حدیث نمبر: 116
وعن جابر رضي الله عنه في الرجل الذي شج فاغتسل فمات: « إنما كان يكفيه أن يتيمم ويعصب على جرحه خرقة ثم يمسح عليها ويغسل سائر جسده ». رواه أبو داود بسند ضعيف وفيه اختلاف على روايه.
ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی

´سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے` اس شخص کے بارے میں جس کے سر پر زخم آیا تھا اور اسی حالت میں اس نے غسل کر لیا اور وفات پا گیا ، کہ اسے تو تیمم کر لینا ہی کافی تھا ۔ اپنے زخم پر پٹی باندھ کر مسح کرتا اور باقی بدن کو دھو لیتا ۔
اس روایت کو ضعیف سند کے ساتھ ابوداؤد نے روایت کیا ہے اور اس کے راویوں میں بھی اختلاف ہے ۔

حوالہ حدیث بلوغ المرام / حدیث: 116
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «أخرجه أبوداود، الطهارة، باب المجدور يتيمم، حديث:336- الزبير بن خريق، حديثه ضعيف.»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ابي داود: 336

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ صفی الرحمن مبارکپوری
´زخمی کا تیمم کرنا`
«. . . وعن جابر رضي الله عنه في الرجل الذي شج فاغتسل فمات: ‏‏‏‏إنما كان يكفيه ان يتيمم ويعصب على جرحه خرقة ثم يمسح عليها ويغسل سائر جسده . . .»
. . . سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے اس شخص کے بارے میں جس کے سر پر زخم آیا تھا اور اسی حالت میں اس نے غسل کر لیا اور وفات پا گیا، کہ اسے تو تیمم کر لینا ہی کافی تھا۔ اپنے زخم پر پٹی باندھ کر مسح کرتا اور باقی بدن کو دھو لیتا . . . [بلوغ المرام/كتاب الطهارة: 116]
لغوی تشریح:
«شُجَّ» «اَلشَّجَ» سے ماخوذ ہے اور یہ صیغہ مجہول ہے۔ سر میں جو زخم آئے اسے «شج» کہتے ہیں۔
امام ابوداود رحمہ اللہ نے سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے اس واقعے کو بیان کیا ہے کہ ہم ایک سفر میں نکلے۔ ہم سے ایک آدمی کے سر پر پتھر لگا اور وہ زخمی ہو گیا۔ اسی حالت میں اسے احتلام ہو گیا تو اس نے اپنے ساتھیوں سے دریافت کیا کہ آیا وہ میرے لیے تیمّم کی گنجائش و رخصت رکھتے ہیں؟ انہوں نے کہا کہ جب تمہیں پانی کے استعمال کی طاقت ہے تو ہم تیرے لیے کوئی رخصت نہیں پاتے۔ اپنے ساتھیوں کے کہنے پر اس نے غسل کر لیا اور فوت ہو گیا۔ جب ہم واپس آئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اس کے فوت ہونے کی اطلاع دی۔ (اور سارا واقعہ بیان کیا) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان لوگوں نے اسے قتل کر دیا۔ اللہ کی مار ہو ان پر۔ جب انہیں مسئلے کی نوعیت کا علم نہیں تھا تو انہوں نے دریافت کیوں نہیں کیا۔ بےخبری اور عدم واقفیت کا علاج، سوال کرنا اور دریافت کرنا ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مندرجہ بالا ارشاد فرمایا: اس کے لیے اتنا ہی کافی تھا کہ تیمّم کر لیتا اور اپنے۔۔۔ الخ۔
«يُعَصِّبُ» «تعصيب» سے ماخوذ ہے۔ یعنی پٹی کو مضبوطی سے باندھنا۔ زخمی جگہ پر پٹی وغیرہ باندھنے سے پہلے تیمّم کرنا جنابت کا اثر زائل کرنے کے لیے ہے جیسا کہ موزے پہننے سے پہلے پاؤں دھونا طہارت کے لیے ہوتا ہے تاکہ حالت طہارت میں موزے پہنے جائیں اور پھر ان پر مسح کیا جا سکے۔
«وَفِيهِ اخْتِلَافٌ عَلٰي رَاوِيهِ» اس کے راوی، یعنی عطاء میں اختلاف ہے کہ وہ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں یا سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے۔ ایک نسخے میں «عَلٰي رُوَاتِهِ» بھی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ عطاء جو سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں ان کے نیچے، یعنی عطاء سے نقل کرنے میں ان کے اصحاب و تلامذہ کے متعلق ان کے شاگردوں میں یہ اختلاف ہے۔

