حدیث نمبر: 1152
وعن عبد الله بن مغفل المزني رضي الله عنه أن رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم نهى عن الخذف وقال : «إنها لا تصيد صيدا ،‏‏‏‏ ولا تنكأ عدوا ،‏‏‏‏ ولكنها تكسر السن وتفقأ العين » متفق عليه واللفظ لمسلم.
ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی

´سیدنا عبداللہ بن مغفل مزنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کنکریاں ( سنگریزے ) مارنے سے منع فرمایا اور فرمایا کہ ’’ نہ ہی تو یہ شکار کر سکتا ہے اور نہ ہی دشمن کو بھگا کر دور کر سکتا ہے بلکہ یہ کسی کا دانت توڑے گا یا آنکھ پھوڑے گا ۔ “ ( بخاری و مسلم ) اور یہ الفاظ مسلم کے ہیں ۔

حوالہ حدیث بلوغ المرام / حدیث: 1152
درجۂ حدیث محدثین: صحيح

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ صفی الرحمن مبارکپوری
´شکار اور ذبائح کا بیان`
سیدنا عبداللہ بن مغفل مزنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کنکریاں (سنگریزے) مارنے سے منع فرمایا اور فرمایا کہ ’’ نہ ہی تو یہ شکار کر سکتا ہے اور نہ ہی دشمن کو بھگا کر دور کر سکتا ہے بلکہ یہ کسی کا دانت توڑے گا یا آنکھ پھوڑے گا۔ (بخاری و مسلم) اور یہ الفاظ مسلم کے ہیں۔ «بلوغ المرام/حدیث: 1152»
´شکار اور ذبائح کا بیان`
سیدنا عبداللہ بن مغفل مزنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کنکریاں (سنگریزے) مارنے سے منع فرمایا اور فرمایا کہ ’’ نہ ہی تو یہ شکار کر سکتا ہے اور نہ ہی دشمن کو بھگا کر دور کر سکتا ہے بلکہ یہ کسی کا دانت توڑے گا یا آنکھ پھوڑے گا۔ (بخاری و مسلم) اور یہ الفاظ مسلم کے ہیں۔ «بلوغ المرام/حدیث: 1152»
درج بالا اقتباس بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 1152 سے ماخوذ ہے۔