حدیث نمبر: 1167
وعن جابر بن عبد الله رضي الله عنهما قال : نحرنا مع رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم عام الحديبية البدنة عن سبعة والبقرة عن سبعة . رواه مسلم.
ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی

´سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ` صلح حدیبیہ کے موقع پر ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اونٹ اور گائے کو سات سات آدمیوں کی جانب سے نحر کیا ۔ ( مسلم )

حوالہ حدیث بلوغ المرام / حدیث: 1167
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم، الحج، باب جواز الاِشتراك في الهدي، حديث:1318.»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ صفی الرحمن مبارکپوری
´(احکام) قربانی کا بیان`
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ صلح حدیبیہ کے موقع پر ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اونٹ اور گائے کو سات سات آدمیوں کی جانب سے نحر کیا۔ (مسلم) «بلوغ المرام/حدیث: 1167»
تخریج:
«أخرجه مسلم، الحج، باب جواز الاِشتراك في الهدي، حديث:1318.»
تشریح: سات افراد کی طرف سے اونٹ یا گائے ذبح کرنے کا یہ ضابطہ و اصول حج اور عمرہ سے متعلق ہے۔
بنابریں حج اور عمرہ میں گائے اور اونٹ دونوں میں صرف سات افراد ہی شریک ہوں گے۔
جبکہ عام قربانی میں ایک اونٹ دس افراد کی طرف سے بھی جائز ہے۔
چنانچہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ہم سفر میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے۔
قربانی کا وقت آگیا تو ہم گائے میں سات آدمی شریک ہوئے اور اونٹ میں دس آدمی۔
(جامع الترمذي‘ الأضاحي‘ حدیث: ۹۰۵‘ و ۱۵۰۱‘ وسنن ابن ماجہ‘ الأضاحي‘ حدیث: ۳۱۳۱)
درج بالا اقتباس بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 1167 سے ماخوذ ہے۔