حدیث نمبر: 1184
وعن ثابت بن الضحاك رضي الله عنه قال : نذر رجل على عهد رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم أن ينحر إبلا ببوانة فأتى رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم فسأله فقال :« هل كان فيها وثن يعبد ؟ » قال : لا قال : « فهل كان فيها عيد من أعيادهم ؟ » فقال : لا فقال : « أوف بنذرك فإنه لا وفاء لنذر في معصية الله ولا في قطيعة رحم ولا فيما لا يملك ابن آدم » رواه أبو داود والطبراني واللفظ له وهو صحيح الإسناد وله شاهد من حديث كردم عند أحمد.
ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی

´سیدنا ثابت بن ضحاک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں ایک آدمی نے بوانہ کے مقام پر اونٹ ذبح کرنے کی نذر مانی ۔ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس کے متعلق پوچھا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا ’’ کیا اس جگہ بت تھا کہ جسے پوجا جاتا رہا ہو ؟ “ اس نے کہا نہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا ’’ کیا ان کا کوئی میلہ تو نہیں لگتا تھا ؟ “ اس آدمی نے کہا نہیں تو پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’ اپنی نذر پوری کر ۔ وہ نذر پوری نہیں کرنی چاہیئے جس میں اللہ کی نافرمانی ہو یا قطع رحمی ہو اور جس کا پورا کرنا آدم کے بیٹے کے بس میں نہ ہو ۔ “ ( ابوداؤد ، طبرانی ) اور یہ الفاظ طبرانی کے ہیں اور اس کی سند صحیح ہے اور مسند احمد میں کردم کی حدیث اس کی شاہد ہے ۔

حوالہ حدیث بلوغ المرام / حدیث: 1184
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «أخرجه أبوداود، الأيمان والنذور، باب مايؤمر به من وفاء النذر، حديث:3313، والطبراني في الكبير:2 /75، 76، حديث:1341، وحديث كردم:أخرجه أحمد:3 /419 وهو حديث حسن.»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ترمذي: 1527 | سنن ابي داود: 3313

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ صفی الرحمن مبارکپوری
´(قسموں اور نذروں کے متعلق احادیث)`
سیدنا ثابت بن ضحاک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں ایک آدمی نے بوانہ کے مقام پر اونٹ ذبح کرنے کی نذر مانی۔ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس کے متعلق پوچھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا ’’ کیا اس جگہ بت تھا کہ جسے پوجا جاتا رہا ہو؟ اس نے کہا نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا ’’ کیا ان کا کوئی میلہ تو نہیں لگتا تھا؟ اس آدمی نے کہا نہیں تو پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’ اپنی نذر پوری کر۔ وہ نذر پوری نہیں کرنی چاہیئے جس میں اللہ کی نافرمانی ہو یا قطع رحمی ہو اور جس کا پورا کرنا آدم کے بیٹے کے بس میں نہ ہو۔ (ابوداؤد، طبرانی) اور یہ الفاظ طبرانی کے ہیں اور اس کی سند صحیح ہے اور مسند احمد میں کردم کی حدیث اس کی شاہد ہے۔ «بلوغ المرام/حدیث: 1184»
تخریج:
«أخرجه أبوداود، الأيمان والنذور، باب مايؤمر به من وفاء النذر، حديث:3313، والطبراني في الكبير:2 /75، 76، حديث:1341، وحديث كردم:أخرجه أحمد:3 /419 وهو حديث حسن.»
تشریح: 1. یہ حدیث دلیل ہے کہ مباح کاموں میں نذر جائز ہے۔
2. بتوں کی جگہ یا کفار کے میلوں ٹھیلوں کے مقام پر ذبح کرنا جملہ معاصی میں سے ہے اگرچہ اللہ کی رضا کے سوا اور کوئی مقصد نہ ہو‘ اس لیے کہ اس میں ان کے شرک کے مظاہر اور ان کے دین کے شعار کی ترویج پائی جاتی ہے۔
وضاحت: «حضرت کَرْدم رضی اللہ عنہ» بن سفیان ثقفی۔
کردم کے ’’کاف‘‘ پر فتحہ اور ’’را‘‘ ساکن ہے۔
ان سے ان کی بیٹی حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا اور عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما نے روایت کیا ہے۔
درج بالا اقتباس بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 1184 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 1527 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´جو چیز آدمی کے اختیار میں نہیں اس میں نذر نہیں۔`
ثابت بن ضحاک رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بندہ کے اختیار میں جو چیز نہیں ہے اس میں نذر صحیح نہیں ہے ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب النذور والأيمان/حدیث: 1527]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
یعنی نذر مانتے وقت جو چیز بندے کے اختیار میں نہیں ہے اس میں نذر صحیح نہیں ہے، یہاں تک کہ اگر اس چیز پر اختیار حاصل ہوجائے تو بھی وہ نذر پوری نہیں کی جائے گی، اور نہ ہی اس پر کفارہ ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1527 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 3313 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´نذر پوری کرنے کی تاکید کا بیان۔`
ابوقلابہ کہتے ہیں کہ مجھ سے ثابت بن ضحاک نے بیان کیا ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ایک شخص نے نذر مانی کہ وہ بوانہ (ایک جگہ کا نام ہے) میں اونٹ ذبح کرے گا تو وہ شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے عرض کیا کہ میں نے بوانہ میں اونٹ ذبح کرنے کی نذر مانی ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا جاہلیت کے بتوں میں سے کوئی بت وہاں تھا جس کی عبادت کی جاتی تھی؟ لوگوں نے کہا: نہیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا کفار کی عیدوں میں سے کوئی عید وہاں منائی جاتی تھی؟ لوگوں نے کہا: نہیں۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابي داود/كتاب الأيمان والنذور /حدیث: 3313]
فوائد ومسائل:
ایسے مقامات جہاں اہل کفر وشرک اور اہل بدعت اپنے مخصوص اعمال سر انجام دیتے ہوں۔
متبع سنت مسلمان کو ان جگہوں میں اللہ کی عبادت سے بچنا چاہیے۔
اسی طرح وہ مخصوص ایام و تواریخ بھی جن میں ان لوگوں نے اپنی بدعات کو شہرت دے رکھی ہو ان میں ان کے سے اعمال خیر سے بچنا افضل ہے۔
تاکہ ان سے اور ان کی بدعات سے براءت کا اظہار ہو۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3313 سے ماخوذ ہے۔