حدیث نمبر: 1121
وعن أبي رافع رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم : « إني لا أخيس بالعهد ولا أحبس الرسل » رواه أبو داود والنسائي وصححه ابن حبان.
ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی

´سیدنا ابورافع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’ بیشک میں نہ تو عہد شکنی کرتا اور نہ قاصدوں و سفیروں کو قید کرتا ہوں ۔ “ اسے ابوداؤد اور نسائی نے روایت کیا ہے اور ابن حبان نے اسے صحیح قرار دیا ہے ۔

حوالہ حدیث بلوغ المرام / حدیث: 1121
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «أخرجه أبوداود، الجهاد، باب في الإمام يستجن به في العهود، حديث:2758، وابن حبان (الإحسان):7 /191، حديث:4857.»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ابي داود: 2758

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ صفی الرحمن مبارکپوری
´(جہاد کے متعلق احادیث)`
سیدنا ابورافع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’ بیشک میں نہ تو عہد شکنی کرتا اور نہ قاصدوں و سفیروں کو قید کرتا ہوں۔ اسے ابوداؤد اور نسائی نے روایت کیا ہے اور ابن حبان نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔ «بلوغ المرام/حدیث: 1121»
تخریج:
«أخرجه أبوداود، الجهاد، باب في الإمام يستجن به في العهود، حديث:2758، وابن حبان (الإحسان):7 /191، حديث:4857.»
تشریح: 1. عہد شکنی اور غداری کرنا اسلام کی رو سے درست نہیں ہے۔
2. دراصل واقعہ یوں ہے کہ ابورافع اسلام قبول کرنے سے پہلے کافروں کی جانب سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سفیر کی حیثیت سے آئے۔
آپ کا روئے انور اور رخ منور دیکھتے ہی وہ دائرۂ اسلام میں داخل ہونے کی سعادت سے بہرہ ور ہوگئے‘ پھر عرض کیا: اے اللہ کے رسول! اب میرا دل واپس جانے کے لیے تیار نہیں ہے‘ لہٰذا آپ مجھے یہیں روک لیں۔
تو اس موقع پر آپ نے فرمایا: ’’میں عہدشکنی اور غداری نہیں کرتا اور نہ سفیروں کو اپنے پاس روکتا ہوں۔
‘‘ 3. اس سے معلوم ہوا کہ سفیروں کو بخیر و عافیت واپس بھیجنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔
اگر وہ خود رہنے کی درخواست کریں‘ تب بھی انھیں واپس بھیج دینا چاہیے کیونکہ سفیر یا قاصد جس کے پاس آتا ہے گویا اس کی امان میں آتا ہے۔
4.اسلام نے سفیر کے احترام کا درس دیا ہے‘ خواہ کافر ہو یا مسلمان۔
درج بالا اقتباس بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 1121 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 2758 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´عہد و پیمان میں امام رعایا کے لیے ڈھال ہے اس لیے امام جو عہد کرے اس کی پابندی لوگوں پر ضروری ہے۔`
ابورافع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ قریش نے مجھے (صلح حدیبیہ میں) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیجا، جب میں نے آپ کو دیکھا تو میرے دل میں اسلام کی محبت پیدا ہو گئی، میں نے کہا: اللہ کے رسول! اللہ کی قسم! میں ان کی طرف کبھی لوٹ کر نہیں جاؤں گا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نہ تو بدعہدی کرتا ہوں اور نہ ہی قاصدوں کو گرفتار کرتا ہوں، تم واپس جاؤ، اگر تمہارے دل میں وہی چیز رہی جو اب ہے تو آ جانا ، ابورافع کہتے ہیں: میں قریش کے پاس لوٹ آیا، پھر دوبارہ رسول الل۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2758]
فوائد ومسائل:
امام ابو دائود کے قول کا مطلب یہ ہے کہ حضرت ابورافع کا یہ واقعہ اس وقت کا ہے، جب کافروں سے مسلمانوں کا یہ معاہدہ طے ہوا تھا کہ کافروں کے پاس سے آنے والے شخص کو واپس لوٹا دیا جائے گا۔
چاہے وہ مسلمان ہی ہو۔
اسی معاہدے کی وجہ سے نبی کریمﷺ نے حضرت ابو رافع کو لوٹایا۔
اب اس طرح کرنے کی ضرورت نہیں۔
الا یہ کہ اب بھی کسی جگہ اس قسم کا معاہدہ مسلمانوں اور کافروں کے درمیان ہوجائے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2758 سے ماخوذ ہے۔