حدیث نمبر: 1114
وعنه رضي الله عنه قال : كنا نصيب في مغازينا العسل والعنب فنأكله ولا نرفعه . رواه البخاري ولأبي داود: " فلم يؤخذ منهم الخمس ". وصححه ابن حبان.
ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی

´سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما ہی سے روایت ہے کہ` ہمیں غزوات میں شہد ، انگور ہاتھ آتے تو ان کو کھا پی لیتے اٹھا کر نہیں لے جاتے تھے ۔ ( بخاری ) اور ابوداؤد کی روایت میں ہے کہ ان کھانے والے حضرات سے خمس وصول نہیں کیا جاتا تھا اور ابن حبان نے اسے صحیح کہا ہے ۔

حوالہ حدیث بلوغ المرام / حدیث: 1114
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري، فرض الخمس، باب ما يصيب من الطعام في أرض الحرب، 3154، وأبوداود، الجهاد، حديث:2701، وابن حبان (الموارد)، حديث:1670، وهو حديث صحيح.»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ابي داود: 2701

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ صفی الرحمن مبارکپوری
´(جہاد کے متعلق احادیث)`
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما ہی سے روایت ہے کہ ہمیں غزوات میں شہد، انگور ہاتھ آتے تو ان کو کھا پی لیتے اٹھا کر نہیں لے جاتے تھے۔ (بخاری) اور ابوداؤد کی روایت میں ہے کہ ان کھانے والے حضرات سے خمس وصول نہیں کیا جاتا تھا اور ابن حبان نے اسے صحیح کہا ہے۔ «بلوغ المرام/حدیث: 1114»
تخریج:
«أخرجه البخاري، فرض الخمس، باب ما يصيب من الطعام في أرض الحرب، 3154، وأبوداود، الجهاد، حديث:2701، وابن حبان (الموارد)، حديث:1670، وهو حديث صحيح.»
تشریح: 1. اس حدیث سے یہ معلوم ہوا کہ دوران جنگ میں مجاہدوں کے ہاتھ کھانے پینے کی اگر کچھ چیزیں آجائیں تو انھیں وہیں کھا پی سکتے ہیں‘ مال غنیمت میں جمع کروانے کی ضرورت نہیں‘ البتہ ذخیرہ اندوزی کے لیے اٹھا کر لے جانا درست نہیں ہے۔
2.خور و نوش کے علاوہ اگر دشمن کے جانور اور ہتھیار قبضے میں آجائیں تو انھیں جنگ کے لیے استعمال کر سکتے ہیں مگر جنگ کے اختتام پر مال غنیمت میں واپس جمع کرانا واجب ہے۔
درج بالا اقتباس بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 1114 سے ماخوذ ہے۔