حدیث نمبر: 1177
وعن عائشة رضي الله عنها في قوله تعالى : « لا يؤاخذكم الله باللغو في أيمانكم » قالت : هو قول الرجل لا والله وبلى والله . أخرجه البخاري ورواه أبو داود مرفوعا.
ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی

´سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ` انہوں نے اللہ تعالیٰ کے ارشاد « لا يؤاخذكم الله باللغو في أيمانكم » ’’ تم سے تمہاری لغو قسموں کا مواخذہ نہیں کرتا ۔ “ کی تفسیر میں فرمایا اس سے مراد انسان کا یہ کہنا ہے «لا والله» ( نہیں بخدا ) اور «وبلى والله» ہاں اللہ کی قسم ۔ اس کی تخریج بخاری نے کی ہے اور ابوداؤد نے اسے مرفوعا روایت کیا ہے ۔

حوالہ حدیث بلوغ المرام / حدیث: 1177
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري، الأيمان والنذور، باب : ﴿لا يؤاخذكم الله باللغو في أيمانكم﴾، حديث:6621، وأبوداود، الأيمان والنذور، حديث:3254.»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ابي داود: 3254

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 3254 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´یمین لغو کا بیان۔`
عطاء سے یمین لغو کے بارے میں روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " یمین لغو یہ ہے کہ آدمی اپنے گھر میں (تکیہ کلام کے طور پر) «كلا والله وبلى والله» (ہرگز نہیں قسم اللہ کی، ہاں قسم اللہ کی) کہے۔‏‏‏‏" ابوداؤد کہتے ہیں: ابراہیم صائغ ایک نیک آدمی تھے، ابومسلم نے عرندس میں انہیں قتل کر دیا تھا، ابراہیم صائغ کا حال یہ تھا کہ اگر وہ ہتھوڑا اوپر اٹھائے ہوتے اور اذان کی آواز آ جاتی تو (مارنے سے پہلے) اسے چھوڑ دیتے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اس حدیث کو داود بن ابوالفرات نے ابراہیم صائغ سے ام المؤمنین ع۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابي داود/كتاب الأيمان والنذور /حدیث: 3254]
فوائد ومسائل:
لغو قسم معاف ہے۔
اور اس کا کوئی کفارہ نہیں۔
تاہم آدمی کو اس سے پرہیز کرتے ہوئے اپنی عادت بدلنی چاہیے۔
فرمایا۔
(لَّا يُؤَاخِذُكُمُ اللَّـهُ بِاللَّغْوِ فِي أَيْمَانِكُمْ وَلَـٰكِن يُؤَاخِذُكُم بِمَا كَسَبَتْ قُلُوبُكُمْ)(البقرہ۔
225) اللہ تمھیں تمھاری لغو قسموں پر نہ پکڑے گا البتہ اس کی پکڑ اس چیز پر ہے۔
جوتمہارےدلوں کا فعل ہو۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3254 سے ماخوذ ہے۔