابل اعتماد نہیں ہوتا، لہٰذا عدالت میں اس کی گواہی قبول نہیں۔
(3)
’’حد‘‘بعض خاص جرائم کی سزاوں کوکہا جاتا ہے جو اللہ کی طرف سے مقرر کی گئی ہیں۔
عدالت کو ان میں کمی بیشی کا حق نہیں۔
ان کےعلاوہ دیگر سزاوں کو’’تعزیر‘‘کہتےہیں جن میں حالات کےمطابق تبدیلی کی جا سکتی ہے۔
(4)
جب یہ ثابت ہوجائے کہ گواہ نے جس کے خلاف گواہی دی ہے، اس سے اس کی پہلے سے ناراضی ہے توی ہ بات گواہی کومشکوک بنا دیتی ہے ممکن ہےکہ وہ پرانی دشمنی کی وجہ سےاس کے خلاف گواہی دے کراپنا بدلہ لینا چاہتا ہو۔
(5)
بھائی سےمراد دینی بھائی یعنی مسلمان ہے۔
اس میں حقیقی بھائی بھی شامل ہے کیونکہ مسلمان ہونے کی صورت میں وہ بھی دینی بھائی ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2366 سے ماخوذ ہے۔