حدیث کتب › بلوغ المرام ›
حدیث نمبر: 1150
وعن أبي ثعلبة رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه وآله وسلم قال : « إذا رميت بسهمك فغاب عنك فأدركته فكله ما لم ينتن » أخرجه مسلم.ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی
´سیدنا ابوثعلبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’ جب تو اپنے تیر سے شکار کرے اور پھر وہ شکار تیری نظروں سے اوجھل ہو جائے ۔ بعد میں پھر تو اسے پالے تو جب تک وہ بدبودار نہ ہو کھا لے ۔ “ ( مسلم )
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ صفی الرحمن مبارکپوری
´شکار اور ذبائح کا بیان`
سیدنا ابوثعلبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’ جب تو اپنے تیر سے شکار کرے اور پھر وہ شکار تیری نظروں سے اوجھل ہو جائے۔ بعد میں پھر تو اسے پالے تو جب تک وہ بدبودار نہ ہو کھا لے۔ “ (مسلم) «بلوغ المرام/حدیث: 1150»
سیدنا ابوثعلبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’ جب تو اپنے تیر سے شکار کرے اور پھر وہ شکار تیری نظروں سے اوجھل ہو جائے۔ بعد میں پھر تو اسے پالے تو جب تک وہ بدبودار نہ ہو کھا لے۔ “ (مسلم) «بلوغ المرام/حدیث: 1150»
تخریج:
«أخرجه مسلم، الصيد والذبائح، باب إذا غاب عنه الصيد ثم وجده، حديث:1931.»
تشریح: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اگر کسی پرندے کا شکار کیا اور وہ زخم کھا کر ایسی جگہ جا گرا کہ شکاری کی نظروں سے اوجھل ہوگیا۔
بعد ازاں مل گیا۔
اگر وہ پانی میں مردہ حالت میں ملا ہو تو پھر حرام ہے‘ اگر زندہ مل جائے تو اسے ذبح کر لیا جائے‘ اور اگر خشکی پر مردہ حالت میں ملا ہو اور اس کے جسم پر تیر کے نشان کے علاوہ اور کوئی نشان نہ ہو تو وہ حلال ہے۔
مگر جب اس میں تعفن اور بدبو پیدا ہو جائے تو وہ حلال نہیں ہے۔
«أخرجه مسلم، الصيد والذبائح، باب إذا غاب عنه الصيد ثم وجده، حديث:1931.»
تشریح: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اگر کسی پرندے کا شکار کیا اور وہ زخم کھا کر ایسی جگہ جا گرا کہ شکاری کی نظروں سے اوجھل ہوگیا۔
بعد ازاں مل گیا۔
اگر وہ پانی میں مردہ حالت میں ملا ہو تو پھر حرام ہے‘ اگر زندہ مل جائے تو اسے ذبح کر لیا جائے‘ اور اگر خشکی پر مردہ حالت میں ملا ہو اور اس کے جسم پر تیر کے نشان کے علاوہ اور کوئی نشان نہ ہو تو وہ حلال ہے۔
مگر جب اس میں تعفن اور بدبو پیدا ہو جائے تو وہ حلال نہیں ہے۔
درج بالا اقتباس بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 1150 سے ماخوذ ہے۔