حدیث کتب › بلوغ المرام ›
حدیث نمبر: 1115
وعن عبد الله بن أبي أوفى رضي الله عنهما قال : أصبنا طعاما يوم خيبر فكان الرجل يجيء فيأخذ منه مقدار ما يكفيه ثم ينصرف . أخرجه أبو داود وصححه ابن الجارود والحاكم.ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی
´سیدنا عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` خیبر کے روز ہمیں کھانے کی اشیاء ہاتھ آئیں تو ہر آدمی آتا اور اس میں سے اپنی ضرورت کے مطابق کھانے کے لیے حاصل کر لیتا تھا پھر واپس چلا جاتا ۔ اسے ابوداؤد نے نقل کیا ہے ابن جارود اور حاکم نے اسے صحیح قرار دیا ہے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ صفی الرحمن مبارکپوری
´(جہاد کے متعلق احادیث)`
سیدنا عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ خیبر کے روز ہمیں کھانے کی اشیاء ہاتھ آئیں تو ہر آدمی آتا اور اس میں سے اپنی ضرورت کے مطابق کھانے کے لیے حاصل کر لیتا تھا پھر واپس چلا جاتا۔ اسے ابوداؤد نے نقل کیا ہے ابن جارود اور حاکم نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔ «بلوغ المرام/حدیث: 1115»
سیدنا عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ خیبر کے روز ہمیں کھانے کی اشیاء ہاتھ آئیں تو ہر آدمی آتا اور اس میں سے اپنی ضرورت کے مطابق کھانے کے لیے حاصل کر لیتا تھا پھر واپس چلا جاتا۔ اسے ابوداؤد نے نقل کیا ہے ابن جارود اور حاکم نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔ «بلوغ المرام/حدیث: 1115»
تخریج:
«أخرجه أبوداود، الجهاد، باب في النهي عن النهبي إذا كان في الطعام قلة...، حديث:2704، وابن الجارود، حديث:1072، والحاكم:2 /126 صححه علي شرط البخاري، ووافقه الذهبي.»
تشریح: اس سے بھی معلوم ہوا کہ خور و نوش کی چیزیں کھانے پینے کی حد تک ہر مجاہد تقسیم سے پہلے لے سکتا ہے‘ اس پر اس سے کوئی باز پرس نہیں ہوگی۔
«أخرجه أبوداود، الجهاد، باب في النهي عن النهبي إذا كان في الطعام قلة...، حديث:2704، وابن الجارود، حديث:1072، والحاكم:2 /126 صححه علي شرط البخاري، ووافقه الذهبي.»
تشریح: اس سے بھی معلوم ہوا کہ خور و نوش کی چیزیں کھانے پینے کی حد تک ہر مجاہد تقسیم سے پہلے لے سکتا ہے‘ اس پر اس سے کوئی باز پرس نہیں ہوگی۔
درج بالا اقتباس بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 1115 سے ماخوذ ہے۔