حدیث نمبر: 1122
وعن أبي هريرة رضي الله عنه أن رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم قال : « أيما قرية أتيتموها فأقمتم فيها فسهمكم فيها وأيما قرية عصت الله ورسوله فإن خمسها لله ورسوله ثم هي لكم » رواه مسلم.
ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی

´سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ’’ تم جس بستی میں بھی آؤ اور اس میں قیام رکھو تو اس میں تمہارا حصہ ہے اور جو بستی اللہ اور اس کے رسول کی نافرمان ہو تو اس کا خمس اللہ اور اس کے رسول کا ہے پھر وہ بھی تمہیں میں تقسیم ہو گا ۔ “ ( مسلم )

حوالہ حدیث بلوغ المرام / حدیث: 1122
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم، الجهاد والسير، باب حكم الفيء، حديث:1756.»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ صفی الرحمن مبارکپوری
´(جہاد کے متعلق احادیث)`
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ’’ تم جس بستی میں بھی آؤ اور اس میں قیام رکھو تو اس میں تمہارا حصہ ہے اور جو بستی اللہ اور اس کے رسول کی نافرمان ہو تو اس کا خمس اللہ اور اس کے رسول کا ہے پھر وہ بھی تمہیں میں تقسیم ہو گا۔ (مسلم) «بلوغ المرام/حدیث: 1122»
تخریج:
«أخرجه مسلم، الجهاد والسير، باب حكم الفيء، حديث:1756.»
تشریح: 1. اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اموال فے میں سے خمس نہیں نکالا جاتا‘ جو لوگ اس کے قائل ہیں یہ حدیث ان کے نظریے کی تردید کرتی ہے۔
2.ابن منذر کا قول ہے کہ ہمیں معلوم نہیں کہ امام شافعی رحمہ اللہ سے پہلے کوئی مال فے میں خمس کا قائل ہوا ہو۔
3. اس حدیث میں پہلے جس بستی کا ذکر ہے اس سے مراد وہ بستی ہے جہاں لڑائی نہ ہوئی ہو۔
اس میں مجاہدین کا حصہ دوسرے عام مسلمانوں کے مساوی ہے۔
اور بعد میں جس بستی کا ذکر ہواہے اس سے مراد وہ بستی ہے جہاں لڑائی ہوئی ہو۔
اس میں پانچواں حصہ نکال کر باقی مجاہدین میں تقسیم کر دیا جائے گا۔
درج بالا اقتباس بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 1122 سے ماخوذ ہے۔