حدیث کتب › بلوغ المرام ›
حدیث نمبر: 1164
وعن جابر رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: « لا تذبحوا إلا مسنة إلا أن يعسر عليكم فتذبحوا جذعة من الضأن » رواه مسلم.ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی
´سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’ نہ ذبح کرو مگر دو دانتا ( دوندا ) لیکن مشکل اور دشواری پیش آ جائے تو عمدہ دنبہ جو چھ ماہ کا ہو ذبح کرو ۔ “ ( مسلم )
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ صفی الرحمن مبارکپوری
´(احکام) قربانی کا بیان`
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’ نہ ذبح کرو مگر دو دانتا (دوندا) لیکن مشکل اور دشواری پیش آ جائے تو عمدہ دنبہ جو چھ ماہ کا ہو ذبح کرو۔ “ (مسلم) «بلوغ المرام/حدیث: 1164»
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’ نہ ذبح کرو مگر دو دانتا (دوندا) لیکن مشکل اور دشواری پیش آ جائے تو عمدہ دنبہ جو چھ ماہ کا ہو ذبح کرو۔ “ (مسلم) «بلوغ المرام/حدیث: 1164»
تخریج:
«أخرجه مسلم، الأضاحي، باب سن الأضحية، حديث:1963.»
تشریح: اس حدیث میں صراحت ہے کہ قربانی کے لیے بھیڑ کا جذعہ تب جائز ہے جب دو دانتا جانور میسر نہ ہو۔
لیکن جمہور کی رائے یہ ہے کہ بھیڑ کے جذعے کی قربانی بہرصورت جائز ہے‘ دو دانتا ملے یا نہ ملے۔
اور انھوں نے اس حدیث کو استحباب اور افضلیت پر محمول کیا ہے جیسا کہ امام نووی رحمہ اللہ کی رائے ہے۔
اور دلائل کی رو سے یہی موقف اقرب الی الصواب معلوم ہوتا ہے۔
گویا اس حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ تمھارے لیے مستحب اور افضل یہ ہے کہ دو دانتا ہی ذبح کرو۔
اگر تم عاجز ہو اور تمھارے بس میں نہ ہو تو پھر بھیڑ کی جنس‘ یعنی دنبے اور چھترے کا جذعہ ذبح کر لو۔
رہا بھیڑ کے سوا کسی اور جنس کا جذعہ!تو وہ کسی صورت میں قربانی کے لیے کفایت نہیں کر سکتا۔
مزید تفصیل کے لیے دیکھیے: (سنن ابن ماجہ، اردو‘ طبع دارالسلام‘ حدیث: ۳۱۴۰‘ ۳۱۴۱ کے فوائد و مسائل)
«أخرجه مسلم، الأضاحي، باب سن الأضحية، حديث:1963.»
تشریح: اس حدیث میں صراحت ہے کہ قربانی کے لیے بھیڑ کا جذعہ تب جائز ہے جب دو دانتا جانور میسر نہ ہو۔
لیکن جمہور کی رائے یہ ہے کہ بھیڑ کے جذعے کی قربانی بہرصورت جائز ہے‘ دو دانتا ملے یا نہ ملے۔
اور انھوں نے اس حدیث کو استحباب اور افضلیت پر محمول کیا ہے جیسا کہ امام نووی رحمہ اللہ کی رائے ہے۔
اور دلائل کی رو سے یہی موقف اقرب الی الصواب معلوم ہوتا ہے۔
گویا اس حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ تمھارے لیے مستحب اور افضل یہ ہے کہ دو دانتا ہی ذبح کرو۔
اگر تم عاجز ہو اور تمھارے بس میں نہ ہو تو پھر بھیڑ کی جنس‘ یعنی دنبے اور چھترے کا جذعہ ذبح کر لو۔
رہا بھیڑ کے سوا کسی اور جنس کا جذعہ!تو وہ کسی صورت میں قربانی کے لیے کفایت نہیں کر سکتا۔
مزید تفصیل کے لیے دیکھیے: (سنن ابن ماجہ، اردو‘ طبع دارالسلام‘ حدیث: ۳۱۴۰‘ ۳۱۴۱ کے فوائد و مسائل)
درج بالا اقتباس بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 1164 سے ماخوذ ہے۔