حدیث نمبر: 1127
وعن أبي هريرة رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه وآله وسلم قال : « لا تبدءوا اليهود والنصارى بالسلام وإذا لقيتم أحدهم في طريق فاضطروه إلى أضيقه » رواه مسلم.
ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی

´سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’ یہود و نصاریٰ کو سلام پہلے نہ کیا کرو اور جب تمہارا ان میں سے کسی سے آمنا سامنا ہو جائے تو اسے راستہ کی تنگ جانب سے جانے پر مجبور کرو ۔ “ ( مسلم )

حوالہ حدیث بلوغ المرام / حدیث: 1127
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم، السلام، باب النهي عن ابتداء أهل الكتاب بالسلام...، حديث:2167.»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ صفی الرحمن مبارکپوری
´جزیہ اور صلح کا بیان`
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’ یہود و نصاریٰ کو سلام پہلے نہ کیا کرو اور جب تمہارا ان میں سے کسی سے آمنا سامنا ہو جائے تو اسے راستہ کی تنگ جانب سے جانے پر مجبور کرو۔ " (مسلم) «بلوغ المرام/حدیث: 1127»
تخریج:
«أخرجه مسلم، السلام، باب النهي عن ابتداء أهل الكتاب بالسلام...، حديث:2167.»
تشریح: 1. اس حدیث کی رو سے مسلمان کا یہود و نصاریٰ اور مجوس وغیرہ کو پہلے سلام کرنا منع اور حرام ہے۔
جمہور سلف کی رائے یہی ہے مگر کچھ لوگ جن میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما بھی شامل ہیں‘ کہتے ہیں کہ اہل کتاب کو پہلے سلام کرنا جائز ہے، لیکن یہ موقف درست نہیں۔
2.یہود و نصاریٰ سے راستے میں ملاقات ہو جائے تو ان کے لیے راستہ بھی نہیں چھوڑنا چاہیے۔
3. اس سے انھیں یہ احساس دلانا مقصود ہے کہ وہ چھوٹے لوگ ہیں اور چھوٹے ہی بن کر رہیں۔
اس سے یہ مطلب نہیں نکالنا چاہیے کہ اسلام انسان‘ انسان کے مابین امتیاز پیدا کرتا ہے۔
یہ تو اصول کی بات ہے کہ جو لوگ دین فطرت کو قبول کرنے سے انکاری ہیں ان کا مقام و مرتبہ بہرحال وہ نہیں ہو سکتا جو ماننے والوں کا ہے‘ نیز دراصل حقیقی انسان وہی ہے جو اپنے خالق و مالک کا مطیع و فرمانبردار اور اس کے بھیجے ہوئے دین‘ یعنی اسلام کو ماننے والا ہو ورنہ وہ شکل وصورت میں تو آدم کی اولاد ہی سے ہے مگر باطنی طور پر چوپایوں سے بھی بدتر ہے۔
درج بالا اقتباس بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 1127 سے ماخوذ ہے۔