حدیث نمبر: 1191
وعن عمرو بن العاص أنه سمع رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم يقول: « إذا حكم الحاكم فاجتهد ثم أصاب فله أجران وإذا حكم فاجتهد ثم أخطأ فله أجر» متفق عليه.
ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی

´سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا کہ ’’ جب کوئی حاکم فیصلہ کرتے وقت پوری جدوجہد کرے اور صحیح فیصلہ کرنے میں کامیاب بھی ہو جائے تو اسے دگنا ثواب ملتا ہے اور جب وہ فیصلہ کرنے میں جدوجہد تو پوری کرے مگر صحیح فیصلہ کرنے میں خطا کر جائے تو اسے ایک اجر ملے گا ۔ “ ( بخاری و مسلم )

حوالہ حدیث بلوغ المرام / حدیث: 1191
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري، الاعتصام بالكتاب والسنة، باب أجر الحاكم إذا اجتهد فأصاب أو أخطأ، حديث:7352، ومسلم، الأقضية، باب بيان أجر الحاكم إذا اجتهد فأصاب أو أخطأ، حديث:1716.»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح البخاري: 7352 | صحيح مسلم: 1716 | سنن ابي داود: 3574 | سنن ابن ماجه: 2314

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 7352 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
7352. سیدنا عمرو بن عاص ؓ سے روایت ہے انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: جب حاکم اپنے اجتہاد سے کوئی فیصلہ کرے پھر وہ فیصلہ صحیح ہو تو اسے دو گناہ ثواب ملتا ہے اور اگر فیصلہ کرتے وقت اجتہاد کرے اور غلط کر جائے تو اسے صرف ایک اجر وثواب ہوتا ہے۔ راوی کہتا ہے: میں نے یہ حدیث اب بکر بن عمرو بن حزم سے بیان کی تو انہوں نے مجھ سے ابو سلمہ بن عبدالرحمن نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے واسطے سے اسی طرح بیان کیا ہے۔ عبدالعزیز بن مطلب نے عبداللہ بن ابو بکر سے انہوں نے ابو سلمہ سے انہوں نے نبی ﷺ سے اسی طرح بیان کیا۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:7352]
حدیث حاشیہ: یعنی مرسلاً روایت کی‘ اس کے والد نے موصولاً روایت کی تھی۔
اس حدیث سے یہ نکلا کہ ہر مسئلہ میں حق ایک ہی امر ہوتا ہے لیکن مجتہد اگر غلطی کرے تو بھی اس سے مؤاخذہ نہ ہوگا بلکہ اس کو اجر اور ثواب ملے گا۔
یہ اس صورت میں ہے جب مجتہد جان بوجھ کر نص یا اجماع کا خلاف نہ کرے ورنہ گنہگار ہوگا اور اس کی عدالت جاتی رہے گی۔
جیسے اوپر گزر چکا۔
اس حدیث سے بعضوں نے یہ بھی نکالا ہے کہ ہر قاضی مجتہد ہونا چاہئیے ورنہ اس کی قضاء صحیح نہ ہوگی۔
اہلحدیث کا یہی قول ہے اور یہی راجح ہے اور حنفیہ نے مقلد قاضی کی بھی قضا جائز رکھی ہے اور یہ کہا ہے کہ مقلد کو اپنے امام کے حکم کے برخلاف حکم دینا جائز نہیں مگر اس پر کوئی دلیل نہیں ہے۔
ممکن ہے کہ آدمی کچھ مسائل میں مقلد ہو کچھ مسائل میں مجتہد ہو جس مسئلہ میں آدمی تمام دلائل کو اچھی طرح دیکھ لے اس میں وہ مجتہد ہو جاتا ہے اور جب اس مسئلہ میں مجتہد ہو گیا تو اب اس کو اس مسئلہ میں تقلید درست نہیں ہے بلکہ دلیل پر عمل کرنا چاہئیے۔
یہی قول حق اور یہی صواب ہے اور جس نے اس کے خلاف کیا ہے کہ دلیل معلوم ہونے پر بھی اس کے خلاف اپنے امام کے قول پر جمے رہنا چاہیے اس کا قول نا معقول اور غلط ہے۔
دلیل معلوم ہونے کے بعد دلیل کی پیروی کرنا ضروری ہے اور تقلید جائز نہیں اور اللہ تعالیٰ نے جا بجا قرآن میں ایسے مقلدوں کی مذمت کی ہے جو دلیل معلوم ہونے پر تقلید پر جمے رہتے تھے۔
یہ صریح جہالت اور نا انصافی ہے۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 7352 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 7352 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
7352. سیدنا عمرو بن عاص ؓ سے روایت ہے انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: جب حاکم اپنے اجتہاد سے کوئی فیصلہ کرے پھر وہ فیصلہ صحیح ہو تو اسے دو گناہ ثواب ملتا ہے اور اگر فیصلہ کرتے وقت اجتہاد کرے اور غلط کر جائے تو اسے صرف ایک اجر وثواب ہوتا ہے۔ راوی کہتا ہے: میں نے یہ حدیث اب بکر بن عمرو بن حزم سے بیان کی تو انہوں نے مجھ سے ابو سلمہ بن عبدالرحمن نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے واسطے سے اسی طرح بیان کیا ہے۔ عبدالعزیز بن مطلب نے عبداللہ بن ابو بکر سے انہوں نے ابو سلمہ سے انہوں نے نبی ﷺ سے اسی طرح بیان کیا۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:7352]
حدیث حاشیہ:

