حدیث نمبر: 1165
وعن علي رضي الله عنه قال : أمرنا رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم أن نستشرف العين والأذن ولا نضحي بعوراء ولا مقابلة ولا مدابرة ولا خرقاء ولا ثرماء. أخرجه أحمد والأربعة وصححه الترمذي وابن حبان والحاكم.
ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی

´سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ہم قربانی والے جانور کی آنکھ ، کان اچھی طرح دیکھ لیں ۔ جو جانور یک چشم ہو یا اس کے کان کا سامنے والا یا پیچھے والا حصہ کٹ کر لٹک گیا ہو یا کان درمیان سے کٹا ہوا ہو یا دانت گر پڑے ہوں تو ایسے جانور ہم قربان نہ کریں ۔ اسے احمد اور چاروں نے نکالا ہے ترمذی ، ابن حبان اور حاکم نے اسے صحیح قرار دیا ہے ۔

حوالہ حدیث بلوغ المرام / حدیث: 1165
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «أخرجه أبوداود، الضحايا، باب ما يكره من الضحايا، حديث:2804، والترمذي، الأضاحي، حديث:1498، والنسائي، الضحايا، حديث:4379، وابن ماجه، الأضاحي، حديث:3142، وأحمد:1 /95،101، 108، وابن حبان (الإحسان):7 /566، 5890، والحاكم:4 /224.»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ترمذي: 1498 | سنن ترمذي: 1503 | سنن ابي داود: 2804 | سنن ابن ماجه: 3143 | سنن نسائي: 4377 | سنن نسائي: 4378 | سنن نسائي: 4381

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ صفی الرحمن مبارکپوری
´(احکام) قربانی کا بیان`
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ہم قربانی والے جانور کی آنکھ، کان اچھی طرح دیکھ لیں۔ جو جانور یک چشم ہو یا اس کے کان کا سامنے والا یا پیچھے والا حصہ کٹ کر لٹک گیا ہو یا کان درمیان سے کٹا ہوا ہو یا دانت گر پڑے ہوں تو ایسے جانور ہم قربان نہ کریں۔ اسے احمد اور چاروں نے نکالا ہے ترمذی، ابن حبان اور حاکم نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔ «بلوغ المرام/حدیث: 1165»
تخریج:
«أخرجه أبوداود، الضحايا، باب ما يكره من الضحايا، حديث:2804، والترمذي، الأضاحي، حديث:1498، والنسائي، الضحايا، حديث:4379، وابن ماجه، الأضاحي، حديث:3142، وأحمد:1 /95،101، 108، وابن حبان (الإحسان):7 /566، 5890، والحاكم:4 /224.»
تشریح: مذکورہ روایت کو ہمارے فاضل محقق نے سنداً ضعیف قرار دیا ہے جبکہ سنن ابی داود اور سنن ابن ماجہ میں اسی روایت کو حسن قرار دیا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ فاضل محقق کو یہاں سہو ہو گیا ہے۔
علاوہ ازیں دیگر محققین نے بھی اسے حسن قرار دیا ہے۔
دیکھیے: (الموسوعۃ الحدیثیۃ مسند الإمام أحمد:۲ /۱۳۶‘ و ۲۱۱)
بنابریں مذکورہ روایت سنداً ضعیف ہونے کے باوجود دیگر شواہد کی بنا پر قابل عمل ہے۔ واللّٰه أعلم
درج بالا اقتباس بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 1165 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 1503 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´ٹوٹی سینگ اور پھٹے کان والے جانوروں کی قربانی کا بیان۔`
حجیہ بن عدی سے روایت ہے کہ علی رضی الله عنہ نے کہا: گائے کی قربانی سات آدمیوں کی طرف سے کی جائے گی، حجیہ کہتے ہیں: میں نے پوچھا: اگر وہ بچہ جنے؟ انہوں نے کہا: اسی کے ساتھ اس کو بھی ذبح کر دو ۱؎، میں نے کہا اگر وہ لنگڑی ہو؟ انہوں نے کہا: جب قربان گاہ تک پہنچ جائے تو اسے ذبح کر دو، میں نے کہا: اگر اس کے سینگ ٹوٹے ہوں؟ انہوں نے کہا: کوئی حرج نہیں ۲؎، ہمیں حکم دیا گیا ہے، یا ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا ہے کہ ہم ان کی آنکھوں اور کانوں کو خوب دیکھ بھال لیں۔ [سنن ترمذي/كتاب الأضاحى/حدیث: 1503]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
یعنی قربانی کے لیے گائے خریدی پھر اس نے بچہ جنا تو بچہ کو گائے کے ساتھ ذبح کردے۔

