حدیث کتب › بلوغ المرام ›
حدیث نمبر: 1156
وعن جابر بن عبد الله رضي الله عنهما قال : نهى رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم أن يقتل شيء من الدواب صبرا . رواه مسلم.ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی
´سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ` رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی جانور کو باندھ کر قتل کرنے سے منع فرمایا ہے ۔ ( مسلم )
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ صفی الرحمن مبارکپوری
´شکار اور ذبائح کا بیان`
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی جانور کو باندھ کر قتل کرنے سے منع فرمایا ہے۔ (مسلم) «بلوغ المرام/حدیث: 1156»
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی جانور کو باندھ کر قتل کرنے سے منع فرمایا ہے۔ (مسلم) «بلوغ المرام/حدیث: 1156»
تخریج:
«أخرجه مسلم، الصيد والذبائح، باب النهي عن صبر البهائم، حديث:1959.»
تشریح: باندھ کر قتل کرنے کے معنی یہ ہیں کہ کسی جاندار کو زندہ باندھ کر اسے نشانہ لگا کر مارا جائے کہ وہ جاں بحق ہو جائے۔
جہاں تک باندھ کر ذبح کرنے کا تعلق ہے تو وہ جائز ہے۔
وہ باندھ کر قتل کرنے کے ضمن میں نہیں آتا۔
«أخرجه مسلم، الصيد والذبائح، باب النهي عن صبر البهائم، حديث:1959.»
تشریح: باندھ کر قتل کرنے کے معنی یہ ہیں کہ کسی جاندار کو زندہ باندھ کر اسے نشانہ لگا کر مارا جائے کہ وہ جاں بحق ہو جائے۔
جہاں تک باندھ کر ذبح کرنے کا تعلق ہے تو وہ جائز ہے۔
وہ باندھ کر قتل کرنے کے ضمن میں نہیں آتا۔
درج بالا اقتباس بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 1156 سے ماخوذ ہے۔