اس حدیث سے معلوم ہوا کہ حق ایک ہی ہوتا ہے۔
اسے تلاش کرنے میں اگرغلطی اور خطا ہو جائے تو تلاش حق کا ثواب ضائع نہیں ہوگا۔
یہ اس صورت میں ہے کہ جب مجتہد تلاش حق کے وقت جان بوجھ کر نص ِ صریح یا اجماع اُمت کی خلاف ورزی نہ کرے۔
اگر اس نے جان بوجھ کر خلاف ورزی کو تو گناہ گار بھی ہوگا اور اس کی عدالت بھی جاتی رہے گی۔

اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ قاضی کو مجتہد ہونا چاہیے مقلد کی قضا جائز نہیں کیونکہ مقلد تو اپنے امام کے قول کو اختیار کرتا ہے، وہ اس خول سے باہر نہیں نکلتا، جبکہ دلیل معلوم ہو جانے کے بعد اس کے پیروی ضروری ہے، خواہ وہ اس کے امام کے خلاف ہی کیوں نہ ہو۔
اللہ تعالیٰ نےقرآن مجید میں ایسے مقلدین کی مذمت کی ہے جو حق اور دلیل معلوم ہو جانے کےبعد بھی آبائی تقلید پر جمے رہتے ہیں۔
ایسا کرنا صریح جہالت اور واضح ناانصافی ہے۔
واللہ أعلم۔
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 7352 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 1716 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا، ’’جب حاکم فیصلہ محنت و کوشش سے کرے، پھر فیصلہ صحیح ہو تو اسے دوہرا اجر ملے گا اور جب محنت و کوشش سے فیصلہ کرے، پھر غلطی کر جائے تو اس کو ایک اجر ملے گا۔‘‘ [صحيح مسلم، حديث نمبر:4487]
حدیث حاشیہ: مفردات الحدیث:
إجتَهَدَ: اپنی پوری صلاحیت و استعداد صرف کر دے کہ پیش آمدہ مسئلہ میں حق و صواب تک رسائی حاصل کر لے۔
فوائد ومسائل: اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے اور یہ اتفاقی بات ہے کہ اگر صاحب استعداد و صلاحیت، جو فیصلہ کرنے کا اہل ہے، اگر اپنی پوری صلاحیت صرف کر کے، مکمل دیانت کے ساتھ فیصلہ کرتا ہے اور فیصلہ صحیح کرتا ہے تو اس کو دو اجر ملتے ہیں، ایک اس کے اجتہاد اور محنت و کوشش پر اور دوسرا صحیح فیصلہ پر ہونے پر اور اگر غلط فیصلہ کرتا ہے تو اس کو اس کے اجتہاد کے سبب ایک اجر ملتا ہے، لیکن اگر وہ اہل نہیں ہے تو ہر صورت میں مجرم اور گناہ گار ہے، یہی صورت حال مجتہد کی ہے کہ اس کا اجتہاد صحیح بھی ہو سکتا ہے اور غلط بھی، اس لیے اس حدیث سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ مختلف فیہ مسائل میں حق صرف ایک ہے، جس نے اس کو پا لیا ہے، وہ حق پر ہے اور جو اس سے چوک گیا، اس کا موقف غلط ہے، اس لیے ہر قول درست نہیں ہے اور نہ ہر قول غلط ہے، حق بہرحال اللہ کے ہاں معین ہے، ائمہ اربعہ کا یہی قول ہے۔
(تفصیل کے لیے دیکھئے، التقریر والتحبیر علامہ ابن امیر الحاج ج 3 ص 306)
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 1716 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 3574 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´قاضی (جج) سے فیصلہ میں غلطی ہو جائے تو کیسا ہے؟`
عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب حاکم (قاضی) خوب سوچ سمجھ کر فیصلہ کرے اور درستگی کو پہنچ جائے تو اس کے لیے دوگنا اجر ہے، اور جب قاضی سوچ سمجھ کر فیصلہ کرے اور خطا کر جائے تو بھی اس کے لیے ایک اجر ہے ۱؎۔‏‏‏‏ راوی کہتے ہیں: میں نے اس حدیث کو ابوبکر بن حزم سے بیان کیا تو انہوں نے کہا: مجھ سے اسی طرح ابوسلمہ نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے واسطہ سے بیان کیا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الأقضية /حدیث: 3574]
فوائد ومسائل:
فائدہ: یہ خوش خبری اس قاضی کے لئے ہے۔
جو صاحب علم ہے اجتہاد کرتا ہے۔
اس منصب کی ذمہ داریوں سے خوب واقف ہے۔
اللہ سے ڈرتا ہے۔
اور اس عہدے کا طلب گار نہیں۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3574 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 2314 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´اجتہاد کر کے صحیح فیصلہ تک پہنچنے والے حاکم کے اجر و ثواب کا بیان۔`
عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: جب حاکم فیصلہ اجتہاد سے کرے اور صحیح بات تک پہنچ جائے تو اس کو دہرا اجر ملے گا، اور جب فیصلہ کی کوشش کرے اور اجتہاد میں غلطی کرے، تو اس کو ایک اجر ملے گا۔‏‏‏‏ یزید بن عبداللہ کہتے ہیں کہ میں نے اس حدیث کو ابوبکر بن عمرو بن حزم سے بیان کیا تو انہوں نے کہا: اسی طرح اس کو مجھ سے ابوسلمہ نے بیان کیا ہے، اور انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأحكام/حدیث: 2314]
اردو حاشہ:
فوائد  و مسائل: (1)
اجتہاد کے لفظی معنی کوشش کرنا ہیں۔
یہاں یہ مطلب ہے کہ دلائل وشواہد کی روشنی میں اخلاص کےساتھ پیش آمدہ مسئلے میں صحیح موقف تک پہنچنے کے لیے پوری توجہ اورکوشش سے سوچ بچار کی جائے اور یہ فیصلہ کرنے والے کا فرض ہے کہ اپنی طرف سے صحیح فیصلہ کرنے کی پوری کوشش کرے۔

(2)
اس کوشش اور اجتہاد کے نتیجے میں صحیح بات سمجھ میں آ جانا اللہ کا فضل ہے جس کے نتیجے میں حق دار کو اس کا حق مل جاتا ہے یا مسئلہ پوچھنے والے کو صحیح مسئلہ معلوم ہو جاتا ہے۔
اور مسلمان کو فائدہ پہنچانا ایک نیکی ہے لہٰذا اجتہاد کرنے والے کو اس کا بھی ثواب ملتا ہے۔
یہ ثواب اللہ کی خاص رحمت ہے۔ (3)
  جس شخص سے اجتہاد میں غلطی ہو جائے اور اس کے نتیجے میں کسی کو غلط مسئلہ بتایا جائے یا حق دار اپنے حق سے محروم ہو جائے تو اجتہاد کرنے والے قاضی یا عالم کو گناہ نہیں ہو گا کیونکہ اس نے صحیح بات سمجھنےکی پوری کوشش کی ہے لہٰذا اسےاس کوشش کا ثواب بہر حال ملے گا۔

(4)
  اگر بعد میں آنے والوں کو معلوم ہو جائے کہ عالم سے مسئلہ معلوم کرنے میں غلطی ہوئی ہے توانہیں اپنی تحقیق کے مطابق عمل کرنا چاہیے۔
اور غلطی کرنے والے عالم کےبارے میں حسن ظن رکھنا چاہیے کہ اس نے جان بوجھ کر غلط مسئلہ نہیں بتایا۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2314 سے ماخوذ ہے۔