2؎:
ظاہری مفہوم سے معلوم ہواکہ ایسے جانور کی قربانی علی رضی اللہ عنہ کے نزدیک جائز ہے، لیکن آگے آنے والی علی رضی اللہ عنہ کی مرفوع روایت ان کے اس قول کے مخالف ہے۔
(لیکن وہ ضعیف ہے)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1503 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 1498 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´جن جانوروں کی قربانی مکروہ ہے۔`
علی بن ابی طالب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ (قربانی والے جانور کی) آنکھ اور کان اچھی طرح دیکھ لیں، اور ایسے جانور کی قربانی نہ کریں جس کا کان آگے سے کٹا ہو، یا جس کا کان پیچھے سے کٹا ہو، یا جس کا کان چیرا ہوا ہو (یعنی لمبائی میں کٹا ہوا ہو)، یا جس کے کان میں سوراخ ہو۔ اس سند سے بھی علی رضی الله عنہ سے اسی جیسی حدیث مروی ہے، اس میں یہ اضافہ ہے کہ «مقابلة» وہ جانور ہے جس کے کان کا کنارہ (آگے سے) کٹا ہو، «مدابرة» وہ جانور ہے جس کے کان کا کنارہ (پیچھے سے) کٹا ہو، «شرقاء» جس کا کان (لمبائی میں) چیر۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ترمذي/كتاب الأضاحى/حدیث: 1498]
اردو حاشہ:
وضاحت:
نوٹ:
(سند میں ’’ابواسحاق سبیعی‘‘ مختلط اورمدلس ہیں، نیز ’’شریح‘‘ سے ان کا سماع نہیں، اس لیے سند میں انقطاع بھی ہے، مگر ناک کان دیکھ لینے کا مطلق حکم ثابت ہے)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1498 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 2804 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´قربانی میں کون سا جانور مکروہ ہے۔`
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم کو حکم دیا کہ قربانی کے جانور کی آنکھ اور کان خوب دیکھ لیں (کہ اس میں ایسا نقص نہ ہو جس کی وجہ سے قربانی درست نہ ہو) اور کانے جانور کی قربانی نہ کریں، اور نہ «مقابلة» کی، نہ «مدابرة» کی، نہ «خرقاء» کی اور نہ «شرقاء» کی۔ زہیر کہتے ہیں: میں نے ابواسحاق سے پوچھا: کیا «عضباء» کا بھی ذکر کیا؟ تو انہوں نے کہا: نہیں («عضباء» اس بکری کو کہتے ہیں جس کے کان کٹے ہوں اور سینگ ٹوٹے ہوں)۔ میں نے پوچھا «مقابلة» کے کیا معنی ہیں؟ کہا: جس کا کان اگلی طرف سے کٹا ہو، پھر میں نے کہا: «مدابرة» کے۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابي داود/كتاب الضحايا /حدیث: 2804]
فوائد ومسائل:
اس حدیث سے واضح ہے کہ قربانی کے جانور کے کان اور آنکھ وغیرہ کوبغور دیکھ لینا چاہیے۔

درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2804 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 3143 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´کن جانوروں کی قربانی مکروہ ہے؟`
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ (قربانی کے جانور) کی آنکھ اور کان غور سے دیکھ لیں (آیا وہ سلامت ہیں یا نہیں)۔ [سنن ابن ماجه/كِتَابُ الْأَضَاحِي/حدیث: 3143]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جانور کے کان سلامت ہونے چاہییں۔

(2)
آنکھیں دیکھ لینے کا مقصد یہ ہے کہ جانور کی دونوں آنکھیں سلامت ہوں۔
جس کو ایک آنکھ سے نظر نہ آتا ہو اس کی قربانی درست نہیں۔

(3)
قربانی کا اصل مقصد اللہ کے لیے اچھی چیز قربان کرنا ہےاس لیے بے عیب جانور ذبح کرنا چاہیے۔
گوشت کھانا ایک اضافی فائدہ ہےاصل مقصد نہیں۔
ورنہ آنکھ یا کان کا عیب گوشت کھانے کے مقصد میں رکاوٹ نہیں بنتا۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3143 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 4377 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´سامنے سے کان کٹے ہوئے جانور کی قربانی منع ہے۔`
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ ہم (جانوروں کے) آنکھ اور کان دیکھ لیں اور کسی ایسے جانور کی قربانی نہ کریں جس کا کان سامنے سے کٹا ہو، یا جس کا کان پیچھے سے کٹا ہو، اور نہ دم کٹے جانور کی، اور نہ ایسے جانور کی جس کے کان میں سوراخ ہوں۔ [سنن نسائي/كتاب الضحايا/حدیث: 4377]
اردو حاشہ: جانور کی خوبصورتی اس کے کان آنکھ ہی سے ہوتی ہے، اس لیے آپ نے ان میں ہلکا سا عیب بھی قبول نہیں فرمایا، خصوصاً اس لیے بھی کہ مشرکین بتوں کے نام پر جانوروں کے کان کچھ حد تک کاٹ دیتے تھے۔ چونکہ کن کٹنے جانور کے بارے میں یہ شبہ قائم ہے کہ شاید وہ کسی بت کے لیے نامزد ہو، لہٰذا اس قسم کے ہر جانور کو قربانی میں ممنوع قرار دے دیا گیا ہے۔ دم بھی جانور کی خوبصورت میں اصل ہے، لہٰذا دم کٹا جانور بھی ممنوع ہے۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 4377 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 4381 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´پھٹے کان والے جانور کی قربانی منع ہے۔`
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں آنکھ اور کان دیکھ لینے کا حکم دیا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الضحايا/حدیث: 4381]
اردو حاشہ: غور سے دیکھیں بعض حضرات نے معنیٰ کیے ہیں کہ ہم بہترین کانوں اور آنکھوں والا پسند کریں۔ مفہوم اس کا بھی یہی ہے کہ آنکھوں اور کانوں میں کسی قسم کا، معمولی سا بھی کوئی عیب گوارا نہیں۔ مزید برآں یہ بھی کہ آنکھ اور کان وہی خوبصورت اور بہترین ہوں گے جو نقص اور عیب سے پاک ہوں، عیب والی آنکھ کان تو بہترین نہیں ہوسکتے۔ واللہ أعلم
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 4381 سے ماخوذ ہے۔