حدیث نمبر: 1111
وعن معن بن يزيد رضي الله عنه قال : سمعت رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم يقول : « لا نفل إلا بعد الخمس » رواه أحمد وأبو داود وصححه الطحاوي.
ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی

´سیدنا معن بن یزید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ` میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے ’’ حصہ سے اضافی طور پر جو کچھ دیا جائے گا وہ پانچواں حصہ نکال کر دیا جائے ۔ ‘‘ اسے احمد اور ابوداؤد نے روایت کیا ہے اور طحاوی نے اسے صحیح قرار دیا ہے ۔

حوالہ حدیث بلوغ المرام / حدیث: 1111
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «أخرجه أبوداود، الجهاد، باب في النفل من الذهب والفضة ومن أول مغنم، حديث:2753، وأحمد:3 /470.»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ابي داود: 2753

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ صفی الرحمن مبارکپوری
´(جہاد کے متعلق احادیث)`
سیدنا معن بن یزید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے ’’ حصہ سے اضافی طور پر جو کچھ دیا جائے گا وہ پانچواں حصہ نکال کر دیا جائے۔ ‘‘ اسے احمد اور ابوداؤد نے روایت کیا ہے اور طحاوی نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔ «بلوغ المرام/حدیث: 1111»
تخریج:
«أخرجه أبوداود، الجهاد، باب في النفل من الذهب والفضة ومن أول مغنم، حديث:2753، وأحمد:3 /470.»
تشریح: 1. یہاں دو مسئلے قابل غور ہیں: پہلا یہ کہ یہ اضافی اور زائد حصہ اصل مال غنیمت میں سے دیا جائے گا یا خمس میں سے؟ اس حدیث میں ان دونوں باتوں میں سے کسی کی صراحت نہیں بلکہ زیادہ سے زیادہ یہ معلوم ہوتا ہے کہ نفل (زائد حصہ) دینے سے پہلے غنیمت کو پانچ حصوں میں تقسیم کیا جائے گا۔
جبکہ صحیح احادیث سے ثابت ہے کہ نفل خواہ اصل غنیمت سے دیا جائے یا خمس سے‘ دونوں طرح جائز ہے۔
دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ کیا نفل، خمس سے پہلے دینا جائز ہے یا نہیں؟ اس حدیث کے ظاہر سے تو یہی معلوم ہوتا ہے کہ اس کا کوئی جواز نہیں لیکن حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی سابقہ حدیث (۱۱۰۹) کے ایک دوسرے طریق سے ثابت الفاظ اس کے جواز پر دلالت کرتے ہیں۔
2. اس روایت میں یہ صراحت ہے کہ نجد کی جانب بھیجے جانے والے مجاہدین کو خمس نکالنے سے پہلے نفل دیا گیا تھا۔
ملاحظہ ہو: (سنن أبي داود مع شرح عون المعبود:۳ /۲۲) لہٰذا اس حدیث میں موجود نہی کا ظاہری مفہوم مراد نہیں بلکہ نہی تنزیہی ہے۔
راویٔ حدیث:
«حضرت معن بن یزید رضی اللہ عنہما» معن بن یزید بن اخنس سلمی۔
خود بھی صحابی اور باپ بھی صحابی ہیں۔
فتح دمشق میں یہ بھی حاضر تھے۔
کوفہ میں رہائش اختیار کی‘ پھر مصر میں آئے‘ بعد میں پھر دمشق میں منتقل ہو گئے۔
مرج راہط کی جنگ میں ضحاک بن قیس کے ساتھ ۶۴ ہجری میں شامل ہوئے اور شہید ہو گئے۔
کہا جاتا ہے کہ یہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ ان کی لڑائیوں میں شریک رہے۔
درج بالا اقتباس بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 1111 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 2753 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´سونے، چاندی اور مال غنیمت سے نفل (انعام) دینے کا بیان۔`
ابو جویریہ جرمی کہتے ہیں کہ معاویہ رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں روم کی سر زمین میں مجھے ایک سرخ رنگ کا گھڑا ملا جس میں دینار تھے ۱؎، اس وقت قبیلہ بنو سلیم کے ایک شخص جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے تھے، ہمارے اوپر حاکم تھے، ان کو معن بن یزید کہا جاتا تھا، میں اسے ان کے پاس لایا، انہوں نے ان دیناروں کو مسلمانوں میں بانٹ دیا اور مجھ کو اس میں سے اتنا ہی دیا جتنا ہر شخص کو دیا، پھر کہا: اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ کہتے سنا نہ ہوتا کہ نفل خمس ۲؎ نکالنے کے بعد ہی ہے تو میں تمہیں اوروں سے زیادہ دیتا۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2753]
فوائد ومسائل:

چونکہ یہ مال دارالحرب سے بغیر کسی آویزش کے حاصل ہوا تھا اور ایسے مال میں خمس ہوتا ہے نہ نفل۔
کیونکہ خمس اور نفل (اضافی انعام) دونوں ہی قتال سے حاصل ہونے والے مال میں ہوتے ہیں۔
اور یہ گھڑا ویسے ہی ملا تھا۔
اس لئے اس میں سبھی مجاہدین کو برابر کے حصے دیئے۔


اس میں مسئلۃ الباب کا اثبات تو میں تمھیں بھی دیتا سے ہوتا ہے۔
یعنی ان دیناروں میں سے تجھے نفل دیتا۔
اور دینار سونے کا ہوتا تھا۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2753 سے ماخوذ ہے۔