فائدہ:
ہمارے فاضل محقق نے مذکورہ مکمل روایت کو ضعیف قرار دیا ہے جبکہ شیخ البانی رحمہ اللہ نے حدیث کے آخری حصے «إِنَّمَا كَانَ يَكْفِيهِ . . . إلخ» کو ضعیف قرار دیا ہے، باقی روایت کو حسن کہا ہے۔ اس کی تائید سنن ابوداود کی روایت [337] سے ہوتی ہے۔
درج بالا اقتباس بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 116 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 336 کی شرح از حافظ ندیم ظہیر ✍️
´زخمی تیمم کر سکتا ہے`
«. . . فَقَالَ:" قَتَلُوهُ قَتَلَهُمُ اللَّهُ، أَلَا سَأَلُوا إِذْ لَمْ يَعْلَمُوا، فَإِنَّمَا شِفَاءُ الْعِيِّ السُّؤَالُ، إِنَّمَا كَانَ يَكْفِيهِ أَنْ يَتَيَمَّمَ وَيَعْصِرَ أَوْ يَعْصِبَ شَكَّ مُوسَى عَلَى جُرْحِهِ خِرْقَةً ثُمَّ يَمْسَحَ عَلَيْهَا وَيَغْسِلَ سَائِرَ جَسَدِهِ . . .»
. . .آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان لوگوں نے اسے مار ڈالا، اللہ ان کو مارے، جب ان کو مسئلہ معلوم نہیں تھا تو انہوں نے کیوں نہیں پوچھ لیا؟ نہ جاننے کا علاج پوچھنا ہی ہے، اسے بس اتنا کافی تھا کہ تیمم کر لیتا اور اپنے زخم پر پٹی باندھ لیتا (یہ شک موسیٰ کو ہوا ہے)، پھر اس پر مسح کر لیتا اور اپنے باقی جسم کو دھو ڈالتا . . . [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ: 336]
فائدہ: الزبیر بن خریق کو جمہور نے ضعیف قرار دیا ہے۔
اس مفہوم کی صحیح حدیث کے لیے دیکھئے حدیث مشکوۃ المصابیح [532] لیکن اس میں یہ اضافہ نہیں ہے کہ اس کے لیے یہی کافی تھا کہ تیمم کر لیتا اور اپنے زخم پر پٹی باندھ لیتا، پھر اس پر مسح کرتا اور (باقی) سارے جسم کو دھو لیتا۔ ان الفاظ کے علاوہ باقی حدیث ثابت ہے۔
جس سے درج ذیل باتیں معلوم ہوتی ہیں: ➊ بغیر علم کے فتویٰ دینا جائز نہیں ہے۔
➋ بغیر علم کے دیئے گئے فتویٰ کا وبال مفتی پر ہے۔
➌ اگر کسی مسئلے کا علم نہ ہو تو اہل علم سے پوچھ لینا چاہئیے، جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے: «فَاسْأَلُوا أَهْلَ الذِّكْرِ إِنْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُونَ» [16-النحل:43]
اگر تم نہیں جانتے تو ذکر والوں (اہل علم) سے پوچھ لو۔
➍ جہالت کے اندھیرے علم کے نور ہی سے چھٹتے ہیں۔
درج بالا اقتباس ماہنامہ الحدیث حضرو ، شمارہ 133، حدیث/صفحہ نمبر: 7 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 336 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´زخمی تیمم کر سکتا ہے۔`
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم ایک سفر میں نکلے، تو ہم میں سے ایک شخص کو ایک پتھر لگا، جس سے اس کا سر پھٹ گیا، پھر اسے احتلام ہو گیا تو اس نے اپنے ساتھیوں سے دریافت کیا: کیا تم لوگ میرے لیے تیمم کی رخصت پاتے ہو؟ ان لوگوں نے کہا: ہم تمہارے لیے تیمم کی رخصت نہیں پاتے، اس لیے کہ تم پانی پر قادر ہو، چنانچہ اس نے غسل کیا تو وہ مر گیا، پھر جب ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ کو اس واقعہ کی خبر دی گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان لوگوں نے اسے مار ڈالا، اللہ ان کو مارے، جب ان کو مسئلہ معلوم نہیں تھا تو انہوں نے کیوں نہیں پوچھ لیا؟ نہ جاننے کا علاج پوچھنا ہی ہے، اسے بس اتنا کافی تھا کہ تیمم کر لیتا اور اپنے زخم پر پٹی باندھ لیتا (یہ شک موسیٰ کو ہوا ہے)، پھر اس پر مسح کر لیتا اور اپنے باقی جسم کو دھو ڈالتا۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة /حدیث: 336]
336۔ اردو حاشیہ:
شیخ البانی رحمہ اللہ کے نزدیک اس کا آخری حصہ اس شخص کے لیے۔۔۔۔۔ سے تا آخر ضعیف ہے، باقی روایت حسن ہے۔ اگلی روایت سے اس کی تائید ہوتی ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 336 سے ماخوذ ہے۔