حدیث نمبر: 1113
وعن ابن عمر رضي الله عنهما قال:كان رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم ينفل بعض من يبعث من سرايا لأنفسهم خاصة سوى قسمة عامة الجيش.متفق عليه.
ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی

´سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بعض فوجی دستوں کو بالخصوص غنیمت کے حصہ کے علاوہ کچھ مزید دیا کرتے تھے ۔ یہ عام فوجی کی تقسیم میں شامل نہیں ہوتا تھا ۔ ( بخاری و مسلم )

حوالہ حدیث بلوغ المرام / حدیث: 1113
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري، فرض الخمس، باب ومن الدليل علي أن الخمس لنوائب المسلمين، حديث:3135، ومسلم، الجهاد والسير، باب الأنفال، حديث:1750 /40.»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ صفی الرحمن مبارکپوری
´(جہاد کے متعلق احادیث)`
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بعض فوجی دستوں کو بالخصوص غنیمت کے حصہ کے علاوہ کچھ مزید دیا کرتے تھے۔ یہ عام فوجی کی تقسیم میں شامل نہیں ہوتا تھا۔ (بخاری و مسلم) «بلوغ المرام/حدیث: 1113»
تخریج:
«أخرجه البخاري، فرض الخمس، باب ومن الدليل علي أن الخمس لنوائب المسلمين، حديث:3135، ومسلم، الجهاد والسير، باب الأنفال، حديث:1750 /40.»
تشریح: 1. اس حدیث سے معلوم ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر مجاہد کو یہ نفلی حصہ عنایت نہیں فرمایا کرتے تھے بلکہ صرف مخصوص مجاہدین کو کسی خاص مصلحت کی وجہ سے دینا مناسب خیال فرماتے‘ پھر جنھیں یہ حصہ دیتے انھیں بھی مساوی طور پر نہ دیتے بلکہ خدمت اور مصلحت کے لحاظ سے کم و بیش دیتے تھے۔
2.اس سے معلوم ہوا کہ آج بھی خاص خدمات انجام دینے والے مجاہدین کو سربراہ مملکت یا امیر لشکر خصوصی انعامات دے سکتا ہے‘ مثلاً: مختلف قدر و قیمت کے تمغے‘ نشانات‘ نقد انعام وغیرہ۔
3. اس سے مجاہدین اور غازیانِ اسلام کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے۔
درج بالا اقتباس بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 1113 سے ماخوذ ہے۔