حدیث نمبر: 1109
وعن ابن عمر رضي الله عنهما قال : بعث رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم سرية وأنا فيهم قبل نجد فغنموا إبلا كثيرة فكانت سهمانهم اثني عشر بعيرا ونفلوا بعيرا بعيرا . متفق عليه.
ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی

´سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نجد کی طرف ایک سریہ روانہ فرمایا ، میں بھی اس میں موجود تھا بہت سے اونٹ مال غنیمت میں حاصل ہوئے ، ان میں سے ہر ایک کے حصے میں سے بارہ بارہ اونٹ مال غنیمت کے طور پر آئے اور پھر انہیں ایک ایک اونٹ زائد دیا گیا ( بخاری و مسلم )

حوالہ حدیث بلوغ المرام / حدیث: 1109
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري، فرض الخمس، باب ومن الدليل علي أن الخمس لنوائب المسلمين...، حديث:3134، ومسلم، الجهاد والسير، باب الأنفال، حديث:1749.»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ صفی الرحمن مبارکپوری
´(جہاد کے متعلق احادیث)`
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نجد کی طرف ایک سریہ روانہ فرمایا، میں بھی اس میں موجود تھا بہت سے اونٹ مال غنیمت میں حاصل ہوئے، ان میں سے ہر ایک کے حصے میں سے بارہ بارہ اونٹ مال غنیمت کے طور پر آئے اور پھر انہیں ایک ایک اونٹ زائد دیا گیا (بخاری و مسلم) «بلوغ المرام/حدیث: 1109»
تخریج:
«أخرجه البخاري، فرض الخمس، باب ومن الدليل علي أن الخمس لنوائب المسلمين...، حديث:3134، ومسلم، الجهاد والسير، باب الأنفال، حديث:1749.»
تشریح: اس حدیث سے ثابت ہوا کہ غازی کو مال غنیمت میں سے مقرر حصے کے علاوہ زائد مال بھی دیا جا سکتا ہے‘ البتہ اس میں اختلاف ہے کہ یہ زائد حصہ ‘ اصل مال غنیمت میں سے ہوگا یا خمس میں سے یا خُمُسُ الْخُمْس میں سے۔
صحیح بات یہی معلوم ہوتی ہے کہ یہ سب صورتیں جائز ہیں۔
درج بالا اقتباس بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 1109 سے ماخوذ ہے۔